تازہ ترین
روزہ چلائے کلان کھٹی میٹھی یادیں چھوڑ کر رخصت،جمعہ دوپہر تک موسم میں بہتری کے امکانات: محکمہ موسمیات
خبراردو:
شدید سردی اور برفانی قہر کے متعدد واقعات کے بعد 40روزہ چلائے کلان بالآخر رخصت ہوا جس دوران وادی سمیت خطہ لداخ میں شدید سردی سے لوگوں کا جینا دوبھر ہوا۔ اس دوران بارشیں، برف باری اور برفانی قہر کی زد میں کئی علاقے آئے جس کے نتیجے میں کئی اموات واقع ہوئی ۔ ادھر شدید سردی کے دوران وادی میں نل، ندی نالے اور آبگاہیں مکمل طور پر منجمد ہوگئیں جس کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
21دسمبر سے شروع ہونے والے انتہائی شدید ترین سرد موسم ’چلائے کلان‘ 40روز کے بعد اختتام پذیر ہوا جس دوران لوگوں کو شدید سردی کا سامناکرنا پڑا۔ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ 17برسوں کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب اہلیان وادی کے قلب و ذہن میں صدیوں پرانی یادیں پھر سے زندہ ہوئیں۔ اس سرد ترین موسم کے دوران وادی اور لداخ کے ساتھ ساتھ صوبہ جموں کے کئی علاقوں میں یومیہ اور شبانہ درجہ حرارت میں انتہائی گراوٹ دیکھنے کو ملی ۔ شہنشاہ زمستان کے نام سے مشہور چلائے کلان کا اگر چہ ریاستی عوام نے روایتی طور پر خیر مقدم کیا تھا تاہم 40روزہ ایام کے دوران اس موسم نے 17برس قبل ریکارڈ توڑتے ہوئے اہلیان وادی کے قلب و ذہن میں پرانی یادیں پھر سے زندہ کردیں۔
شدید سردیوں کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے گھروں میں قبل از وقت ہی خشک سبزیوں، دالوں، اشیائے خوردنی کے علاوہ راشن، رسوئی گیس اور تیل خانی کا خیرہ پہلے سے ہی جمع کیا ہوا تھا تاہم گزشتہ کئی برسوں سے اس موسم نے لوگوں کے درمیان صدیوں پرانی روایات کو محو کردیا تھا تاہم اب کی بار لوگوں نے دوبارہ دہائی قبل ریکارڈ کی گئی سردی کا مزہ چکھا۔وادی کشمیر کے جملہ اضلاع میں سے شہر سرینگر میں اس عرصے کے دوران انتہائی سردی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے اہلیان سرینگر کو کڑاکے کی سردی کے بیچ تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ 40روزہ چلائے کلان کے دوران شہر سرینگر میں کم سے کم رات کا منفی درجہ حرارت 8ڈگری سلیشس ریکارڈ کیا گیا جبکہ سیاحتی مقامات پر بھی برف کی موٹی موٹی چادریں جم جانے کے نتیجے میں زندگی کے شب و روز شل ہوگئے۔چلائے کلان کے دوران وادی کشمیر سمیت خطہ چناب کے کئی علاقوں میں بھاری برف باری بھی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں شہر وگام برف کی سفید چادروں کے نیچے کئی دنوں تک خاموش پڑے رہے۔
ادھر خطہ لداخ کے دراس علاقے میں بھی رات کا منفی درجہ حرارت 28ڈگری تک نیچے آگیا جس کے نتیجے میں امسال کے سرد ترین موسم چلائے کلان نے 17برس قتل ریکارڈ توڑ دیا۔اس دوران وادی میں شدید سردیوں اور برف باری کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے بجلی بھی کافی متاثر رہی جس کے نتیجے میں لوگوں کو انتہائی تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ شمال و جنوب میں بھاری برف باری کے نتیجے میں وادی میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا جس کے نتیجے میں دور افتادہ علاقوں میں ہفتوں تک بجلی کا کہی نام و نشان بھی موجود نہیں پایا گیا۔ ادھر شہر سرینگر میں بھی چند انچ برف گرنے کے نتیجے میں مضافاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں ہاہاکار کا عالم ببا رہا جس دوران عام لوگوں اور تجارتی انجمنوں نے حکومت کی ناقص پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاج کیا۔ادھر چلائے کلان نے اپنے قہر کو جاری رکھتے ہوئے پہاڑی صوبے لداخ اور رام بن میں برفانی تودوں کی زد میں آکر کئی انسانی جانیں تلف ہوئیں۔ صوبہ لداخ میں ایک ٹرک اُس وقت حادثے کی شکار ہوگئی جب وہ برفانی تودے کی زد میں آکر زندہ دفن ہوگئی جس کے نتیجے میں ٹرک میں سوار دس افراد لقمہ اجل بن گئے۔
اسی طرح خطہ چناب کے رام بن علاقے میں بھی گزشتہ ہفتے بھاری برف باری کے بعد برفانی قہر نے4افراد کو زندہ دفن کردیا جس کے بعد برف کے نیچے سے 2افراد کی لاشوں کو نکالا گیا۔ادھر شدید اور سخت سردی کے نتیجے میں شہر و گام میں پانی کے نل، ندی نالے اور آبگاہیں مکمل طور پر منجمد ہوئیں جس کے نتیجے میں صورتحال نے سنگین رخ اختیار کیا۔ادھر محکمہ موسمیات نے جمعہ کی دوپہر تک موسم میں تبدیلی آنے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ جمعہ تک موسم میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے البتہ جمعہ کی دوپہر تبدیلی متوقع ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
