دنیا
شام میں ترک فوجی موجودگی قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: شامی وزیر خارجہ
دمشق، شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے رواں ہفتے کے اوائل میں نشانہ بنائے گئے ابو ال ظہور ایئربیس پر ترک فوجی موجودگی قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
الشیبانی نے بدھ کو امریکی نیوز ادارے ایکسِیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ترک فوجی حکام نے تربیت اور وسیع تر فوجی تعاون کے سلسلے میں ایئربیس کا دورہ ضرور کیا تھا، تاہم انہوں نے ترک فوج کی تعیناتی یا فوجی ڈھانچے کی تعمیر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنصیب بڑی حد تک خالی تھی۔
انہوں نے کہا، ’’وہاں ترک اڈہ قائم کرنے، مستقل ترک فوجی موجودگی رکھنے یا اس مقام پر ترک فوجی تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ بات اسرائیل پر واضح کر چکے ہیں۔
منگل کو اسرائیل نے حلب کے قریب ابو ال ظہور ایئربیس کے رن وے اور اسٹوریج تنصیبات پر آٹھ فضائی حملے کیے تھے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملے مارچ کے بعد شامی حکومت کی تنصیبات پر اسرائیل کی پہلی کارروائی معلوم ہوتے ہیں۔
حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔
الشیبانی نے کہا کہ اسرائیل کے پاس اس تنصیب کو نشانہ بنانے کا کوئی جائز جواز نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں دونوں ممالک کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام میں اضافہ کریں گی۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شام میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کی افواج شام میں سرگرم ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے حملے سے قبل شام کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایئربیس پر ترک فوجی موجودگی کی اجازت نہ دے۔
نیتن یاہو نے بدھ کو کہا، ’’ہمارا پیغام بالکل واضح تھا: ایسا نہ کریں۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے پیغام کو پوری طرح نہیں سمجھا۔‘‘
جمعرات کی صبح اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر الزام لگایا کہ وہ ’’ترکی کو شام میں خطرناک مہم جوئی کی طرف دھکیل رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا، ’’اسرائیل کسی بھی فریق کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘
کاٹز نے مزید کہا کہ اردوان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ترک پارلیمنٹ میں اسرائیل کے خلاف ’’خالی اور گمراہ کن تقاریر‘‘ جاری رکھیں، بجائے اس کے کہ وہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے عزم کو آزمانے کی کوشش کریں۔
ترکی نے شام میں اپنی فوجی پوزیشن کے حوالے سے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’ناقابلِ قبول دعوے‘‘ قرار دیا ہے۔
ترک وزارت دفاع نے جمعرات کو کہا کہ انقرہ شام کو اپنی فوجی صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔
وزارت نے کہا کہ اسرائیل کے حملوں سے قبل یا دوران ایئربیس پر کوئی ترک فوجی وفد موجود نہیں تھا۔ اس نے عالمی برادری سے اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مزید ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا، جنہیں اس نے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
نیٹو کے رکن ترکی نے شامی صدر احمد الشرع کے اہم اتحادیوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ انقرہ اسرائیل پر شام کو غیر مستحکم کرنے اور نئی شامی انتظامیہ کو کمزور کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔
ترکی بارہا عالمی برادری سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور شام کی علاقائی سالمیت کا احترام یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔
گزشتہ سال ترکی اور اسرائیل نے شام میں کسی ممکنہ فوجی تصادم یا واقعے سے بچنے کے لیے رابطے کا ایک نظام بھی قائم کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
تیل کی ترسیل میں تقریباً تین گنا اضافہ، امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت ختم ہونے سے قبل تجزیہ
لندن، کے پلر کے اعداد و شمار کے مطابق، مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مدت کے دوران خلیج سے تقریباً 37 کروڑ 40 لاکھ بیرل تیل باہر منتقل ہوا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے نافذ رہنے کے دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً تین گنا بڑھ گئی، تاہم یہ جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں اب بھی بہت کم رہی۔ یہ بات بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کے تجزیے میں سامنے آئی ہے۔
تجارتی انٹیلی جنس فرم کے پلر (Kpler) کے مطابق، ختم ہو جانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مدت کے دوران خلیج سے تقریباً 37 کروڑ 40 لاکھ بیرل تیل باہر منتقل کیا گیا، جو روزانہ اوسطاً تقریباً 61 لاکھ بیرل بنتا ہے۔
اپریل سے 17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے تک خلیج کے راستے روزانہ اوسطاً 23 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا جا رہا تھا۔
کے پلر کے مطابق، اگرچہ مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم یہ حجم روزانہ تقریباً 40 فیصد تک ہی پہنچ سکا۔ 2025 میں آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل منتقل ہوتا تھا۔
کے پلر میں گلوبل کروڈ اور جیوپولیٹیکل مارکیٹ ڈیٹا کے سربراہ ایمانوئل بیلوسترینو نے کہا کہ معاہدے کے پہلے تین ہفتوں میں ہی نصف سے زیادہ ترسیل ہوئی۔انہوں نے کہا، ’’آخر تک ترسیل کم، غیر واضح اور آبنائے کے پیچھے دوبارہ جمع ہوتی نظر آئی۔‘‘
17 جون کو اعلان کردہ مفاہمتی یادداشت کے بعد یہ معاہدہ پیر کو ختم ہوگیا۔ اس معاہدے کے اعلان سے قبل پاکستان کی معاونت سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی تھی، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار رہنے کے باعث مستقل امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
امریکی اور ایرانی حکام نے مفاہمتی یادداشت کو جنگ کے مستقل خاتمے کی جانب ایک قدم قرار دیا تھا، لیکن اس کی مدت ایسے وقت میں ختم ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے عالمی توانائی کی سپلائی کے اہم ترین راستوں میں سے ایک کی سلامتی پر تشویش برقرار رکھی ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز میں پانچ تجارتی جہازوں پر حملے ہوئے ہیں۔ برطانیہ کے یو کے ایم ٹی او آپریشنز سینٹر کے مطابق، منگل کو عمان کے قریب ایک کارگو جہاز نے نامعلوم سمت سے آنے والے ایک حملے کی زد میں آنے کی اطلاع دی، جس کے نتیجے میں ایک ملاح ہلاک ہوگیا۔
تجارتی بحری جہازوں کے مالکان کی تنظیم انٹرکارگو (INTERCARGO) نے ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت لائبیریا کے پرچم بردار بلک کیریئر مینوآن ڈگنٹی کے عملے کے رکن کے طور پر کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان کا دورۂ ہند ’’موزوں ماحول‘‘ سے مشروط: ہمایوں کبیر
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم طارق رحمان کا مجوزہ دورۂ ہند اسی وقت ممکن ہوگا جب باہمی اعتماد، خودمختاری کے احترام، سفارتی مذاکرات اور ’’باعزت دعوت‘‘ کی بنیاد پر ایک ’’موزوں ماحول‘‘ پیدا کیا جائے۔
کبیر نے کہا کہ ڈھاکہ واضح قومی مفادات کے تعین کے بغیر کسی اعلیٰ سطحی دورے کے انعقاد میں جلد بازی نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 12 اور 13 ستمبر کو ہندوستان میں ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس میں طارق رحمان کی ممکنہ شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی فوری حوالگی کے مطالبے پر ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔
کبیر نے سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’آئندہ برکس سربراہ کانفرنس سے قبل وزیر اعظم کے ہندوستان کا دورہ کرنے کا امکان اس وقت تک کم ہے جب تک مخصوص معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے اور ایک باعزت دعوت کی بنیاد پر موزوں ماحول پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ کو پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نئی دہلی دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والی بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے۔
کبیر کے مطابق، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا مستقبل اور وزیر اعظم کا اعلیٰ سطحی دورہ ہند کی موجودہ قیادت کی سوچ یا طرزِ عمل میں تبدیلی پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی قیادت کو 2024 کی جولائی تحریک کی ’’حقیقت‘‘ اور اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے سیاسی نظریے میں آنے والی بنیادی تبدیلیوں کو سمجھنا ہوگا۔
یہ بیان ہندوستانی ہائی کمشنر دینیش ترویدی کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی دونوں رہنماؤں کی ملاقات چاہتے ہیں اور مجوزہ دورے کے دوران طارق رحمان کو ’’باعزت استقبال‘‘ کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ترویدی نے بنگلہ دیشی کاروباری رہنماؤں اور ہندوستان کی صنعتوں کی نمائندہ تنظیم کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے دورہ کرنے والے وفد کے اعزاز میں ہندوستانی ہائی کمیشن کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ’’وزیر اعظم مودی نے صرف ایک بات کہی ہے: ہمیں ملاقات کرنی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا تھا کہ مودی چاہتے ہیں کہ طارق رحمان کا دورہ ’’یادگار‘‘ ہو۔
شیخ حسینہ کی ہندوستان میں موجودگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سابق وزیر اعظم اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد 5 اگست 2024 کو ہندوستان فرار ہوگئی تھیں اور اس کے بعد سے نئی دہلی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
کبیر نے نئی دہلی کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے حسینہ کو ہندوستانی سرزمین سے سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا سے گفتگو کی اجازت دی، جس سے بنگلہ دیش میں غم و غصہ پیدا ہوا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جن افراد کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہو یا جنہیں سزا سنائی جاچکی ہو، انہیں سیاسی یا میڈیا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہندوستان کے ’’جمہوری آداب‘‘ کے منافی ہے۔ تاہم، ہندوستانی وزارت خارجہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ نئی دہلی میں 5 اگست کو سابق وزیر اعظم کی آن لائن پریس گفتگو یا ان کے بیانات میں ہندوستانی حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔
کبیر نے کہا کہ ڈھاکہ پہلے ہی نئی دہلی کے سامنے سفارتی احتجاج درج کرا چکا ہے اور بنگلہ دیش اپنے بقول ہندوستان کی سرزمین سے ہونے والی ’’بنگلہ دیش مخالف سرگرمیوں‘‘ کو روکنے کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال جاری رکھے گا۔
شیخ حسینہ کو نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے جولائی اور اگست 2024 میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اس کے بعد ڈھاکہ نے ہندوستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اس درخواست کا جائزہ قابلِ اطلاق قوانین اور طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے تحت لیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے لیے خفیہ بحری راہداری قائم کردی: رپورٹ
واشنگٹن، امریکہ نے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک خفیہ بحری راہداری قائم کی ہے، جس کے تحت امریکی قیادت میں ہونے والے آپریشن کے دوران ہر رات 15 سے 20 تیل بردار ٹینکر آبنائے سے گزر رہے ہیں۔ ایکسیوس نے اس کوشش سے واقف دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن کئی ہفتوں سے جاری ہے اور اس میں عمان کے ساحل کے ساتھ واقع جنوبی بحری راستے کو استعمال کیا جارہا ہے۔ امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ اس راہداری کے ذریعے اس وقت خلیج سے روزانہ تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل باہر بھیجا جارہا ہے، جو جنگ سے قبل آبنائے کے ذریعے ہونے والی ترسیل کے حجم کا تقریباً نصف ہے۔
عہدیداروں کے مطابق اس آپریشن سے جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنے اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔
امریکی فوج صرف تیل سے لدے ٹینکروں کو آبنائے سے باہر نکلنے میں سکیورٹی فراہم نہیں کررہی بلکہ خالی ٹینکروں کو بھی بحیرہ عرب سے خلیج فارس میں داخل ہونے میں مدد دے رہی ہے، تاکہ وہ علاقائی تیل پیدا کرنے والے ممالک سے تیل لے کر اسی آبی راستے سے واپس نکل سکیں۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق اس آپریشن کو شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ سے کام کرنے والی ایک ٹاسک فورس، خلیجی خطے کے شراکت داروں کے تعاون سے مربوط کررہی ہے۔
ہر رات بحری جہازوں کو الگ الگ اندر جانے والے اور باہر نکلنے والے قافلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور امریکی فوج کی ہدایات کے مطابق انہیں جنوبی بحری راستہ استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ اس آپریشن میں امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیارے بھی معاونت کررہے ہیں، جو ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ممکنہ حملوں سے جہازوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
عہدیداروں کے مطابق یہ آپریشن امریکی سینٹرل کمانڈ کی دو ہفتوں پر محیط اس مہم کے بعد شروع ہوا جس میں ایرانی ریڈار اور بحری نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں جنوبی بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی کرنے کی تہران کی صلاحیت کم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ایران اب محدود تعداد میں بحال کیے گئے رڈار نظام اور اسلامی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے چلائی جانے والی چھوٹی کشتیوں پر موجود نگرانی کرنے والے اہلکاروں پر انحصار کررہا ہے۔
نتیجتاً ایرانی فورسز بڑی حد تک ایسے علاقوں کی جانب ڈرونز اور کروز میزائل داغ رہی ہیں جہاں انہیں شبہ ہوتا ہے کہ بحری جہاز موجود ہوسکتے ہیں۔
امریکی فورسز نے ان میں سے متعدد حملوں کو ناکام بنایا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی فورسز نے آٹھ ایرانی ڈرونز اور دو کروز میزائل مار گرائے۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بتدریج بڑھ رہی ہے اور روزانہ برآمدات تقریباً ایک کروڑ بیرل تک پہنچ رہی ہیں۔ بعض دنوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران خلیج سے ڈیڑھ کروڑ سے دو کروڑ بیرل تک تیل باہر منتقل کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایکسیوس سے گفتگو میں کہا، ’’آبنائے ہرمز سے بہت بڑی مقدار میں تیل باہر جارہا ہے۔‘‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کررہا اور تہران پر مذاکرات میں ’’وقت ضائع کرنے‘‘ کا الزام عائد کیا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’ایرانیوں میں اب بھی کچھ مزاحمت باقی ہے، لیکن مجموعی طور پر وہ اپنی سابقہ حالت کا محض ایک سایہ رہ گئے ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
ہندوستان1 week agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
دنیا6 days agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoمعروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoکولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
-
جموں و کشمیر6 days agoمحبوبہ نے بی جی ایس بی یو کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کے متاثر ہونے سے پہلے حکومت سے کارروائی کی اپیل کی
