تازہ ترین
ہند–امریکہ عبوری تجارتی معاہدہ: ٹیرف میں کمی سے کسے فائدہ ہوگا
نئی دہلی، ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے متوقع عبوری تجارتی معاہدہ بالآخر نافذ ہو گیا ہے، جس سے دوطرفہ تجارتی تناؤ میں محتاط لیکن سیاسی طور پر اہم کمی آئی ہے اور اس سال کے آخر میں ایک زیادہ جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا، جمعہ کی دیر رات طے پانے والے اس عبوری معاہدے کے تحت امریکہ کئی ہندوستانی نژاد اشیاء پر 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ ان اشیاء میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے، پلاسٹک اور ربڑ، نامیاتی کیمیکلز، گھر کی سجاوٹ کا سامان، دستکاری کی مصنوعات اور منتخب مشینری شامل ہیں۔
اگرچہ ٹیرف کو ہٹایا نہیں گیابلکہ اس کی سطح میں کمی ہی کی گئی ہے، تاہم تجزیہ کاروں اور صنعتی اداروں نے اسے پہلے کے مقابلے میں ایک بامعنی کمی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے سابق سکریٹری (اقتصادی تعلقات) پیناک آر چکرورتی نے کہا، ’’ہم نے تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی زرعی مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جیسا کہ کیا جانا چاہیے تھا… لیکن دونوں اطراف سے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عبوری تجارتی معاہدے کے حوالے سے نئی دہلی کے پیغامات کی اولین توجہ یقین دہانیوں پر مرکوز رہی ہے۔ وزیر تجارت پیوش گوئل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے سیاسی طور پر انتہائی حساس زرعی اور ڈیری شعبوں کا ’’مکمل تحفظ‘‘ کرتا ہے۔
وزیر موصوف کا یہ بیان ایک طرف تو ملک کے لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے مکئی، گندم، چاول، ڈیری، پولٹری اور متعلقہ مصنوعات تک بازاررسائی ایک ریڈ لائن (آخری حد) کی حیثیت رکھتی ہےاور دوسری طرف اس سے بین الاقوامی سطح پر اس بات کو اجاگر کرنا بھی مقصود ہے کہ تجارتی مذاکرات میں زرعی تجارت ہندوستان کا سب سے حساس ویٹو پوائنٹ رہے گا۔
ہندوستان کی جانب سے دی گئی رعایتوں کو ابھی تک واضح طور پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق زیادہ تر امریکی برآمدات پر کم ٹیرف لاگو کیے جائیں گے اور بنیادی شعبوں کے مفادات محفوظ رہیں گے۔‘‘ اس کے باوجود، اعلیٰ درجے کی زرعی مصنوعات اور ڈبہ بند خوراک، بشمول سبزیاں، پھل، شراب اور ڈبہ بند اشیاء کو انتہائی مسابقتی ڈیوٹی ریٹس پر داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ اسی طرح اعلیٰ درجے کی آٹوموبائلز اور مشینری بشمول دفاعی اور نیوکلیائی منصوبوں سے متعلقہ مصنوعات کو بھی رسائی ملے گی۔
ہندوستان کے نقطہ نظر سے، بعض اعلیٰ قیمت والی ہندوستانی برآمدی زمرے، جینرک ادویات، جواہرات و ہیرے، اور طیاروں کے پرزوں پر عائد ٹیرف، عبوری معاہدے کے کامیاب نفاذ اور حتمی شکل دینے کی شرط پر ختم کیے جانے والے ہیں۔
امریکہ ان قومی سلامتی سے متعلق ڈیوٹیوں کو بھی ختم کردے گا جو پہلے اسٹیل، ایلومینیم اور تانبے سے متعلقہ اقدامات کے تحت ہندوستانی طیاروں اور طیاروں کے اجزاء پر لگائی گئی تھیں۔ یہ جی ای، بوئنگ اور طیارہ سازی و دفاعی پیداوار سے وابستہ ان متعدد کمپنیوں کے لیے اچھی خبر ہوگی جو ہندوستان میں اپنے مراکز قائم کر چکی ہیں یا اس کا ارادہ رکھتی ہیں۔
توقع ہے کہ فوری فوائد پوری معیشت کے بجائے مخصوص شعبوں تک محدود ہوں گے، لیکن ان میں مزدوروں پر مبنی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی والے دونوں حصے شامل ہیں۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ میں ڈبلیو ٹی اوکے سابق چیئرپروفیسر بسوجیت دھر نے کہا، ’’اس معاہدے کو ایک آغاز سمجھا جا سکتا ہے۔ ٹیرف کی شرحوں پر مزید بات چیت اور مول تول ہوگا۔ تاہم، وہ غیر ٹیرف رکاوٹیں جو پہلے حائل تھیں، اب ختم کی جا رہی ہیں۔‘‘
ہندوستانی جینرک ادویات بنانے والے مینوفیکچررز امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں، جس سے سستی ادویات کے کلیدی سپلائر کے طور پر ہندوستان کے کردار کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
جواہرات اور زیورات کا شعبہ، خاص طور پر ہندوستان کی کٹنگ اور پالش کرنے والی صنعت کو ، اس شعبے میں بڑھتے ہوئے قیمتوں کے مقابلے کے باوجود بہتر منافع مل سکتا ہے اور اس کی برآمدات بھی بڑھ سکتی ہیں۔
طیاروں اور طیاروں کے پرزوں پر ٹیرف کا خاتمہ ہندوستان کے ابھرتے ہوئے ایرو اسپیس ایکو سسٹم کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں مینوفیکچرنگ، دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہال(ایم آر او) آپریشنز اور کل پرزے فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کاروں کے لیے، باہمی ٹیرف کی کم شرح امریکی مارکیٹ میں ان کی مسابقت کو بڑھاتی ہے، خاص طور پر ان مزدوروں پر مبنی زمروں میں جہاں انہیں ویتنام، کمبوڈیا، ترکی اور بنگلہ دیش جیسے کم لاگت والے دیگر پروڈیوسرز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
انڈسٹریل مشینری اور آٹو پارٹس سمیت انجینئرنگ کی اشیاء اور الیکٹرک وہیکل (ای وی) کے پرزے بنانے والی کمپنیوں کو بھی تجارتی رکاوٹوں میں کمی سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے، جبکہ نامیاتی کیمیکلز، پلاسٹک اور ربڑ کی مصنوعات کو بہتر قیمتوں اور مارکیٹ تک آسان رسائی کا فائدہ ملے گا۔
اگرچہ یہ عبوری معاہدہ تمام دیرینہ تجارتی مسائل کو حل نہیں کرتا، لیکن دونوں حکومتوں نے ایک جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کے حصول کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس میں اشیاء، خدمات، ڈیجیٹل تجارت، سرمایہ کاری میں تعاون اور سپلائی چین کی مضبوطی شامل ہوگی۔
ترمیم شدہ ٹیرف کا نفاذ فوری طور پر شروع ہونے والا ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے آپریشنل ہدایات جاری کی جائیں گی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ عبوری معاہدہ ’’کلاسیکی معنوں میں لبرلائزیشن نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نئی ترتیب کی عکاسی کرتا ہے‘‘۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان نے اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ ٹیرف ریلیف اور تزویراتی ہم آہنگی کے بدلے منتخب شعبوں میں ریگولیٹری لچیلا پن دکھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پروفیسر دھرکا کہنا تھا کہ ’’یہی عملی سیاست ہے‘‘۔
فی الوقت، یہ معاہدہ عالمی تجارت کے غیر یقینی حالات میں ہندوستانی برآمد کاروں کو ٹیرف کے حوالے سے ایک حد تک استحکام فراہم کرتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ حتمی معاہدے پر جاری مذاکرات کے درمیان دونوں اطراف سے اس نئے سیاسی عزم کا اشارہ ہے کہ ہند–امریکہ اقتصادی تعلقات کو زیادہ متوقع اور قواعد پر مبنی فریم ورک میں ڈھالا جائے۔
یو این آئی –م ک
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
