جموں و کشمیر
راجیہ سبھا انتخابات: 3:1 کی اسکور لائن کےساتھ کوئی شکایت نہیں لیکن کچھ حلقوں نے کی خیانت:عمرعبداللہ
نیشنل کانفرنس کاکوئی ووٹ اِدھراُدھر نہیں گیا
منتخب ارکان پارلیمان میں ہر مسئلے بشمول ریاست کی بحالی اور خصوصی حیثیت پربات کریں گے: وزیر اعلیٰ
سری نگر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اورحکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی پر نیشنل کانفرنس کے3:1 کی اسکور لائن کے بارے میں کسی کو شکایت نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ان کی پارٹی کو جمعہ کو پولنگ کے دوران آخری لمحات میں کچھ حلقوں سے خیانت کا سامنا کرنا پڑا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی کے ساتھ دھوکہ ہوا اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ سب جانتے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق حکمراں نیشنل کانفرنس نے تین نشستیں جیتی ہیں، جب کہ بی جے پی نے 2019 میں منسوخی 370،35Aاورتقسیم ریاست کےساتھ جموں وکشمیرکو ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ قراردئیے جانے کے بعد ہونے والے پہلے راجیہ سبھا انتخابات میں ایک نشست حاصل کی تھی۔جے کے این ایس کے مطابقمشہورزمانہ قدرتی آبگاہ ڈل جھیل کے کنارے اور زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع ’نہرو میموریل بوٹنیکل گارڈن‘ کے بیچوں بیچ واقع’ ’باغ گل داﺅد‘ ‘کاباضابطہ افتتاح کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت کرنے والے غیر بی جے پی ایم ایل اے کو کھل کر یہ بتانے کی ہمت ہونی چاہئے کہ انہوں نے چار سیٹوں میں سے ایک سیٹ جیتنے میں پارٹی کی مدد کی۔انہوںنے کہاکہ راجیہ سبھا میں تین ،ایک کے نتیجے کے بارے میں کسی کو شکایت نہیں ہونی چاہیے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے اسے4:0 کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن جیسا کہ میں نے اپنی ایکس پوسٹ (جمعہ کو) میں کہا، ہمیں آخری لمحات میں کچھ حلقوں کی طرف سے دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑا۔انہوںنے دعویٰ کیاکہ اب تقریباً سبھی ان لوگوں کے نام جانتے ہیں جنہوں نے ہمیں دھوکہ دیا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے لیکن وہ ان لوگوں کے نام نہیں بتانا چاہتے جنہوں نے دھوکہ دیا کیونکہ ان کے نام اب تقریباً سبھی جانتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میں اسے یہاں دہرانا ضروری نہیں سمجھتا، لیکن یہ افسوسناک تھا۔ وزیر اعلیٰ نے تاہم اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ تمام نیشنل کانفرنس کے ووٹ برقرار رہے اور صرف پارٹی امیدواروں کوووٹ گئے۔
انہوںنے کہاکہ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ دیا، خاص طور پر کانگریس اور دیگر ساتھیوں کا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہمجھے آخری وقت میں ان لوگوں پر افسوس ہے جنہوں نے ہمیں دھوکہ دیا۔ لیکن میں مطمئن ہوں کہ نیشنل کانفرنس کا ایک بھی ووٹ دوسروں کو نہیں گیا۔ تمام این سی ووٹروں نے ہمارے چیف ایجنٹ کو اپنی پولنگ سلپس دکھائیں، اور ہماری پارٹی کا ایک ووٹ بھی ضائع نہیں ہوا۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ تشویش کی بات ہے کہ بی جے پی نے غیر بی جے پی اراکین سے4 ووٹ حاصل کیے،عمر عبداللہ نے کہا کہ صرف تشویش کی بات یہ ہے کہ وہ ارکان اسمبلی جو نیشنل کانفرنس کی میٹنگوں میں شرکت کرتے تھے اور بی جے پی کےساتھ مل کر کھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو کچھ ہمت دکھانی چاہئے اور کھل کر بتانا چاہئے کہ وہ بی جے پی کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جس طرح ممبراسمبلی ہندواڑہ سجاد لون نے کیا وہ بی جے پی کےخلاف ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے، اور اب پروفیسر کی طرح ریل پیل کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی کچھ مجبوری تھی، وہ بی جے پی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے اور پرہیز کرتے ہوئے کھلے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔عمرعبداللہ نے کہاکہ لیکن جنہوں نے خفیہ طور پر بی جے پی کی مدد کی، انہیں کھلے عام یہ بتانے کی ہمت ہونی چاہیے کہ یا تو انہوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا یا پارٹی کی مدد کے لیے اپنا ووٹ باطل کر دیا۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ پی ڈی پی کی حمایت کے لیے اس کا شکریہ ادا کریں گے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ جس نے بھی نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا اور جس نے بھی پارٹی امیدواروں کی کامیابی کےلئے سخت محنت کی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ نیشنل کانفرنس کے منتخب ارکان پارلیمان میں ہر اس مسئلے پر بات کریں گے جس کا جموں و کشمیر کے لوگوں کو سامنا ہے، بشمول ریاست کی بحالی اور خصوصی حیثیت۔عمرعبداللہ نے کہا کہ صرف ریاست کا درجہ ہی نہیں، وہ خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کے بارے میں قانون سازاسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کے بارے میں بھی بات کریں گے۔ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے دیگر مسائل کو بھی اٹھائیں گے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
