جموں و کشمیر
جنگ اب کوئی آپشن نہیں،بس تباہی کا پیش خیمہ فتح پسندی نہیں، اب تحمل کا وقت
کشیدگی میںکمی اور مذاکرات وقت کی پکار:پی ڈی پی
سری نگر :جے کے این ایس: جموں وکشمیرمیں دومرتبہ برسراقتداررہنے والی علاقائی جماعت پی ڈی پی نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ اب کوئی آپشن نہیں رہی کیونکہ اس کا مطلب دونوں پڑوسی ممالک کےلئے تباہی ہوگی۔اپنے ماہانہ نیوز لیٹر’اسپیک اپ‘میں، اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کیا جائے، کشیدگی کم کی جائے اور بات چیت کی جائے۔ پی ڈی پی نے کہا کہ جنگ اب کوئی آپشن نہیں ہے؛ یہ دونوں پڑوسیوں کے لئے تباہی ہے ،اگر قیادت موقع پر نہیں اٹھتی ہے۔پارٹی کاکہناہے کہ اب فتح پسندی کا وقت نہیں ہے،اب تحمل کا وقت ہے، تناو میں کمی، مکالمے کاوقت ہے۔گزشتہ دو ہفتوں کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے، پی ڈی پی نے کہا کہ اس مہینے کے چند دردناک دنوں کےلئے، برصغیر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
پارٹی نے کہاکہ میزائل اڑ گئے، ڈرون سرحدوں کے پار گونجنے لگے، اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ پورے دیہات پر اثر انداز ہونے لگے۔ یہ صرف ایک جھڑپ نہیں تھی، یہ پوری جنگ کےساتھ ایک نزدیکی تھی، دونوں طرف کے شہریوں نے قیمت ادا کی، بچے مر گئے، خاندان بھاگ گئے، کھیت کی زمین راتوں رات فوجی چوکیوں میں تبدیل ہوگئی؟ ۔پی ڈی پی نے سوال کیاکہ یہ سب کچھ کس چیز کے لیے؟۔ماہانہ نیوز لیٹر میں کہا گیا ہے کہ جب اس کشیدگی کا مقصد دہشت گردی کا بدلہ لینا اور خودمختاری کا دفاع کرنا تھا، جموں و کشمیر کے لوگ ایک بار پھر کراس فائر میں پھنس گئے۔پی ڈی پی نے کہاکہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ دہشت گردی کا بدلہ لینا تھا، پیغام دینا تھا، خودمختاری کا دفاع کرنا تھا۔ لیکن جب جوہری داو ¿ پر خودمختاری کی بھی حد ہوتی ہے۔ماہانہ نیوز لیٹرمیں مزیدکہاگیاہے کہ ایک بار پھر، جموں و کشمیر کے لوگ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی خواہش اور جغرافیہ کے المیے کے درمیان پھنس گئے ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ کشمیری بھی اپنے مُردوں کو دفن کر رہے ہیں۔پارٹی نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عام لوگ، جو اب بھی کئی دہائیوں کے نقصان سے شفا پا رہے ہیں، امن کی التجا کر رہے ہیں۔
پی ڈی پی نے مزیدکہاہے کہ ہوا سینہ زوری سے گھنی تھی، ضمیر کی نہیں اور جیسے جیسے جنگ کے ڈھول بلند ہوتے گئے، اسی طرح غلط معلومات کا سیلاب بھی بڑھتا گیا۔
ٹیلی ویڑن اسٹوڈیوز بیرکوں میں، سوشل میڈیا میدان جنگ میں تبدیل ہو گئے۔ غیر تصدیق شدہ ویڈیوز،jingoistic ہیش ٹیگز، اور کوریوگرافڈ غصے نے عوامی سطح پر کہا۔پارٹی نے کہا کہ سچائی ایک پروپیگنڈہ جنگ میں نقصان بن گئی جس کا مقصد دلوں کو متاثر کرنا، اختلاف رائے کو خاموش کرنا اور ووٹ حاصل کرنا ہے۔نیوز لیٹرمیں مزید کہا گیا ہے کہ قومی مزاج کو کوئی بھی چیز اس طرح نہیں بخشتی ہے جیسے ایک مضبوط لیڈر کی تصویر جو ایک غیر ملکی دشمن کے خلاف کھڑے ہو، لیکن جب جنگ ایک مہم کا نعرہ بن جائے تو یہ دفاع نہیں رہ جاتا۔ یہ تماشا بن جاتا ہے۔پی ڈی پی نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان دونوں دانتوں سے لیس ہیں، لیکن یہ ہمیشہ غریب، بے آواز اور سرحدی برادریوں کا ہے جن کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خون بہایا جاتا ہے۔ بیلٹ کو کبھی بھی گولیوں کا متبادل نہیں بننا چاہئے اور نہ ہی وہ ہلکی آگ کا بہانہ ہونا چاہئے جسے پوری نسلوں کو بجھانا پڑے۔اس میں مزید کہا گیا کہ ایٹمی نتائج کے ساتھ دھوکہ دہی کا مظاہرہ کرنے میں کوئی بہادری نہیں ہے۔ تین سے چار دن کی موت اور تباہی کے بعد، خوش قسمتی سے، ہم نے جنگ بندی دیکھی اور لوگوں نے آخر کار راحت کا سانس لیا۔پارٹی نے کہا، تاہم، یہ ٹیلی ویڑن سٹوڈیو وارمنگرز کے ساتھ اچھا نہیں ہوا جو اب بھی خون بہا رہے ہیں۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
