جموں و کشمیر
وزیر اعلیٰ کی گریز میں منعقدہ2روزہ قومی قبائلی میلے2025 کی اختتامی تقریب میں شرکت
قبائلی برادریاں ملک کی ثقافتی تنوع کی زندہ رُوح
سرحدی سیاحت مقامی معیشت کو فروغ دینے کیلئے اہم عنصر، امن بہت ضروری :عمرعبداللہ
کہا ریاستی درجہ جموں و کشمیر کا حق ہے اور اسے بغیر کسی تاخیر کے ملنا چاہیے،جلد بحالی کی اُمید
بانڈی پورہ :جے کے این ایس : وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے ضلع بانڈی پورہ کے سرحدی علاقے داوڑ، گریز میں منعقدہ 2روزہ قومی قبائلی میلے2025 کی اختتامی تقریب میں شرکت کی ، قومی قبائلی میلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی گروہوں نے اپنی جاندار ثقافتوں کا مظاہرہ کیا۔وزیر اعلیٰ کے ہمراہ مشیر ناصر اسلم وانی ،ممبراسمبلی زڈی بل سری نگر تنویر صادق اورممبراسمبلی گریز نذیراحمدخان گریزی بھی تھے۔یادرہے لیفٹنٹ گورنرنے بدھ کو داوڑ گریز میں 2روزہ قومی قبائلی میلے کاافتتاح کیاتھاتاکہ دردشینا قبائلی برداری کی ثقافت اوررروایات کو پھراجاگرکیاجائے ۔جے کے این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاست کا درجہ دیا جانا چاہئے، کیونکہ یہ عوام کا حق ہے، جو اس کی بحالی کا انتظار کررہے ہیں۔بانڈی پورہ کے سرحدی علاقے گریز میں داوڑکے مقام پرمنعقدہ 2روزہ قومی قبائلی میلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران، وزیر اعلی ٰعمر عبداللہ نے کہا کہ ہماری قبائلی برادریاں ہندوستان کے ثقافتی تنوع کی زندہ روح ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس طرح کے روایتی ثقافتی میلے تمام خطوں میں اتحاد اور باہمی احترام کے رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ حکومت سرحدی علاقوں میں تعمیراتی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کی وعدہ بند ہے ۔عمرعبداللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال آرٹیکل370 کی سماعت کے دوران ریاست کی بحالی کا ذکر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کا حق ہے اور اسے بغیر کسی تاخیر کے ملنا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب اس تاریخی میلے کی میزبانی کی اہمیت کے بارے میں بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ اس تقریب کو کھلے عام منعقد کرنا اور پورے جوش و خروش کے ساتھ منانا ضروری ہے، جس سے دوسروں کو چیلنجوں کے باوجود خطے کی ثقافتی رونق کا مشاہدہ کرنے کی اجازت دی جائے۔سرحدی سیاحت کے بارے میں وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ جہاں امن بہت ضروری ہے، وہیں کشمیر اور جموں میں سرحدی سیاحت کو بہتر بنانے کے منصوبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سیاحت بے روزگاری کو کم کرنے اور مقامی معیشت کو فروغ دینے میں خاص طور پر دور دراز علاقوں میں سیاحت ایک اہم عنصر ہو سکتی ہے۔رازدان پاس پر گریز تک ٹنل کی تعمیر کے دیرینہ مطالبے پر وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ لگ بھگ 10 کلومیٹر سرنگ قابل عمل ہوگی اور اسے تعمیر کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے ایک عوامی بات چیت کے دوران مقامی لوگوں کے مطالبات تحفظات سنے اور ان کے ازالے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا دورہ دور دراز علاقوں میں شمولیتی ترقی کے لیے حکومت کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
