تجزیہ
سری لنکا بنگلہ دیش اور نیپال،، کیا سے کیا ہوگیا!!
تحریر۔۔ جاوید اختر بھارتی ( تبدیلی کی لہر )
کہاوت ہے کہ گھور اور گھوڑے کے دن ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے گھور کہتے ہیں اس جگہ کو جہاں کوڑے کا انبار لگا رہتا ہو ایسی جگہ ہمیشہ یکساں نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہاں صفائی کرکے عالیشان محل تعمیر ہوسکتا ہے ، سرکاری یا نیم سرکاری دفاتر کی تعمیر ہوسکتی ہے مساجد ومدارس کی تعمیر بھی ہوسکتی ہے اور گھوڑے کے دن ہمیشہ یکساں نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ گھوڑا کبھی سواری ڈھوتا ہے اور کبھی تانگے کھینچتا ہے کبھی اس کی پشت پر کوئی انسان سج سنور کر دولہے کی شکل میں بیٹھتا ہے تو کبھی گھوڑا بادشاہ کی بگھی میں بھی استعمال ہوتاہے معاملہ واضح ہوگیا کہ گھور اور گھوڑے کے دن ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے ۔
حکمراں جب تک یہ سوچتا ہے کہ پورا ملک میرا خاندان ہے اور ملک کا ہر شہری میرے خاندان کا ممبر ہے تو ایسے حکمراں کو انصاف کرنے کا حوصلہ ملتا ہے اور جب ایک حکمراں کو انصاف کرنے کا حوصلہ ملے گا تو یہ پورے ملک کے لئے فخر کی بات ہوتی ہے اور جس حکمران پر ملک کی عوام فخر کرے تو یہ ایک حکمراں کے لئے خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے۔
ایک حکمراں کے لئے ضروری ہے کہ وہ بجلی ، پانی اور سڑک کو ترجیح دے اور روٹی کپڑا ، مکان کو بھی ترجیح دے یہ چھہ چیزیں چھہ خصوصیات ملک کی تعمیر و ترقی کی بنیاد مانی جاتی ہیں ،، نیپال کے حکمراں کے قدم شائد ان راستوں سے بہک چکے تھے ،، قانون و انصاف کی بالادستی قائم کرنے کے بجائے انصاف کا ہی گلا گھونٹا جانے لگا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ صبر کا پیمانہ چھلک پڑا اور عوام سڑکوں پر اتر آئی آگزنی ہوئی قتل وغارت گری ہوئی اور نیپالی حکومت کا وجود تک ختم ہوگیا خدائی لہجے میں بات کرنے کا خواب دیکھنے والے حکمراں آج بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں ۔
حکومت جب تانا شاہی کے راستے پر چلے گی تو عوام سے رابطہ کمزور ہوتا جائے گا اور جب عوام سے رابطہ اور رشتہ کمزور ہوگا تو عوام کے اندر حکومت کے تئیں ناراضگی بڑھے گی اور جب عوام ہی حکومت سے ناراض ہوجائے تو وہی حال ہوتا ہے جو سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کا ہوا ہے ۔
حکومت کی جانب سے عوام کو جو مراعات اور سہولیات فراہم ہونی چاہئے اس مراعات اور سہولیات میں جب کمیشن خوری ہونے لگے گی تو حکومت کی بھی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی اور جب الٹی گنتی شروع ہوگی تو صفر یعنی زیرو پر آنا ہی آنا ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ عدلیہ اور میڈیا پر اپنا شکنجہ نہ کسے کیونکہ حکومت جب عدلیہ اور میڈیا دونوں کو اظہار خیال کی آزادی دے گی تو ایسی صورت میں حکومت کو چار چاند لگے گا۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو مجمع سے ایک شخص کھڑا ہوتاہے اور کہتاہے کہ ائے عمر خطبہ بعد میں دینا پہلے میرے سوال کا جواب دو جتنا کپڑا آپ کو ملا تھا اتنا ہی کپڑا ہمیں بھی ملا ہے لیکن قمیص تو نہیں بن پائی پھر تم تو اتنے تندرست و صحت مند ہو تمہاری قمیص کیسے تیار ہوئی اتنا سننے کے بعد امیر المؤمنین نے سوال کرنے والے کو ڈانٹا پھٹکارا نہیں بلکہ اپنے بیٹے سے کہا کہ بتاؤ میری قمیص کیسے تیار ہوئی تو امیر المؤمنین کے بیٹے نے کہا کہ میرے حصے کا کپڑا اور میرے باپ کے حصے کا کپڑا ملاکر سلا گیا ہے تو اس کی وجہ سے میرے باپ کی قمیص تیار ہوئی،، سوال کرنے والا شخص مطمئن ہوگیا اور کہا کہ ائے عمر اب خطبہ دو ہم سنیں گے۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی کو گورنر بناتے تو اسے ہدایت دیتے کہ تم اونچی پوشاک نہیں پننا ، دروازے پر دربان نہیں رکھنا اور کوئی ملنے آئے تو ملنے سے انکار نہیں کرنا اور کسی فریادی سے سخت لہجے میں بات نہیں کرنا۔
امیر المومنین کے بتائے ہوئے اصول وضوابط اور ہدایت کے مطابق جو حکومت کرے گا تو یقیناً ملک کی عوام کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا اور حکمراں کو بھی عوام کی ناراضگی کا سامنا نہیں پڑے گا لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج کے حکمرانوں کے اندر خوش مزاجی بھرے انداز میں گفتگو کا فقدان پایا جاتا ہے ، سخت سیکیورٹی کے جھرمٹ میں رہتے ہیں ، غریب مزدور عوام سے ملنا پسند نہیں کرتے ہیں ، عہدے و منصب اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں غربت کے خاتمے کا نعرہ لگاتے اور لگواتے ہیں اور جیب و پیٹ اپنا بھرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک میں غربت ، بے روزگاری ، بدعنوانی کا گراف بڑھتا جاتا ہے اور ملک کی عوام بے بس ہوتی جاتی ہے۔
ملک کے وہ ادارے جو حکومت کو آئینہ دکھاتے ہیں ، تنقید برائے اصلاح کے جذبے اور ضابطے کے مطابق کام کرتے ہیں جب حکمراں ایسے اداروں پر شکنجہ کستے ہوئے اپنے مفاد میں استعمال کرنے لگتے ہیں تو عوام کی آواز دبانے کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہی عوام جو اپنے حکمرانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ، کبھی استقبال کرتے ہیں اور کبھی نعرہ لگاتے ہیں وہی عوام سر پر پگڑی اور کفن باندھ کر بے روزگاری ، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف سڑکوں پر آتے ہیں تو راہ میں روکاوٹ کھڑی کرنے جو بھی آتا ہے تو اس کی دھجیاں اڑجاتی ہیں ، اس کے شیش محل میں آگ لگ جاتی ہے ، وزراء کو دوڑا دوڑا کر اس کی اوقات یاد دلا دی جاتی ہے اور اولی جیسے حکمرانوں کا گھمنڈ چکنا چور ہو جاتا ہے ، اقتدار سے بے دخل کردیا جاتاہے اور ملک چھوڑنے پر بھی مجبور کردیا جاتاہے اور یہ سارا منظر نیپال میں دیکھنے کو ملا جبکہ نیپالی حکومت کو شری لنکا اور بنگلہ دیش سے سبق حاصل کرنا چاہئے تھا لیکن نیپالی حکمراں طاقت کے نشے میں چور تھے ، عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ مارتے تھے اور عوام کی آواز کو زبردستی دباتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہاتھی نے ہی مہاوت کی دھجیاں اڑا ڈالی ،، 15 سے پچیس سال کی عمر تعلیم حاصل کرنے والی عمر ہوتی ہے ، اپنے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے والی عمر ہوتی ہے ، اپنے آپ کو تراش کر اپنے اندر نکھار لانے کی عمر ہوتی ہے اسی لئے ایسی عمر میں سڑکوں پر نکلنا احتجاج کرنا اور تشدد کا مظاہرہ کرنا یقیناً غیر مناسب ہے یہ تو تذکرہ شدہ عمر کا ایک پہلو ہے اور اس عمر کا دوسرا رخ اور دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اسی عمر کے لوگوں کو جوان کہا جاتا ہے اور نوجوان کہا جاتا ہے تو یاد رکھیں دینی، مذہبی، سیاسی اور سماجی ہر اعتبار سے یہ ماننا ہوگا کہ جوان اور نوجوان قوم کی ، ملک و ملت کی ، سماج و معاشرے اور سوسایٹی کی عزت و آبرو ہوتا ہے ، قوم اور ملک و ملت کا مستقبل ہوتاہے ، ملک وملت کا سرمایہ ہوتاہے تو جب جوان اور نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتاہے ، قوم کا مستقبل ہوتاہے تو اس کی قدر کرنا چاہئے اس کے جذبات اور احساسات کی صحیح ترجمانی ہونی چاہئے اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو نیپال میں دھواں نہیں اٹھا ہوتا، آگ کے شعلے بلند نہیں ہوئے ہوتے اور سارے جوان اور نوجوان سڑک پر نہیں نکلے ہوتے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نیپال کی معزول شدہ و فرار شدہ حکومت کا طریقہ کار انتہائی گھٹیا منمانہ اور بدعنوانی و بیمانی پر مبنی تھا جس کا احساس طلباء کو ہو گیا اور وہ بدعنوانی میں غرق حکمرانوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے کمر کس لئے اور میدان میں نکل پڑے۔
نیپال میں جو کچھ ہوا اس سے پوری دنیا کے حکمرانوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے ۔
جاوید اختر بھارتی سابق ( سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
