تازہ ترین
کشمیرمیں حریت کا دور- 1993 سے 2020 تک
حال ہی میں علحیدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے حریت کانفرنس سے اچانک استعفی دینے سے عوامی حلقوں میں ایک بحث چھڑ گئی اور بہت سارے سوالات سامنے آگئے کچھ لوگوں کے مطابق علحیدگی پسند خیمہ جو کشمیر ی عوام کے نمائندے ہونے کا دعوا پچھلے تیس سالوں سے کرتے آرہا ہے احتساب کے کٹگھرے میں کھڑانظر آتا ہے دراصل حریت کا منڈیٹ کیا تھا اس کے لئے ہمیں بہت پیچھے جانا پڑے گا جہاں سے حریت کی داستاں شروع ہو گئی تھی ۔
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/1893629044094771/?t=8
9 مارچ سن 1993کو آل پارٹییز حریت کانفرنس کی بنیاد ڈالی گئی ۔ ابتدا میں اس میں 26سیاسی ‘ سماجی ‘ اور مذہبی جماعتیں شامل ہوئیں اس کا ابتدائی مقصد اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر مسَلے کے حل کے لئے سیاسی جدوجہد کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا اور اس مسَلے کے متعلق ساری دنیا میں بیداری پیدا کرنا ۔ حریت کا نظریہ یہ ہے کہ پورا جموں کشمیر ایک متنازعیہ علاقہ ہے اور تقسیم کے وقت کا ادھورا مسَلہ ہے اسلئے اسے یہاں کے لوگوں کے مشورے سے حل کیا جانا چاہئیے حریت اپنے آپ کو جموں کشمیر کے عوام کی واحد نمائندہ جماعت مانتی ہے ۔ او ۔ آئی ۔ سی میں اس کو مبصر کا درجہ حاصل ہے ۔ حریت کانفرنس جب معرض وجود میں آئی تو کشمیر کی تاریخ ایک نازک موڈ پر تھی مسلح تحریک اپنے عروج پر تھی سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ حریت مسلح تحریک کا سیاسی چہرہ بن گئی اس نے دو مختلف سوچوں کے دھارے کو اپنے آپ میں سمایا ایک سوچ جو رےاست کو پاکستان میں شامل کرنا چاہتی تھی دوسری سوچ جموں کشمیر کو ایک علحیدہ ملک بنانا چاہتی تھی کچھ سیا سی تجزیہ کاروں کے مطابق حریت کو بنانے اور بڑھاوا دینے میں اْس وقت کی امریکی حکومت کا آشیرواد حاصل تھا اور واشنگٹن میں قائم ’تِھنک ٹینک‘ us institute of peace کے چیرمین robert oakley اسکے پس پردہ تھے حریت نے ابتدا میں الیکشن بائیکاٹ ، انسانی حقوق کی خلافورزیوں کے خلاف آواز اْٹھانے اور ہڑتال کی کال دینے تک اپنے آپ کو محدود رکھا ۔ اْس وقت کی مرکزی حکومت بےن الاقوامی سطح پر دباوَ میں تھی اسلئے حریت کو کام کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ۔
سن 2000میں امرےکی صدر بل کلنٹن کے بھارت کے دورے کے وقت حرےت کو کافی حد تک شناخت مل گئی تھی حرےت لےڈروں کو جےلوں سے رہائی ملی اور حکومت ِ ہند نے بات چےت کے لئے ’ پسِ پردہ‘ دروازے کھول دےئے ۔ حرےت نے سرےنگر کے پوش علاقے راج باغ مےں مرکزی دفتر کھولا اور ناصرف ہر ضلع مےں اکائےاں قائم کےں بلکہ نئی دلی مےں بھی اےک پولٹےکل آفس کھولا اور سےاسی سرگرمےاں شروع کےں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ حرےت مےں مالی بے ضابطگےوں ،نظم وضبط کی کمی ،قےادت کے دو دھڑوں کی رسہ کشی اندر ہی اندر پنپ رہی تھی اور تب اےک دن ےہ اْس وقت کھل کر سامنے آگئی جب ذراءع ابلاغ مےں آنے والی خبروں کے مطابق سجاد لون نے اسمبلی الےکشن مےں اپنے proxiesکھڑے کئے اور گےلانی نے انہےں حرےت سے نکالنے کا فرمان جاری کر دےا ۔ جس کا نتےجہ ےہ نکلا کہ 2003مےں حرےت کے دو حصے ہو گئے گےلانی سخت گےر دھڑے کے روحِ رواں بن گئے جبکہ مےر واعظ اعتدال پسند حرےت کے چےرمےن بن گئے گےلانی کی ہمےشہ ےہ پوزےشن رہی کہ مرکزی حکومت پہلے مسَلہ کشمےر کو تسلےم کرے پھر بات چےت ہوگی جبکہ مےر واعظ والی حرےت کانفرنس سابق پاکستانی صدر پروےز مشرف کے چار پوائےنٹ والے فارمولے کا بھی حصہ رہی اور اس گروپ نے اٹل بہاری واجپائی کے وقت حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات بھی کئے ۔ سن 2001مےں ورلڈ ٹرےڈ سنٹر پر حملے کے بعد ساری دنےا کا سوچنے کا ڈھنگ ےکسر بدل گےا دنےا مےں جہاں جہاں آزادی کی تحرےکےں چل رہی تھی اور جن مےں مذہب کے رنگ کی آمےزش تھی اْنہےں دہشت گردی کا لےبل لگ گےا ۔ اور عالمی سطح پر اِن تحرےکوں کی حماےت آہستہ آہستہ ختم ہوگئی حرےت بھی اس سے کافی حد تک متاثر ہوئی بےن الاقوامی اےوانوں مےں حرےت کے لئے سپورٹ کم ہوتا گےا تنظےمی سطح پر حرےت مےں اسکے بعدبھی انتشار چلتا رہا اور دونوں دھڑوں مےں اےک بار پھر بگاڑ پےدا ہوگےا جہاں گےلانی والے دھڑے مےں ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہی وہی 2014مےں مےر واعظ کی حرےت کانفرنس اےک بار پھر بکھر گئی ۔ کچھ سےاسی مبصرےن مانتے ہےں کہ وادی مےں علحےدگی پسند سوچ رکھنے والا اےک بڑا حلقہ ہے حتی کہ دو بڑی مےن اسٹرےم پارٹےاں نےشنل کانفرنس اور پی، ڈی، پی بھی اس طبقہ ہائے فکر کے ساتھ چھےڑ چھاڑ کی متحمل نہےں ہو سکتی تھی اور وہ الےکشن پانی بجلی اور سڑک کے مدعوں پر لڑتی تھی جب بھی عوامی سطح پر کوئی اْتھل پْتھل ہوتی ہے رہنمائی کے لئے لوگوں کی امےدےں حرےت سے وابستہ ہوتےں ۔ البتہ سےاسی تجزےہ کار ساتھ ساتھ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہےں کہ حرےت کانفرنس اپنے وجود سے ابتک اےک اےسی حکمت عملی ترتےب دےنے مےں ناکام رہی جو مسئلہ کشمےر کو منطقی انجام تک پہونچانے مےں مددگار ثابت ہوتی اْن کے مطابق اِن سالوں مےں حرےت نے عوام کے سامنے ہڑتالوں کے بغےر کوئی لاءحہ عمل نہےں رکھا جس سے لوگوں کو روشنی کی کرن نظر آتی آج بھی گےلانی،ےاسےن ملک،شبےر شاہ ،نعےم خان وغےرہ پارٹی کی قےادت سنبھالے ہوئے ہےں نوجواں لےڈران کہاں ہےں جن سے حرےت مےں نئی سوچ آسکتی تھی اِن سالوں مےں حرےت ےہاں پر کوئی ’تھنک ٹےنک‘ قائم نہ کر پائی نہ کوئی رےسرچ سنٹر بنا اور نہ کسی بھی چےز کی documentationکی گئی ۔ حالات نے 2008 ۔ 2010 ۔ اور 2016 مےں حرےت کے لئے مواقع فراہم کئے لےکن ان مواقعوں کو بْنانے مےں حرےت ناکام رہی ۔ حرےت سخت گےرےت اور اعتدال پسندی کے چکر مےں اےسی پھنسی کہ آج تک اس سے باہر نہ آسکی ۔
حرےت کانفرنس مےں ہر بار اتحاد کا نعرہ بلند ہوتا ہے لےکن اندر ہی اندر اتنا بگاڑ پےدا ہوگےا ہے کہ اےک دوسرے پر اعتبار نہےں رہا ۔ 2016مےں بھی حرےت صرف ہڑتالی سےاست تک ہی محدود رہی ۔ مرکز مےں بی ۔ جے ۔ پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے آہستہ آہستہ حرےت کے پر کترنے شروع ہو گئے پہلے دلیکا آفس بند کےا گےا پھر کشمےر مےں بھی مرکزی دفتر کو تالا لگاےا گےا اور آج حرےت حاشیے پر آگئی ہے بات چےت کے سارے راستے بند کردئے گئے ۔ 5اگست 2019کو جب رےاست کی خصوصی پوزےشن ختم کردی گئی تو ناصرف حرےت بلکہ mainstreamسےاست دانوں کو بھی جےلوں مےں بند کردےا گےا ۔ اےسے مےں حرےت کی سےاسی حےثےت داوَ پر ہے ۔ اب گےلانی کے استعفی اور مےر واعظ کی چپی نے حرےت کی داستاں کو سبھی کے سامنے آشکار کر دےا نئے پْر آشوب دور مےں حرےت کوئی رول ادا کر پائے گی ےا نہےں ;238;ےہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا حرےت لےڈروں کی سےاسی حکمت عملی کےا رہے گا وہ تو بعد مےں دےکھا جائے گا فی الحال اس وقت جوابدہی کا دور شروع ہوچکا ہے ۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ویانا، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی جانے والی نئی شرائط نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کو ایک فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔ تہران کے اس مؤقف نے مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اہم مراعات دیے جانے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 7:30 بجے اکتوبر کے لیے برینٹ خام تیل کے فی بیرل مستقبل کے سودوں کی قیمت 84.11 ڈالر تھی، جو 0.7 فیصد زیادہ ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد عالمی بینچ مارک کی قیمت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قائم کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے الجزیرہ کو بتایا، ’’ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاہدے کی عملی تفصیلات سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں خطرے کا اضافی عنصر برقرار ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہر گزرتا دن جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، تاجروں کو مزید محتاط بنا رہا ہے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک معاہدے کے قریب ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور جنگی نقصانات کی تلافی سمیت بعض شرائط پوری کیے جانے تک یہ آبی گزرگاہ دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، لیکن فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں ریکارڈ شدہ تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق 4، 5 اور 6 اگست کو آبنائے ہرمز سے صرف 8 سے 15 بحری جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔
ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اسے آبنائے میں بحری آمدورفت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے، حالانکہ بین الاقوامی بحری قانون میں سمندری راستوں سے آزادانہ آمدورفت کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ ایران نے غیر منظور شدہ راستوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات نے تہران کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کی ملکیت والے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں تجارتی بحری جہازوں سے متعلق کم از کم 64 پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات کا الزام ایران پر عائد کیا گیا ہے۔
توانائی کی منڈیوں میں دوبارہ بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باوجود ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو تیزی دیکھی گئی۔ جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے اہم انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا۔
جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.65 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں یہ تیزی جمعے کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے کے بعد سامنے آئی۔
توقعات سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ اس بات پر مارکیٹ کے شکوک کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے قابلِ عمل معاہدہ کتنی جلد طے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر بالآخر کسی معاہدے کا اعلان بھی ہو جاتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کی مفاہمتیں نازک ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’معاہدہ ہونے کے باوجود دوبارہ صورتحال بدل جانے کا جو خطرہ برقرار رہے گا، اس کے باعث سفارتی پیش رفت کی صورت میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی محدود رہنے کا امکان ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان7 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا9 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 hour agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر8 minutes agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا1 hour agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر10 minutes ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
