دنیا
ہندوستان اور ویشے گراڈ گروپ کے درمیان اسٹریٹجک و اقتصادی تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق، سالانہ وزارتی مذاکرات شروع
نیویارک، ہندوستان اور چار رکنی ویشے گراڈ گروپ (وی 4) نے سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اپنے وزرائے خارجہ کے درمیان سالانہ مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پہلی ایسی میٹنگ کے بعد یہ بات کہی۔
پہلی وی4-انڈیا وزرائے خارجہ میٹنگ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں وی 4 کی سلوواک صدارت کے تحت منعقد ہوئی۔
جے شنکر کے ساتھ میٹنگ میں سلوواکیہ کے وزیر خارجہ و یورپی امور یوراج بلانار، پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ رادوسلاو سِکورسکی، جمہوریہ چیک کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ پیتر ماچِنکا اور ہنگری کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ انیتا اوربان نے شرکت کی۔
افتتاحی وی 4 انڈیا وزرائے خارجہ میٹنگ وسطی یورپی بلاک کی سلوواکیہ کی گردشی صدارت کے تحت منعقد ہوئی، جس کی صدارت سلوواکیہ کے وزیر خارجہ یوراج بلانار نے کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ پہلی وی 4 اور ہندوستان وزرائے خارجہ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے شنکر نے اس اجتماع کو ’’ایک نیا تاریخی موقع‘‘ قرار دیا اور وزرائے خارجہ کی سالانہ ملاقاتوں اور سالانہ بزنس فورم کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا۔
جے شنکر نے کہا، ’’چونکہ خود یورپی یونین کے ساتھ بھارت کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں، اس لیے وی 4 کے ساتھ ہم کچھ خصوصی اقدامات کریں گے اور ایک سالانہ بزنس فورم قائم کریں گے۔ وزرائے خارجہ کی حیثیت سے ہم ہر سال ملاقات کریں گے—یہ اتفاق رائے تھا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور وی4 ممالک ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں بھی زیادہ تعاون کے امکانات تلاش کریں گے اور موجودہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔
وزیر خارجہ نے کہا، ’’دفاع کے شعبے میں تمام وی 4 ممالک کے ساتھ ہماری بہت مضبوط تاریخ رہی ہے۔ ہم اس ریکارڈ اور تعاون کو تازہ کرتے ہوئے اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔‘‘
بات چیت میں خلائی شعبے، رابطہ کاری اور عوام سے عوام کے روابط کو بھی شامل کیا گیا۔ جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کے طلبہ وی 4 کے چاروں ممالک میں موجود ہیں۔
وزرائے خارجہ نے ’’ہندوستان اور ویشے گراڈ گروپ کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے‘‘ کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا اور ہندوستان کے وی 4 کے ہر ملک کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ نیا ’’وی 4-انڈیا فارمیٹ‘‘ وسطی یورپ کے ان چاروں ممالک کے ساتھ بھارت کے موجودہ تعلقات کو ’’مکمل کرنے اور انہیں مزید رفتار دینے‘‘ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
بات چیت میں متعدد شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں ’’تجارت و سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی و اختراع، مضبوط اور لچکدار سپلائی چین، دفاع و سلامتی، رابطہ کاری، تعلیم، نقل و حرکت اور عوام سے عوام کے روابط‘‘ شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ نے ہندوستان اوروی 4 رکن ممالک کے کاروباری اداروں، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان زیادہ رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس سے اقتصادی، تکنیکی اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے یوکرین تنازع اور خلیج کی صورتحال سمیت اہم عالمی پیش رفت پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
پیانگ یانگ، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے پارٹی عہدیداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ’’عصر حاضر کی توقعات‘‘ کے مطابق ملک کی تشہیری اور نظریاتی مہمات کو جدید بنائیں۔ سرکاری میڈیا نے منگل کو یہ اطلاع دی۔
کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق کم جونگ ان نے پیر کو اطلاعاتی شعبے کے عہدیداروں کے لیے منعقدہ پارٹی کی تیسری ورکشاپ سے اختتامی خطاب میں نظریاتی کام کے ’’مضامین، شکلوں، طریقوں اور ذرائع‘‘ کو جدید بنانے سے متعلق ’’اصولی امور‘‘ اور کاموں کی وضاحت کی۔
انہوں نے ’’اطلاعات اور ترغیبی سرگرمیوں اور ثقافتوں کی تخلیق میں جدت‘‘ لانے پر زور دیا اور عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نظریاتی مہمات ’’عصر حاضر، انقلاب اور عوام کی توقعات‘‘ کے مطابق ہوں۔
کم نے خاص طور پر ’’جدید اطلاعاتی اور تکنیکی ذرائع‘‘ استعمال کرتے ہوئے ’’رجعت پسند نظریاتی ثقافت کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکنے‘‘ پر زور دیا۔ اس اقدام کا مقصد بیرونی خیالات اور اثرات کے داخلے کو روکنے کی کوششوں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
کے سی این اے نے بتایا کہ پیر کو اختتام پذیر ہونے والی چار روزہ ورکشاپ میں کم جونگ ان کے ’’انقلابی نظریات‘‘ کی بنیاد پر نظریاتی تعلیم کے علاوہ ’’انقلابی ورثے اور پارٹی کی قیادت کی کامیابیوں‘‘ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
شرکا پر زور دیا گیا کہ ’’عوام کو کوریا کی ورکرز پارٹی کی نویں کانگریس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے متحرک کرنے کے سلسلے میں اطلاعاتی اور تشہیری مہم‘‘ تیز کی جائے، جبکہ نظریاتی کام کو مختلف شعبوں اور اداروں کی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے۔
ورکشاپ میں ’’نظریاتی کام کی نئی شکلوں اور طریقوں‘‘، ’’حقیقت پسندانہ اور پرکشش انداز میں اطلاعاتی کام‘‘ انجام دینے کے طریقوں اور ’’پارٹی کی پالیسی کے تقاضوں کے مطابق بصری معاون ذرائع‘‘ کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ ان کی تاثیر کو زیادہ سے زیادہ بنایا جا سکے۔
رواں سال کی یہ ورکشاپ 2022 میں اس کے آغاز کے بعد تیسری ایسی ورکشاپ تھی۔ کم جونگ ان نے افتتاحی اور اختتامی دونوں تقریبات میں شرکت کی اور دونوں مواقع پر خطاب کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پیزشکیان کے اقوام متحدہ روانہ ہونے کے دوران ایران کی جنگ کا جغرافیہ وسیع ہونے کی وارننگ
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے کسی بھی نئے فوجی حملے سے تقریباً سات ماہ سے جاری تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر مسعود پیزشکیان سفارتی غیر یقینی صورتحال کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو رہے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ترجمان حسین محبی نے کہا کہ امریکہ کے کسی بھی نئے حملے کا جواب ایران اپنے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ’’جنگ کے جغرافیے‘‘ میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی پہلے ہی ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے متعدد اختیارات پر غور کر رہے ہیں، جن میں دوبارہ فوجی کارروائی، اقتصادی دباؤ یا مذاکرات شامل ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ غالباً اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پیزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہوں گے، تاہم ایسی کسی ملاقات کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
پیزشکیان منگل کو تہران سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے، جہاں وہ بدھ کو خطاب کریں گے۔ امریکہ نے ایرانی وفد کے بعض ارکان کے لیے اقوام متحدہ کے سفر کی منظوری دی ہے، تاہم ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ پیزشکیان کی مواصلاتی ٹیم کے ارکان کو امریکی ویزے دینے سے انکار کر دیا گیا۔
ایران سے روانگی سے قبل پیزشکیان نے کہا کہ وہ تہران کے موقف کا ’’مضبوطی سے دفاع‘‘ کریں گے اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو بین الاقوامی برادری کے سامنے ایران کی صورتحال پیش کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اس سے سر بلند ہو کر نکلے اور یہ ہم سب کے لیے باعث عزت اور فخر ہے۔ لہٰذا ہم بین الاقوامی فورمز پر اپنے موقف کا مضبوطی سے دفاع کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم دنیا تک اپنا موقف، اپنی شکایات اور اپنی طاقت پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے ایران میں شہریوں کی ہلاکتوں، جن میں میناب اور لامرد میں بچے بھی شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران تنازع کے دوران ہونے والی ان کارروائیوں کو بھی اٹھائے گا جنہیں وہ خلاف ورزیاں سمجھتا ہے۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اصرار کیا کہ موجودہ شکل میں اقوام متحدہ پر تہران کو ’’کوئی اعتماد نہیں‘‘ ہے۔
عراقچی نے کہا کہ پیزشکیان اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں ایرانی عوام کے حقوق اور مفادات کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور ایران میں ہونے والے تشدد کی مغربی اور یورپی حکومتوں کی جانب سے ناکافی مذمت پر تنقید کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کی تزویراتی پہاڑی چوٹیوں پر قبضے کی لڑائی، ہزاروں مزید افراد بے گھر
صنعاء، یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور حوثی باغی بحیرہ احمر کے قریب تزویراتی اہمیت کی حامل پہاڑیوں پر کنٹرول کے لیے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے نبرد آزما ہیں۔ ایران کے حامی اس گروپ کے رہنما نے امریکہ کو تنازع میں براہ راست فوجی مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے۔
پیر کو ہونے والی جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یہ جھڑپیں ’نیویارک ٹائمز‘ کی اس رپورٹ کے بعد بھی سامنے آئیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کا حکم دیا تھا، لیکن آخری وقت میں یہ حملے منسوخ کردیے۔
حکام کے مطابق حالیہ لڑائی میں کم از کم 674 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 58 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ کے عینی شاہدین کے مطابق حوثیوں نے اس ماہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں، بشمول موخا بندرگاہ، پر قبضہ کرنے کے بعد اب صوبہ تعز اور لحج میں کہبوب پہاڑیوں پر قبضے کے لیے لڑائی شروع کر دی ہے۔ ان تزویراتی بلندیوں سے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں واقع میون جزیرے پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور ان پر کنٹرول حوثیوں کو ساحلی علاقے کو حکومت کے زیر کنٹرول جنوبی علاقوں سے کاٹنے کا موقع دے سکتا ہے۔
الجزیرہ کی تعز سے رپورٹنگ کرنے والی ماہ علی نے کہا، ’’حوثیوں کے موخا میں داخل ہونے، بندرگاہ پر قبضہ کرنے اور بعد میں میون جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ پہاڑی علاقوں کی جانب پیش قدمی یا ایسی کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن سے ان کا عقبی علاقہ محفوظ ہو سکے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’کہبوب اب مرکزی میدانِ جنگ ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی یہی صورت حال برقرار رہ سکتی ہے، کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ تزویراتی طور پر اہم ہے اور یہاں سے میون جزیرے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘‘
یہ لڑائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان امریکہ پر حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے مسلسل زور دے رہے ہیں۔ حوثیوں نے ہفتے کو سعودی دارالحکومت ریاض پر حملے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جو حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد پہلی بار تھا۔تاہم، اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے اب تک سعودی درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔
’نیویارک ٹائمز‘ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ریاض کی جانب سے نئی درخواستوں کے بعد اتوار کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرنے کی تیاری کر لی تھی، لیکن اس نے آخری وقت میں حملے منسوخ کر دیے، حتیٰ کہ فوجی اہلکار طیاروں پر بم لاد رہے تھے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے بھی ایک خطاب میں کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان کی فورسز کے خلاف کارروائی میں اضافے پر غور کر رہا ہے۔
حوثی رہنما نے کہا، ’’علاقائی حالات نے امریکہ اور اسرائیل کو کسی حد تک مصروف کر رکھا ہے، جس سے سعودی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جو یمنی عوام کے خلاف اپنی جارحیت اور ناکہ بندی میں ان کی شرکت چاہتی ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے امریکہ کو کشیدگی بڑھانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو شخص ظالم کی حمایت کرتا ہے، وہ اخلاقی، قانونی اور انسانی طور پر تمام نتائج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے پاکستان اور ترکی سے بھی، جنہوں نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا ہے، تنازع میں ملوث نہ ہونے کی اپیل کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
ہندوستان5 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
جموں و کشمیر3 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
دنیا6 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
جموں و کشمیر3 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا4 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
