جموں و کشمیر
منوج سنہا نے اے آئی ایف او آر ای آر اے گورننگ کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا
سری نگر، جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ کروڑ اربن چیلنج فنڈ ہمارے شہروں کی تبدیلی اور انہیں ترقی کے مرکز کے طور پر فروغ دینے میں ایک گیم چینجر ثابت ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور پرائیویٹ پلیئرز کو شامل کرنے والی یہ پہل ہندوستان بھر کے 3 سو شہروں کی بحالی کے لیے اختراع کو فروغ دے گی اور ایک مضبوط انفراسٹرکچر معرض وجود میں آئے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں آل انڈیا فورم آف رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹیز (اے آئی ایف او آر ای آر اے) کی گورننگ کونسل کی میٹنگ سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا ’’ ایک لاکھ کروڑ اربن چیلنج فنڈ ہمارے شہروں کی تبدیلی اور انہیں ترقی کے مرکز کے طور پر ترقی دینے میں ایک گیم چینجر ثابت ہو گا۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور پرائیویٹ پلیئرز کو شامل کرنے والی یہ پہل ہندوستان بھر کے 3 سو شہروں کی بحالی کے لیے جدت کو فروغ دے گی اور ایک مضبوط انفراسٹرکچر معرض وجود میں آئے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ اس سیکٹر کو آگے بڑھانے اور بروقت پروجیکٹ ڈیلیوری میں جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ’پوری حکومت‘ کے نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آر ای آر اے ایکٹ 2016 کے ذریعے لائی گئی شفافیت، جوابدہی اور افادیت کو گھر خریداروں کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے اور فوری طور پر شکایات کے ازالے کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سیکٹر کو مزید باضابطہ اور موثر صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے فوری شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
منوج سنہا نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی پیچیدگیوں، اس کے چیلنجز، امکانات اور مواقع پر بھی بات کی۔
انہوں نے پرائیویٹ پلیئرز اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز سے کہا کہ وہ سستی رہائش کو فروغ دینے میں بڑا رول ادا کریں۔
ان کا کہنا تھا ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، رئیل اسٹیٹ سیکٹر وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ تیز رفتار ترقی عام آدمی کی امنگوں سے ہوتی ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو اپنے مرکز میں مساوی ترقی اور شہری تبدیلی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور ان لوگوں کے لیے منصفانہ اور شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے جو اپنے گھر کے مالک ہونے کا خواب دیکھتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’میں یہ بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ شعبہ ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے زیادہ مسابقتی بنے اور۔ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں رہائش کے ضوابط میں یکسانیت اور ہم آہنگی ہونی چاہیے۔‘‘
انہوں نے رئیل اسٹیٹ ڈیولپرز کو بھی تاکید کی کہ وہ ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ کے منصوبوں میں مصروف کارکنوں کے خاندانوں کی صحت اور تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دیں۔
ان کا کہنا تھا ’’جو لوگ ہمارے گھر بنا رہے ہیں ان کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح ہونی چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹیز کے آل انڈیا فورم پر زور دیا کہ وہ نیشنل ریئل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کونسل جیسے ڈیولپر گروپس کے ساتھ کام کریں۔
انہوں نے خریداروں کے لیے ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ پروجیکٹس اور بیداری کی مہمات کی حقیقی وقت میں نگرانی پر بھی زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر اے آئی ایف او آر ای آر اے کے جریدہ اور سالانہ رپورٹ 2024-25 رپورٹ بھی جاری کی۔
یو این آئی ایم افضل۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
