تازہ ترین
فلم بجرنگی بھائی جان نے میری پہچان بنا دی:معروف اداکار جا وید خان
سرکار یہاں کے اداکاروں کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے
خبراردو:-
سرینگر: وادی کے باہر ایک اداکار کو عزت کی جا تی ہے اس کو ہر طرح سپورٹ اور مدد فراہم کی جا تی ہے یہاں اسکے برعکس ہے یہاں اس پیشے سے وابستہ افراد جن میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے،در در کی ٹھوکرے کھا رہی ہے۔ سرکار کی جانب سے انکے لئے کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار فلم بجرنگی بھائی جان میں کام کرنے والے وادی کے معروف ادکار جا وید خان نے اپنے ایک انٹریو میں کیا۔ کے این ایس کے مطابق وادی کشمیر کا معروف اداکار جا وید خان جو کسی تعرف کے محتاج نہیں ہے۔ پچھلے 25برسوں سے اداکا ری پیشہ سے وابستہ ہے۔
اپنے ایک انٹریو میں انہوں نے کہا کہ سال1996ء میں انہوں نے دوردرشن سرینگر سے آڈیشن پاس کر کے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا اور ابھی تک بہت سارے کشمیری ڈراموں کے علاوہ بالی ووڈ فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کشمیری ڈرامہ بدری نا تھ کی اَدری مہر میں سب سے پہلے کام کر نے کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ اس ڈرامہ میں میرا رول ایک کشمیری پنڈت ہیرو تھا ڈرامہ کا مقصد ہند مسلم بھائی چارے رواداری کودکھا نا تھا۔ یہ ڈرامہ کا فی مشہور ہوا اور دوردرشن سے یہ ڈرامہ ٹیلی کاسٹ ہوا۔ لوگوں نے اس ڈرامے کو بہت پسند کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسکے بعد ایک اور ڈرامہ ”یہ کتھ انتظار“ یہ بھی کشمیری ڈرامہ ہے اور اس ڈرامہ کا مقصد یہاں کی بے روزگاری کو اُجا گر کرنا تھا۔ اس ڈرامہ کے ذریعے ہماری یہی کوشش تھی کہ بے روزگار افراد کے مسائل اُجاگر ہو سکے۔ اس ڈرامہ میں میرا رول شفع مُت رہا ہے۔ ڈرامہ میں پڑھ لکھ لکر مجھے نوکری نہیں ملتی ہے اور در در کی ٹھوکرے کھا کر آخر میں مسافر کشمیری میں جسکوہم مُت کہتے ہیں، بن جاتا ہوں۔
اد اکار نے حس کر مزید کہا کہ اب رئیل لائف میں بھی کچھ لوگ مجھے شفع مُت کے نام سے پکارتے ہیں چونکہمیں اداکار ہوں اور اداکار کو لوگ اس نام سے پکاریں گے ادکار کو خوشی ملتی ہے جب ایک اداکار کی اداکا ری دوسروں کو پسند آتی ہے۔ نمائندے کے ساتھ انٹریو میں اداکار جا وید خان نے مزیدکہا کہ کئی بالی ووڈ فلموں میں بھی کام کر چکا ہوں۔بالی ووڈ میں سب سے پہلے فلم حیدر میں کام کرنے کا موقع ملا۔
اسکے بعد سلمان خان کے ساتھ بجرنگی بھائی جان فلم میں کام کیا اور اس فلم میں میرا رول آزاد کشمیر پاکستان کا بس ڈرائیور رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجرنگی بھائی جان فلم نے میری پہچان بنا دی نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ وادی سے باہر بھی لوگ مجھے اس فلم سے جاننے لگے اور میرے کام کو سراہاتے ہوئے بہت پیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں بجرنگی بھائی جان کے علاوہ دیگر کئی فلموں میں بھی کام کیا ہے نمائندے کے ساتھ ایک انٹریو میں سرینگر کے معروف اداکار جا وید خان نے کہا کہ سال2017-18میں کلچرل اکیڈیمی سے سٹیٹ ایوارڈ بھی ملا ہے۔ ہارون نشاط سرینگر ضلع سے تعلق رکھنے والے اداکار جا وید خان نے مزید کہا کہ یہاں کے اداکاروں کو کئی طرح کے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔
جسکی طرف سرکار توجہ نہیں دے رہی ہے۔ بہترین ٹیلنٹ ہونے کے باوجود بھی یہاں کے آرٹسٹ در در کی ٹھوکرے کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے باہر ایک اداکار کو عزت کی جا تی ہے اور ہر طرح کا سپورٹ اور مدد فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں اور وادی کے باہر آسمان زمین کا فرق ہے۔ ادا کار کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی پہچان وہاں کا کلچر، ثقافت، ہیرٹیج ہو تا ہے اور اس کو ریپریزنٹ برقرار رکھنے کیلئے آرٹسٹ کا رول اہم ہو تا ہے۔ لہذا اس آرٹسٹ کی قدر کی جائے اور ہرطرح کا سپورٹ اور مالی مدت فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے ٹیلنٹ سے کلچر ثقافت کو زند ہ رکھ سکے۔
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی توجہ پڑھائی پر دیں۔نمائندے تنہا ایاز کے مطابق جا وید خان اگر چہ خانیار سرینگر میں پیدا ہوئے تھے تاہم وہاں سے انکی والد نے نکل مکانی کر کے ہارون سرینگر میں سکونت اختیار پذیر کی اور پھر یہی ہو کر رہے اور یہاں ہی اداکار جا وید خان نے بچپن گذارا اور پڑھائی بھی یہاں ہی حاصل کی۔ فلم بجرنگی بھائی جان میں کام کرنے والے مذکورہ اداکار کو دور دور تک پہچانا جاتا ہے۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
واشنگٹن، امریکی بحریہ کے مطابق گزشتہ سال شروع ہونے والی کئی ماہ طویل تعیناتی کے دوران یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں رپورٹ ہوئیں۔
قائم مقام نیوی سیکریٹری ہنگ کاؤ نے ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ ان واقعات میں طیارہ بردار جہاز، اس کے ایئر ونگ اور حفاظتی بیڑے میں شامل ڈسٹرائرز کے اہلکار شامل ہیں۔ تاہم جہاز پر خودکشی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ان میں سے دو کوششیں اس وقت ہوئیں جب اسٹرائیک گروپ ایران کے ساتھ فعال جنگی کارروائیوں میں مصروف تھا۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہزاروں اہلکار نو ماہ سے زیادہ عرصے تک تعینات رہے، جن میں رواں سال مسلسل 250 سے زائد دن سمندر میں گزارے گئے۔ اس دوران اسٹرائیک گروپ نے مغربی ایشیا میں ایران کے خلاف امریکی جنگ میں معاونت کی۔
طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر خوراک اور رسد کی قلت، پانی کی نکاسی کے نظام میں خرابی اور اہلکاروں کی بگڑتی ذہنی صحت سے متعلق شکایات سامنے آئیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے تاہم کہا ہے کہ خودکشی کی کوششوں میں اضافہ نہیں ہوا اور اہلکاروں کو مشیران، مذہبی معاونین اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔
نیوی کے اعلیٰ سول عہدیدار ہنگ کاؤ نے ایک ویڈیو میں کہا، ’’ہمیں خدکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا براہِ راست مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘
یو ایس ایس ابراہم لنکن گزشتہ ماہ کے آخر میں مغربی ایشیا سے روانہ ہوا، ستمبر کے اوائل میں تھائی لینڈ پہنچا اور رواں ہفتے گوام پہنچا۔ بحریہ کے مطابق اسے مغربی ایشیا میں ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا ہے اور وہ اپنے آبائی اڈے سان ڈیاگو کی جانب رواں دواں ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں 3 روزہ ہڑتال سے قبل بینک ملازمین کا مظاہرہ
جموں، 28 ستمبر سے اعلان کردہ 3 روزہ ہڑتال سے قبل یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کے بینر تلے بینک ملازمین اور افسران نے جمعرات کی شام یہاں مظاہرہ کیا، جس میں بڑی تعداد میں بینک افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔
یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز میں بینک ملازمین اور افسران کی 7 یونینیں شامل ہیں، جن میں آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے)، آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن (اے آئی بی او سی)، نیشنل کنفیڈریشن آف بینک ایمپلائز (این سی بی ای)، آل انڈیا بینک آفیسرز ایسوسی ایشن (اے آئی بی او اے)، بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا (بی ای ایف آئی)، انڈین نیشنل بینک ایمپلائز فیڈریشن (آئی این بی ای ایف) اور انڈین نیشنل بینک آفیسرز کانگریس (آئی این بی او سی) شامل ہیں۔ یہ فورم 28، 29 اور 30 ستمبر کو ملک گیر 3 روزہ بینک ہڑتال کرے گا، جس میں سرکاری شعبے کے بینکوں، نجی شعبے کے بینکوں، غیر ملکی بینکوں، علاقائی دیہی بینکوں اور کوآپریٹو بینکوں میں کام کرنے والے 8 لاکھ بینک ملازمین اور افسران شرکت کریں گے۔
اس موقع پر آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن (اے آئی بی او سی) جموں و کشمیر اور لداخ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے سکریٹری راجیش مہتا نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت بینکنگ صنعت میں ہفتے میں 5 دن کام کرنے کے نظام کو نافذ کرنے اور باقی ہفتہ کے دنوں کو تعطیل قرار دینے کی منظوری دے۔ فی الحال بینکوں میں دوسرے اور چوتھے ہفتہ کو پہلے ہی تعطیل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈین بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے 7 دسمبر 2023 کو آئی بی اے اور یو ایف بی یو کے درمیان طے شدہ مفاہمت نامے اور 8 مارچ 2024 کو کیے گئے تصفیے اور مشترکہ نوٹ میں طے پانے والی باتوں کی بنیاد پر باقی ہفتہ کے دنوں کو بھی تعطیل قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی حکومت کو باقاعدہ سفارش کی جا چکی ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ 2 سال سے حکومت کی منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے کے بعد یو ایف بی یو نے 24 اور 25 مارچ 2025 کو 2 روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ اس وقت حکومت نے انہیں بتایا تھا کہ معاملہ فعال طور پر زیر غور ہے، جس کے بعد ہڑتال ملتوی کر دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے مختلف احتجاجی پروگراموں کے ذریعے حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرانے کے بعد 28، 29 اور 30 ستمبر کو 3 روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے اور بالآخر 26 اکتوبر 2026 سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مالیاتی شعبے میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، ایل آئی سی اور جی آئی سی میں پہلے ہی ہفتے میں 5 دن کام کرنے کا نظام نافذ ہے۔
مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تمام دفاتر پیر سے جمعہ تک ہی کام کرتے ہیں۔
اسٹاک ایکسچینج بھی پیر سے جمعہ تک کام کرتے ہیں۔ زرِمبادلہ کی منڈی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سمیت دیگر مالیاتی منڈیاں ہفتہ اور اتوار کو بند رہتی ہیں۔ بینکوں میں پہلے ہی دوسرے اور چوتھے ہفتہ کو تعطیل ہوتی ہے۔
لہٰذا موجودہ حالات میں جب بینکنگ خدمات تک رسائی کے لیے مختلف متبادل ذرائع دستیاب ہیں، پیر سے جمعہ تک کام کے اوقات میں اضافہ کرتے ہوئے باقی ہفتہ کے دنوں کو تعطیل قرار دینے سے بینک صارفین کو کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یو ایف بی یو کے دیگر رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ بینکنگ شعبے میں ہفتے میں 5 دن کام کرنے کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
کشمیر کے خواب دیکھنا بند کریں، پاکستان کو اپنے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے: جموں و کشمیر بی جے پی
جموں، جموں و کشمیر بی جے پی کے ترجمان اور بین الاقوامی امور کے کنوینر گورو گپتا نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے سخت جواب کے بعد پاکستان پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو دوسرے ممالک کے علاقوں پر نظریں رکھنے اور ’’دہشت گردی برآمد کرنے‘‘ کی بجائے اپنے قرضے چکانے، اپنی معیشت کو ترقی دینے اور اپنے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
گپتا نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سخت جواب کا خیرمقدم کیا، جہاں ہندوستانی سفارت کار کشتیج تیاگی نے پاکستان سے کہا کہ وہ علاقائی عزائم اور دہشت گردی کے بجائے ترقی پر توجہ دے۔
انہوں نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’ہندوستان نے جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے حوالوں پر بھی تنقید کی اور پاکستان کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا۔‘‘
گپتا نے کہا، ’’ہندوستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو وہ پیغام دیا ہے جو اسے سننے کی ضرورت تھی—ہندوستان کی طرف دیکھنا بند کرو اور اپنے ملک کی طرف توجہ دو۔ اپنے قرضے چکاؤ، اپنی معیشت کو دوبارہ مضبوط کرو اور اپنے عوام کو مستقبل فراہم کرو، بجائے اس کے کہ ہندوستانی علاقے کے خواب دیکھو۔‘‘
اسلام آباد پر سخت تنقید کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ پاکستان عالمی فورموں پر کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے رہتے ہوئے بین الاقوامی ہمدردی کی توقع نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا، ’’دہشت گردی پاکستان کے قرضے ادا نہیں کرے گی۔ ہندوستان مخالف پروپیگنڈا روزگار پیدا نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ میں ڈرامائی بیان بازی سے اس کے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ اور بار بار کشمیر کا ذکر کرنے سے یہ زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔‘‘
گپتا نے کہا کہ جموں و کشمیر پر پاکستان کی مسلسل توجہ اس کے اپنے اقتصادی اور انتظامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا، ’’دنیا کئی دہائیوں سے پاکستان کی بیان بازی سن رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بیان بازی سے پاکستانی عوام کو کیا حاصل ہوا؟ ترقی، روزگار اور خوشحالی کے بجائے اسلام آباد اپنی سیاسی توانائی علاقائی عزائم اور ہندوستان مخالف پروپیگنڈے پر خرچ کرتا جا رہا ہے۔‘‘
پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے گپتا نے کہا کہ اسلام آباد کو پہلے اپنے زیر انتظام علاقوں کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
مسٹرگپتا نے کہا، ’’کشمیر پر ہندوستان کو نصیحت دینے سے پہلے پاکستان کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے حالات سے متعلق سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ آپ کشمیر کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے جبکہ اپنے انتظام والے علاقوں کے لوگوں کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہندوستان کا پیغام سادہ ہے: دہشت گردی برآمد کرنا بند کرو، ہندوستانی علاقے پر نظریں رکھنا بند کرو اور اپنے عوام کے لیے کام کرنا شروع کرو۔ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے۔ پاکستان کی تقریریں تاریخ، جغرافیہ یا حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا7 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا7 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا7 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا7 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
