تازہ ترین
ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل
کوپن ہیگن، ڈنمارک کی ایک عدالت نے کوپن ہیگن میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب دستی بم سے دھماکہ کرنے کے الزام میں دو سویڈش شہریوں کو بالترتیب 12 اور 14 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
اکتوبر 2025 میں، ڈنمارک کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے دو سویڈش شہریوں پر اکتوبر 2024 میں کوپن ہیگن میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب ایک دستی بم سے دھماکہ کرکے دہشت گردانہ حملہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
استغاثہ نے بتایا کہ 18 اور 20 سال کی عمر کے نوجوانوں نے نامعلوم ساتھیوں کی مدد سے پہلے سے منصوبہ بندی کی اور سفارت خانے کے احاطے میں پانچ دستی بم لائے۔ ان میں سے دو کو سفارتی مشن کی عمارت پر پھینکا تاہم وہ قریبی رہائشی عمارت میں جا گرے۔
ان نوجوانوں پر سفارتی مشن کے سکیورٹی گارڈز کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے اور قتل کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا، کیونکہ دھماکے سے قریبی گھر کے رہائشی متاثر ہوسکتے تھے۔
اکتوبر 2024 کے اوائل میں، اسٹاک ہوم اور کوپن ہیگن میں اسرائیلی سفارت خانوں کے قریب فائرنگ اور دھماکے ہوئے۔ اسٹاک ہوم پولیس اور ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے نے بتایا کہ سفارت خانے کا کوئی عملہ زخمی نہیں ہوا۔
کوپن ہیگن میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان کی شناخت 15 سے 20 سال کے سویڈش شہریوں کے طور پر کی گئی۔ کوپن ہیگن پولیس نے بتایا کہ سفارت خانے کے قریب دو دستی بموں کی وجہ سے دھماکے ہوئے تھے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے میلاد النبی پر ملک کو مبارکباد دی، زیادہ ہم آہنگی کی امید ظاہر کی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو میلاد النبی کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تہوار معاشرے میں اتحاد کو فروغ دے گا اور ہر طرف خوشیاں پھیلائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’’عید مبارک! میلاد النبی پر مبارکباد۔ مجھے امید ہے کہ یہ موقع ہمارے اردگرد اتحاد اور خوشیوں کو مزید فروغ دے گا۔‘‘
مسٹر مودی نے مزید کہا کہ ’’نیکی اور معاشرے کو واپس دینے کا جذبہ ہمیشہ ہماری رہنمائی کرے۔‘‘
میلاد النبی، جسے عید میلاد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی ولادت کی یاد میں منایا جاتا ہے اور مسلمان اسے نماز، مذہبی اجتماعات، خیراتی سرگرمیوں اور خدمت کے کاموں کے ذریعے مناتے ہیں۔
یہ موقع رحم، امن، بھائی چارے اور انسانیت کی خدمت کی اقدار سے وابستہ ہے۔ مسٹر مودی کے پیغام میں نیکی اور معاشرے میں اپنا تعاون دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جبکہ امید ظاہر کی گئی کہ یہ تقریبات لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اور خوشی کو مزید مضبوط کریں گی۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیوں کے منصوبے پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی
نیویارک، امریکی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے کے مقصد سے جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے بعض حصوں پر عمل درآمد شروع کر سکتے ہیں، تاہم مزید قانونی چیلنجز نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس منصوبے کے نفاذ میں تاخیر یا اسے روک سکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے کو محدود قرار دیا ہے، تاہم اس حکم سے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے قوانین کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ فیصلے سے یہ امکان برقرار ہے کہ ٹرمپ مارچ میں جاری کیے گئے اپنے حکم میں شامل اقدامات کو بالآخر نافذ کر سکتے ہیں۔ اس حکم میں امریکی پوسٹل سروس اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو انتخابات کے انتظام میں غیر معمولی اختیارات دینے کی کوشش کی گئی تھی، سی این این نے رپورٹ کیا۔
سپریم کورٹ نے 10 صفحات پر مشتمل غیر دستخط شدہ حکم میں، عدالت کے تین لبرل ججوں کے اختلافی موقف کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ کو ایک تجویز پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ اس تجویز کے تحت ہوم لینڈ سکیورٹی محکمہ ان ریاستوں کے لیے ووٹ ڈالنے کے اہل سمجھے جانے والے افراد کی الگ الگ فہرستیں تیار کر سکتا ہے، جن کی قیادت ڈیموکریٹس کر رہے ہیں اور جنہوں نے عدالت میں اس منصوبے کو چیلنج کیا تھا۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کی ایک اور شق میں پوسٹل سروس کو ان ریاستوں کے لیے نئی شرائط عائد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنا چاہتی ہیں۔ منصوبے کے تحت ریاستوں کو پوسٹل سروس کو اہل ووٹروں کی فہرستیں فراہم کرنا ہوں گی اور بیلٹ کے لفافوں پر ایسی معلومات درج کرنا ہوں گی جن سے ان کی ترسیل کا سراغ لگایا جا سکے۔
ججوں نے اس حصے پر بھی امریکی پوسٹل سروس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی، تاہم ایک نچلی عدالت پہلے ہی ملک بھر میں اس کے نفاذ کو روک چکی ہے۔
نتیجتاً، پوسٹل سروس کے لیے اس اقدام پر عمل درآمد سے قبل مزید عدالتی کارروائی ضروری ہوگی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں نئی ہنگامی اپیلیں بھی دائر ہو سکتی ہیں، جو ممکنہ طور پر چند دنوں کے اندر سامنے آسکتی ہیں۔
اس لیے پیر کا فیصلہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر آخری فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’اگر پوسٹل سروس کا حتمی ضابطہ ریاستوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے تو وہ اس ضابطے کو چیلنج کر سکتی ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ نے اس سوال پر فیصلہ نہیں دیا کہ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر قانونی طور پر درست ہے یا نہیں، بلکہ صرف ریاستوں کی جانب سے دائر چیلنج کے وقت سے متعلق فیصلہ کیا ہے۔
ٹرمپ بارہا بڑے پیمانے پر ووٹوں میں دھاندلی کے بے بنیاد دعوے کرتے رہے ہیں اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
عدالت نے کہا، ’’اس درخواست پر عدالت کا فیصلہ یہ معنی نہیں رکھتا کہ حکومت کی جانب سے حکم پر عمل درآمد کے لیے اٹھایا جانے والا ہر اقدام لازماً قانونی ہوگا۔ اس معاملے میں وقت ہی فیصلہ کرے گا۔‘‘
اس کے باوجود یہ فیصلہ ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ ان ریاستوں نے خبردار کیا تھا کہ انہیں رواں سال کے انتخابات کی تیاریوں سے وقت اور وسائل ہٹا کر اس معاملے پر صرف کرنے پڑیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لارین بِس نے کہا، ’’یہ امریکی انتخابات کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ عام فہم اقدامات ہیں جو ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹ کی سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ صرف امریکی شہری ہی امریکی رہنماؤں کا انتخاب کریں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ انتظامیہ صدر ٹرمپ کے اس ایجنڈے کو قانونی طریقے سے نافذ کرتی رہے گی جس کے لیے وہ منتخب ہوئے ہیں، جس میں ہمارے انتخابات کی حفاظت اور سکیورٹی بھی شامل ہے۔‘‘
اس سال سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق مقدمات میں مسلسل تنازع بڑھا ہے، جس کے باعث عدالت کے قدامت پسند اور لبرل ججوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ایک اہم مقدمے میں عدالت کی 6-3 قدامت پسند اکثریت نے اپریل کے آخر میں ایک اہم فیصلہ سنایا تھا، جس میں لوزیانا کے کانگریسی حلقوں سے متعلق مقدمے میں ووٹنگ رائٹس ایکٹ کو کمزور کر دیا گیا تھا، سی این این نے رپورٹ کیا۔
پیر کے فیصلے پر عدالت کے تینوں لبرل ججوں نے اختلاف کیا۔ جسٹس سونیا سوتومایور نے، جسٹس ایلینا کیگن کی حمایت سے، مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں کو ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں کے حق میں فیصلہ دینے کا اختیار حاصل تھا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ کی اکثریت نے ٹرمپ کی ہدایات کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسجاد لون نے یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کی خبر کو ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیا
