جموں و کشمیر
کشتواڑ تصادم: فوجی جوان شہید، تلاشی آپریشن دوسرے روز بھی جاری
جموں، کشتواڑ کے سنگھ پورہ جنگلی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین ہونے والی شدید جھڑپ میں آٹھ فوجی اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک بہادر فوجی جوان اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے متعدد جنگلی علاقوں کو محاصرے میں لے کر ممکنہ فرار کے تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھا دیے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جھڑپ اتوار کے روز اُس وقت شروع ہوئی جب فوج اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے سونّار گاؤں کے پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مخصوص اطلاع ملنے کے بعد تلاشی کارروائی شروع کی۔ اسی دوران گھات لگا کر بیٹھے دہشت گردوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ اور دستی بم سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں آٹھ فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم پیر کی صبح پیرا جوان حوالدار گجندر سنگھ دورانِ علاج دم توڑ بیٹھا۔
حوالدار گجندر سنگھ کی شہادت پر وائٹ نائٹ کور نے ایک خصوصی بیان میں انہیں اعلیٰ خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی بہادر، فرض شناس اور وطن کے لیے بے مثال قربانی دینے والے اہلکار تھے۔ بیان میں کہا گیا، ’ہم حوالدار گجندر سنگھ کے جرات مندانہ حوصلے اور وطن کے لیے ان کی لازوال قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
فوج، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی کئی ٹیمیں علاقے میں تلاشی کارروائی میں مصروف ہیں جبکہ ڈرون، جدید نگرانی والے آلات اور کھوجی کتوں کی مدد بھی لی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی سمت سے ممکنہ فرار کے امکانات کو ناکام بنایا جاسکے۔ گھنے جنگلات، کھڑی چوٹیاں اور خراب موسم سرچ آپریشن میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تاہم فورسز نے پورے علاقے کو سخت محاصرے میں لے رکھا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 سے 3 دہشت گردوں کا گروپ علاقے میں محصور ہے، جو ممکنہ طور پر پاکستان میں سرگرم جیش محمد سے منسلک بتایا جاتا ہے۔ سرچ آپریشن کو ’آپریشن تراشی-ون‘ کا نام دیا گیا ہے اور فورسز نے اتوار شام کو اندھیرے کے باعث کارروائی روک دی تھی، تاہم پیر کی صبح پہلی روشنی کے ساتھ ہی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا۔
فوج کے مطابق اضافی دستے علاقے میں بھیج دیے گئے ہیں تاکہ گھیرے کو مزید مضبوط کیا جا سکے اور دہشت گردوں کو کسی بھی صورت نکلنے کا موقع نہ مل سکے۔ ایک افسر نے بتایا، ’چیلنجنگ جغرافیہ اور گھنے جنگلات کے باوجود اہلکار پوری پیشہ ورانہ مہارت سے کارروائی میں مصروف ہیں۔ دشمن کی فائرنگ میں زخمی ہونے کے باوجود فورسز کی حوصلہ افزائی کم نہیں ہوئی ہے۔‘
یہ رواں برس جموں خطے میں ہونے والی تیسری بڑی جھڑپ ہے۔ اس سے قبل 7 اور 13 جنوری کو کٹھوعہ کے کہوگ اور نجوٹ جنگلات میں بھی ایسے ہی دو الگ الگ انکاؤنٹر ہوئے تھے جن میں متعدد دہشت گرد مارے گئے تھے۔ گزشتہ برس دسمبر میں ادھم پور کے مجالٹا علاقے میں ایک پولیس افسر بھی جھڑپ کے دوران شہید ہوا تھا جبکہ دہشت گرد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے تھے۔
حکام نے بتایا ہے کہ یوم جمہوریہ کے پیش نظر خطے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور خفیہ ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بیٹھے شدت پسند عناصر مزید دہشت گردوں کو دراندازی کے ذریعے بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں فوج اور پولیس نے جنگلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ابتدا ہی میں ناکام بنایا جا سکے۔
آخری اطلاعات ملنے تک سرچ آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری تھا اور فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ مزید تنگ کر دیا ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ،
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
