جموں و کشمیر
ہم نے ہندوستان کے لئے گولیاں کھائی ہیں، دوبارہ بھی کھانے کو تیار ہیں: فاروق عبداللہ
جموں، نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز جموں میں بلاک صدور اور سیکریٹریز کے دو روزہ کنونشن کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی وادی میں دوبارہ پتھراؤ یا دہشت گردی کو فروغ دینا چاہتی ہیں فاروق عبداللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کی جماعت نے ملک کے ساتھ رہنے کی خاطر قربانیاں دی ہیں اور وہ آج بھی ملک کیلئے ہر طرح کی آزمائش کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا، ’ہم نے ہندوستان کے ساتھ رہنے کیلئے گولیاں کھائی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بھی کھائیں گے۔‘ انہوں نے بی جے پی کے ان لیڈروں کو بھی سخت جواب دیا جنہوں نے جموں کو کشمیر سے الگ ریاستی درجہ دینے کی بات کی تھی۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی بھی ایسی سوچ کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی ریاست کو مزید تقسیم کرنے کے حق میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لداخ کو الگ یونین ٹریٹری بنانے کا کوئی فائدہ وہاں کے عوام کو نہیں ہوا اور آج لداخ کے لوگ خود کہہ رہے ہیں کہ وہ دوبارہ جموں و کشمیر کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے پیر پنچال اور چناب ویلی کو الگ ڈویژن بنانے اور مزید اضلاع قائم کرنے کے مطالبے پر فاروق عبداللہ نے اسے ’ڈکسن پلان کی باقیات‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو دریائے چناب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی جو تجویز اقوام متحدہ کے نمائندہ اوون ڈکسن نے 1950 میں پیش کی تھی، وہ پرانی اور ناقابلِ عمل ہے اور آج بھی کچھ لوگ اسی سوچ کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ اضلاع ہی کافی ہیں، ضرورت صرف بہتر انتظام چلانے کی ہے، نہ کہ نئی انتظامی تقسیم کی۔ بیروزگاری کے مسئلے پر محبوبہ مفتی کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے انہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ بطور وزیراعلیٰ انہوں نے خود اپنے دور میں کون سے اقدامات کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کا رونا رونے والوں نے اپنے دور میں نوجوانوں کیلئے کون سی ٹھوس پالیسیاں بنائیں، یہ بھی عوام جانتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں، اگرچہ کبھی کبھار ان میں اتار چڑھاؤ بھی آیا، تاہم امید ہے کہ یہ رشتہ مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
انہوں نے پاکستان سے بات چیت کے حوالے سے بھی کہا کہ میڈیا کو ’پاکستان فوبیا‘ سے باہر آنا چاہیے اور اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے کہ پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے، اسی لیے مذاکرات اور مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
