دنیا
ٹرمپ اور نیویارک کے میئر ممدانی کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت
نیویارک، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے پیر کو اپنی تیسری بالمشافہ ملاقات کے دوران غیر معمولی طور پر خوشگوار انداز میں بات چیت کی اور دونوں نے کوئنز میں ایک بڑے سستے رہائشی منصوبے کے بارے میں بات چیت تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں نے ممدانی کی جانب سے کوئنز میں واقع سنی سائیڈ یارڈ کے وسیع ریلوے کمپلیکس کے اوپر تعمیر کیے جانے والے پلیٹ فارم پر 12 ہزار سستے مکانات بنانے کی تجویز پر بھی مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے بعد بریفنگ میں ٹرمپ نے کہا، ’’وہ 50 سال سے اس علاقے کو ترقی دینے کی بات کر رہے ہیں۔ تو شاید اب ان کے پاس اسے کرنے کا موقع ہے۔‘‘ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے متعلق ٹرمپ کی مصروفیات سے قبل ہوئی۔
تاہم دونوں کے سیاسی اختلافات بھی نمایاں رہے۔ ممدانی نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے سامنے نیویارک کے شہریوں، بشمول تارکین وطن، کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے اپنی ’’بہت مضبوط رائے‘‘ پیش کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام صحافیوں کو وائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناو اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے سے روکنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرنے سے کچھ دیر قبل سامنے آیا۔ ان تینوں اداروں نے اس پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے پہلی ترمیم کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔
اختلافات کے باوجود ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ممدانی ’’ایک عظیم میئر بنیں‘‘ اور ان میں ’’یقینی طور پر‘‘ بڑی صلاحیت موجود ہے۔
یہ ملاقات دونوں کے درمیان اس سے قبل ہونے والی دو ملاقاتوں کے بعد ہوئی، جو غیر متوقع طور پر خوشگوار رہی تھیں۔ ’ایکسِیوس‘ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے بھی رابطہ برقرار ہے۔
تاہم امیگریشن اور ٹیکس سمیت مختلف پالیسی معاملات پر دونوں کے اختلافات برقرار ہیں۔ نیویارک شہر ان شہروں اور کاؤنٹیوں کے اتحاد میں شامل ہو گیا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ’’پبلک چارج‘‘ امیگریشن ضابطے کو چیلنج کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے غیر رہائشی افراد کی ملکیت والی لگژری جائیدادوں پر ممدانی کی مجوزہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر بھی تنقید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیویارک میں کینیڈا، ڈنمارک، جزائر فارو، فن لینڈ، گرین لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی اور آرکٹک خطے کی سلامتی، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں آرکٹک کے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اتحادی ممالک کی مسلسل سرمایہ کاری اور باہمی رابطہ کاری کی ’’تزویراتی ضرورت‘‘ پر زور دیا گیا۔
اتحادی ممالک نے اتفاق کیا کہ آرکٹک کی سلامتی کے لیے ’’اس اہم خطے کے تحفظ‘‘ اور تزویراتی حریفوں کو روکنے کی خاطر مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے۔
بات چیت میں ’’خودمختار فوجی اور اقتصادی صلاحیتوں‘‘ کی ترقی، سرمایہ کاری کے تحفظ اور لچکدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے آرکٹک کی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری اتحادی ممالک کی جانب سے اٹھانے پر توجہ مرکوز کی گئی، تاکہ قابل اعتماد رسائی یقینی بنائی جا سکے اور خطے میں مشترکہ قیادت کو تقویت ملے۔
روبیو نے امریکہ، کینیڈا اور فن لینڈ کے درمیان ’آئس بریکر کولیبوریشن ایفورٹ‘ (ٓئی سی ای) معاہدے کو ’’صنعتی تعاون اور ذمہ داریوں کی مشترکہ تقسیم‘‘ کے لیے ایک نمونہ قرار دیا۔
انہوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی آئس بریکر بیڑے میں نمایاں توسیع کے عزم کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ اس سے اس اقدام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی فوجی دباؤ میں کمی پر ایران سات دن میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے
تہران، ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے، بشرطیکہ امریکہ اپنے فوجی دباؤ میں کمی کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہو۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے منگل کو یہ بات کہی، جس سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی مذاکرات کی بحالی کی ممکنہ راہ ہموار ہونے کا اشارہ ملا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کو پہلے سفارت کاری کے ذریعے تنازع حل کرنے کے لیے باضابطہ طور پر عہد کرنا ہوگا اور مذاکرات کے لیے ایک ٹائم ٹیبل پر اتفاق کرنا ہوگا۔
عہدیدار کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود ایران کے وفد کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں ثالث کسی معاہدے کی شرائط پر بات چیت شروع کر سکتے ہیں، جس کا مقصد لڑائی کا خاتمہ ہوگا۔ تہران نے 16 ستمبر کو ہی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو اپنی تجویز بھیج دی تھی۔
عہدیدار نے کہا، ’’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی امریکہ کے لیے سفارت کاری کی طرف واپس آنے کا سنہری موقع ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن ٹھوس اقدامات کرتا ہے تو ایران دوبارہ مذاکرات کا خیرمقدم کرے گا۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو تہران سے نیویارک روانہ ہوئے۔ عہدیدار نے کہا کہ پیزشکیان کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں ہوگی۔
یہ بیان اتوار کو ایران کی فوجی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اسے اطلاع دی گئی ہے کہ امریکہ علاقائی ممالک کی حمایت سے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایرانی کمان نے مزید خبردار کیا تھا کہ کسی بھی نئے حملے کا ایران ’’بغیر کسی پابندی اور مصلحت کے‘‘ جواب دے گا۔
شپنگ اینالیٹکس کمپنی کیلپر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بدستور انتہائی کم ہے۔ پیر کو صرف دو مال بردار جہاز آبنائے سے گزر سکے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 10 تھی۔ ان میں پاناما کے پرچم والا سپرامیکس اور لائبیریا کے پرچم والا بلک کیریئر شامل تھا۔
بحری انٹیلی جنس فرم میریسکس کے مطابق آبنائے سے گزرتے ہوئے دو دیگر جہاز الگ الگ واقعات میں نشانہ بنے۔ پیر کو آئل آف مین کے پرچم والے خام تیل کے ٹینکر ’ایل آر اسٹیفنی‘ کو آبنائے میں داخل ہوتے وقت نامعلوم سمت سے داغے گئے ایک پروجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا، جس میں عملے کے دو ارکان معمولی زخمی ہوئے۔
اس سے ایک روز قبل لائبیریا کے پرچم والے ایل پی جی ٹینکر ’ال مریہ‘ کو آبنائے سے نکلتے وقت نشانہ بنایا گیا تھا۔
دونوں جہاز اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہے اور انہیں کھینچ کر لے جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ میریسکس نے کہا کہ حملوں کی ذمہ داری کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور دونوں جہاز ایران کی جانب سے خلیج فارس کے آبنائے سے متعلق عوامی طور پر جاری کی گئی غیر تعمیلی جہازوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں تھے۔
کیلپر نے خبردار کیا کہ اس کے اعداد و شمار میں ایسے جہاز شامل نہیں ہیں جو ممکنہ طور پر اپنی نقل و حرکت چھپانے کے لیے خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) کے ٹرانسپونڈر بند کر چکے ہوں۔
28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جن میں آئل ٹینکر، گیس بردار جہاز، بلک کیریئر اور کنٹینر جہاز شامل تھے۔ اس آبی راستے سے دنیا کی یومیہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔
بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب کے راستے بحری آمدورفت نسبتاً مستحکم رہی۔ پیر کو 26 جہاز اس آبنائے سے گزرے، جو ایک روز قبل کی تعداد کے برابر ہے۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکان نے توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایرانی تجویز کے بعد خلیجی ممالک سے توانائی کی سپلائی میں اضافے کے امکان کا جائزہ لیتے ہوئے تاجروں نے منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت کو دو ہفتے کی کم ترین سطح تک گرتے دیکھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
پیانگ یانگ، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے پارٹی عہدیداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ’’عصر حاضر کی توقعات‘‘ کے مطابق ملک کی تشہیری اور نظریاتی مہمات کو جدید بنائیں۔ سرکاری میڈیا نے منگل کو یہ اطلاع دی۔
کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق کم جونگ ان نے پیر کو اطلاعاتی شعبے کے عہدیداروں کے لیے منعقدہ پارٹی کی تیسری ورکشاپ سے اختتامی خطاب میں نظریاتی کام کے ’’مضامین، شکلوں، طریقوں اور ذرائع‘‘ کو جدید بنانے سے متعلق ’’اصولی امور‘‘ اور کاموں کی وضاحت کی۔
انہوں نے ’’اطلاعات اور ترغیبی سرگرمیوں اور ثقافتوں کی تخلیق میں جدت‘‘ لانے پر زور دیا اور عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نظریاتی مہمات ’’عصر حاضر، انقلاب اور عوام کی توقعات‘‘ کے مطابق ہوں۔
کم نے خاص طور پر ’’جدید اطلاعاتی اور تکنیکی ذرائع‘‘ استعمال کرتے ہوئے ’’رجعت پسند نظریاتی ثقافت کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکنے‘‘ پر زور دیا۔ اس اقدام کا مقصد بیرونی خیالات اور اثرات کے داخلے کو روکنے کی کوششوں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
کے سی این اے نے بتایا کہ پیر کو اختتام پذیر ہونے والی چار روزہ ورکشاپ میں کم جونگ ان کے ’’انقلابی نظریات‘‘ کی بنیاد پر نظریاتی تعلیم کے علاوہ ’’انقلابی ورثے اور پارٹی کی قیادت کی کامیابیوں‘‘ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
شرکا پر زور دیا گیا کہ ’’عوام کو کوریا کی ورکرز پارٹی کی نویں کانگریس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے متحرک کرنے کے سلسلے میں اطلاعاتی اور تشہیری مہم‘‘ تیز کی جائے، جبکہ نظریاتی کام کو مختلف شعبوں اور اداروں کی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے۔
ورکشاپ میں ’’نظریاتی کام کی نئی شکلوں اور طریقوں‘‘، ’’حقیقت پسندانہ اور پرکشش انداز میں اطلاعاتی کام‘‘ انجام دینے کے طریقوں اور ’’پارٹی کی پالیسی کے تقاضوں کے مطابق بصری معاون ذرائع‘‘ کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ ان کی تاثیر کو زیادہ سے زیادہ بنایا جا سکے۔
رواں سال کی یہ ورکشاپ 2022 میں اس کے آغاز کے بعد تیسری ایسی ورکشاپ تھی۔ کم جونگ ان نے افتتاحی اور اختتامی دونوں تقریبات میں شرکت کی اور دونوں مواقع پر خطاب کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
ہندوستان5 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
جموں و کشمیر3 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
دنیا6 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
جموں و کشمیر3 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
