جموں و کشمیر
کشتواڑ کے ڈولگام میں دوبارہ انکاؤنٹر، سکیورٹی فورسز نے پورا علاقہ محاصرے میں لے لیا
جموں،جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران ہفتے کی صبح ڈولگام علاقے میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان ایک بار پھر مسلح جھڑپ شروع ہوگئی۔ علاقے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے دہشت گردوں کی موجودگی کے انٹیلی جنس ان پٹس موصول ہو رہے تھے، جس کے بعد فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طور پر آپریشن تیز کر رکھا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، صبح کے ابتدائی وقتوں میں فائرنگ کا تبادلہ اس وقت شروع ہوا جب مشترکہ ٹیم علاقے کی گھاٹیوں، جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی مقامات پر سرچ آپریشن کر رہی تھی۔ اسی دوران مشتبہ دہشت گردوں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی۔ فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تمام داخلی و خارجی راستوں کو سیل کر دیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کے تمام امکانات ختم ہو جائیں۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں تصدیق کی کہ ڈولگام میں جاری مشترکہ کارروائی کے دوران ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ کارروائی انتہائی مربوط حکمت عملی کے تحت جاری ہے اور مختلف ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلی جنس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے حساس علاقوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
معلومات کے مطابق، جموں وکشمیر پولیس، بھارتی فوج اور سی آر پی ایف کے خصوصی دستے ایک منظم انداز میں گھنے جنگلات، نالوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔ جدید ڈرونز، تھرمل امیجنگ آلات اور اسنائپر ٹیموں کو تعینات کرکے علاقے میں باریک بینی سے سرچ جاری ہے۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی فائرنگ کے بعد دہشت گردوں نے ممکنہ طور پر گھنے جنگلات کا رخ کیا ہے، جس کے باعث آپریشن مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔
علاقے میں احتیاطی طور پر موبائل انٹرنیٹ سروس کو بھی محدود کیا گیا ہے تاکہ افواہیں نہ پھیلیں اور آپریشن کی حساس تفصیلات منظر عام پر نہ آئیں۔ رہائشیوں کو گھروں میں رہنے، جنگلاتی علاقوں سے دور رہنے اور فورسز کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کشتواڑ کے پہاڑی علاقے دہشت گردوں کے لیے روایتی طور پر چھپنے کی محفوظ جگہ سمجھے جاتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشنز سے یہاں صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔ حالیہ انکاؤنٹر اسی تسلسل کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے میں باقی ماندہ دہشت گردوں کو ختم کرنا ہے۔
فورسز کے مطابق، ابتدائی جھڑپ کے بعد وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گرد چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر فورسز اپنے گھیرے کو مسلسل تنگ کر رہی ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، لیکن آپریشن کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے فورسز انتہائی احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہیں۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے کہا، ’ڈولگام میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہماری بڑی اور جاری مہم کا اہم حصہ ہے۔ دہشت گردوں کے تمام ممکنہ ٹھکانوں کی نشان دہی کرلی گئی ہے اور جلد پیش رفت متوقع ہے۔‘
علاقے میں کشیدگی برقرار ہے جبکہ آپریشن بدستور جاری ہے۔ فورسز نے اشارہ دیا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی پیش رفت کو بروقت شیئر کیا جائے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
