تازہ ترین
انتخابی ڈراموں سے عوام کو پرامن جدوجہد سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا
خبراردو:
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد میں بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات پھر واضح کردی کہ کشمیری قیادت اور عوام نے ہر طرح کے نام نہاد انتخابات کو کلی طور پر مسترد کردیا ہے کیونکہ آئین ہند کے تحت انتخابی ڈراموں سے نہ تو مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور نہ ہی ہیئت تبدیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس طرح کے ڈراموں سے عوام کو اُنکے پیدائشی حق، حق خودارادیت کی پر امن جدوجہد سے دستبردار کرایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حریت پسند عوام نے جس طرح نام نہاد بلدیاتی انتخابات کو عملاً مسترد کرکے کلی طور اُس لاحاصل مشق سے دوری اختیار کی ۔ اسی طرح کل17 نومبر کو ہونے جارہے پنچایتی انتخابی ڈرامے کو بھی عملاً مسترد کریں گے اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا یہ تاثر دینا کہ انتخابی عمل سے جموں وکشمیر میں جمہوری ادارے مضبوط اور مستحکم ہونگے جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہے کیونکہ انتخابات وہاں کوئی معنی رکھتے ہیں جہاں واقعی جمہوریت کا بول بالا ہولیکن جہاں مطلق العنانیت ہو، ظلم و جبر کی انتہا ہو، قیادت کی پر امن سرگرمیوں پر قدغن اور پہرے ہوں، نوجوانوں کو چُن چُن کر نشانہ بنایا جارہا ہو اور عوام کے سارے حقوق طاقت کے بل پر سلب کرلئے گئے ہوں جہاں فوج اور سرکاری فورسز کو بے پناہ اختیارات کے تحت کسی بھی شہر ی کے گھر میں گھس کر کسی بھی فرد کو نشانہ بنانے کی کھلی چھوٹ ہو جہاں رہائشی مکانوں کوبموں اور بارود سے کھنڈرات میں تبدیل کئے جاتے ہوں جہاں اپنے حق کے مطالبہ کی پاداش میں برسوں معصوم لوگوں کو جیلوں میں سڑایا جاتا ہو ، جہاں کالے قوانین افسپا اور بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ وغیرہ کے ذریعہ نوجوانوں کو برسوں پابند سلاسل رکھا جارہا ہو ، یہاں تک کہ مزاحمتی خواتین کو بھی فرضی کیسوں میں گرفتار کرکے تہاڑ جیسے جیلوں میں مقید رکھا جاتا ہووہاں جمہوریت کا نام لینا خود حقیقی جمہوریت کی توہین کے مترادف ہے ۔
میرواعظ نے کہا کہ مہذب دنیا میں انتخابات کو ایک جمہوری عمل تصور کیا جاتا ہے اور کوئی بھی باہوش انسان اسکی مخالفت نہیں کرسکتا تاہم جموں وکشمیر میں جب تک حقیقی جمہوریت کو بحال نہ کیا جائے اور اس کے لئے کشمیریوں کے جذبات اور احساسات اور بے پناہ قربانیوں کو مد نظر رکھ کر حق خودارادیت کی بنیاد پر اصل مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات نہ اٹھائے جائیں تب تک نہ تو کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کا تعین ہو سکے گا اور نہ ہی موجودہ غیر یقینی حالات کے اندر تبدیلی آسکے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام یہ انتخابی تماشے 1947 سے آج تک دیکھتے آرہے ہیں ، اس دوران کتنے وزیراعلیٰ آئے اور گئے لیکن مسئلہ اپنی جگہ موجود تھا، ہے اور رہے گا۔میرواعظ نے حکمرانوں کے ان کھوکھلے دعوؤں کو کہ انتخابات سے کشمیر میں تعمیر و ترقی ہوگی اور خوشحالی آئیگی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب کشمیریوں سے ان کے زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا گیا ہے تو تعمیر و ترقی کا کیا مطلب ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں درجنوں قتل عام کے سانحات ہوئے اور بے گناہوں کو تہہ تیغ کیا گیا، ان کے خلاف کتنے ایف آئی آر درج کئے گئے اور کس کس کو سزا دی گئی؟
انہوں نے کہا کہ یہ اس لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ ہندوستانی قانون میں قاتلوں کے تحفظ اور دفاع کی پہلو موجود ہیں اس لئے کشمیری عوام اور قیادت نے مسئلہ کشمیر کے حل تک ہر طرح کے نام نہاد انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ ہمارا بس ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ حق خودارادیت ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق میرواعظ نے عوام کو تلقین کی کہ وہ آج سنیچر وار کو مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے جو ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی کال دی گئی ہے اُس پر عوام من و عن عمل کریں اور اُس کے علاوہ بقیہ دنوں میں جن جن علاقوں میں انتخابی ڈرامے رچائے جارہے ہیں ان علاقوں کے عوام مقامی طور پر احتجاجی ہڑتال کرکے رواں خونین تحریک آزادی کے ساتھ اپنی مکمل ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کریں۔
دریں اثناحریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق بزرگ سیاسی رہنما سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ حیدر پورہ گئے جہاں انہوں نے بزرگ رہنما کے فرزند نسبتی مرحوم غلام حسن مخدومی کی وفات حسرت آیات پر ذاتی طور پررنج و غم کا اظہار کیا اورکچھ وقت بزرگ رہنما کے ساتھ گزار کر انہیں تعزیت اور تسلیت پیش کی۔ اس موقعہ پر میرواعظ نے مرحوم مخدومی کی مغفرت اور جنت نشینی کیلئے ایصال ثواب کیا اور فاتحہ پڑھی۔
دنیا
سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
ٹورنٹو، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی محترمہ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندستان-کینیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر کینیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کینیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔
اجلاس میں کینیڈا اور ہندستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ہندستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ 2 اور نجی بازار فنڈ 2 کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
محترمہ سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، 4 آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ 2018 کے 11.18 فیصد سے کم ہوکر مارچ 2025 میں 2.31 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کینیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
