ہندوستان
ای-20 پالیسی کی وجہ سے چینی اور دیگر غذائی اجناس مہنگے، حکومت جائزہ لے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے حکومت کی ای-20 پالیسی کو عوام دشمن اور دور اندیشی کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے کی وجہ سے چینی اور غذائی اجناس مہنگے ہو رہے ہیں، نیز گاڑیوں کے مالکان کو کم مائلیج اور گاڑیوں کی مطابقت سے جڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی ای-20 پالیسی کے باعث عوام کو سڑک اور باورچی خانے، دونوں جگہ اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ گنے اور اناج سے ایتھنول بنانے کی وجہ سے غذائی اشیاء کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 25 لاکھ ٹن چینی کے قابل گنا ایتھنول بنانے میں چلا گیا، جس کی وجہ سے گزشتہ تین مہینوں میں چینی کی قیمت 48 روپے سے بڑھ کر 67 روپے فی کلو اور گڑ کی قیمت 50 روپے سے بڑھ کر 65 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ چاول اور مکئی کا آٹا بھی بالترتیب 16 اور 11 فیصد مہنگا ہوا ہے، جبکہ مویشیوں کی خوراک کی قیمت میں 10.34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ ای-20 کے لیے تیار نہ کی گئی گاڑیوں میں کم مائلیج اور خرابی کا خطرہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایتھنول تیار کرنے والوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے گاڑی مالکان کے پاس پیٹرول کے متبادل محدود کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور 20 فیصد ایتھنول ملانے سے لاگت کم ہونے کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی مسلسل ای-20 کے نام پر ہونے والی بدعنوانی اور اس سے جڑے صارفین کے مفادات کے سوال اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بھی 19 اگست کو ای-20 کے باعث کم مائلیج، گاڑیوں کی مطابقت، صارفین کے محدود متبادلات اور ماحولیاتی نقصان کو لے کر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ای-20 پالیسی کا فوری جائزہ لے اور عوام کو بغیر ایتھنول والے پیٹرول کا متبادل فراہم کرے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
راہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کے مطالبے کے حق میں دہلی کے وسطی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) دفتر کے باہر جمعہ کو دھرنے پر بیٹھ گئے کانگریس ذرائع کے مطابق، متاثرہ ساحل لوچو نے 14 اگست کو اپنے وکلاء کے ساتھ دہلی پولیس کو تحریری شکایت دی تھی لیکن پولیس نے شکایت کا آئی او نمبر دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد 17 اگست کو ای میل اور فون کے ذریعے بھی شکایت پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا لیکن شکایت کی رسید تک نہیں دی گئی۔ راہل گاندھی کا الزام ہے کہ معاملہ قابل دست اندازی جرم سے جڑا ہونے کے باوجود پولیس نے اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی ہے۔ اسی معاملے میں متاثرہ کے ساتھ راہل پہلے مندر مارگ پولیس اسٹیشن پہنچے اور بعد میں ڈی سی پی دفتر پہنچے۔
کانگریس ذرائع نے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کیے جانے کے احتجاج میں راہل ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں اور معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے تک وہاں سے نہ جانے پر اڑے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
آر ایس ایس کو ڈیڑھ ارب لوگوں کی سچائی جاننے کا حق کس نے دیا: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کونشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ ملک کے ڈیڑھ ارب لوگوں کی سچائی جانتا ہے، جبکہ ہر شخص اپنی سچائی خود جانتا ہے انہوں نے سوال کیا کہ آخر آر ایس ایس کو ڈیڑھ ارب لوگوں کی سچائی جاننے کا حق کس نے دیا راہل نے جواہر بھون میں یہاں جمعرات کو سابق وزیر اعظم اور بھارت رتن راجیو گاندھی کے 82 ویں یوم پیدائش پر منعقدہ ‘ہرا بھرا سوراج: راجیو گاندھی کے نقطہ نظر کو خراج عقیدت’ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں نظریاتی لڑائی اسی سوال پر ہے کہ سوراج کو اکثر آزادی کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ اس کا مطلب خود پر حکومت کرنا ہے۔ یہ ذمہ داری اور سوچنے کا طریقہ ہے۔ کوئی شخص دوسرے کو آزادی دے سکتا ہے، لیکن کسی دوسرے کو سوراج نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خود کو گہرائی سے سمجھنا اور دنیا کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کو سمجھنا ہی سوراج ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی چاہتے تھے کہ ملک کا ہر شخص اس راستے پر چلے۔ کوئی شخص انجینئر، باورچی، موچی یا خلاباز بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی پسند کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ حکومت اور ملک کا کام لوگوں کی تخیل کے دروازے کھولنا اور انہیں اپنے منتخب کردہ راستے پر آگے بڑھنے میں مدد کرنا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ گاندھی جی کا سوراج کا نقطہ نظر ایسی مہنگی تعلیم کے نظام کے ساتھ ممکن نہیں ہے اور یہ ایسے ناانصافی پر مبنی امتحانی نظام کے ساتھ بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دو تین لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز مالیاتی نظام ملک کی گہرائی تک نہیں پہنچنے والا ہے اور اس سانچے کا سیاسی نظام بھی گاندھی جی کے نقطہ نظر کے مطابق نہیں ہو سکتا۔
مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ خراب ماحول انسان کو سوراج سے دور کر دیتا ہے اور اس کی قدرتی حالت کو بدل دیتا ہے، جس سے وہ اپنی زندگی ٹھیک سے نہیں جی پاتا۔ گاندھی جی کا ماننا تھا کہ ہر ذی روح ایک منفرد اکائی ہے اور سچائی تک پہنچنے کا اس کا اپنا راستہ ہے۔ اگر وہ خود یہ ماننے لگیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کی سچائی جانتے ہیں تو یہ غلط ہوگا، کیونکہ انہوں نے وہ تجربہ نہیں کیا جو اس شخص نے کیا اور نہ ہی وہ دیکھا ہے جو اس نے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی سچائی جاننے اور اپنی زندگی کا راستہ چننے کا حق ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں سے کہتی ہے کہ ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ آدیواسیوں سے کہتی ہے کہ ان کی زمین لے لی جائے گی اور مخالفت کرنے پر انہیں گولی مار دی جائے گی، جبکہ دلتوں سے کہا جاتا ہے کہ ان کا استحصال اہمیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو کچھ کیا گیا ہے، اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ راہل نے کہا کہ ملک کے ہر شخص کو، چاہے وہ کسی بھی مذہب، ذات، عمر یا صنف کا ہو، یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ اس ملک کا حصہ ہے، یہاں اس سے محبت کی جاتی ہے، اس کا احترام کیا جاتا ہے اور سچائی کی اس کی تلاش اہمیت رکھتی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
لداخ میں قائم کی جائے گی جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی بنچ: شاہ
نئی دہلی، حکومت نے لداخ میں الگ سے ہائی کورٹ یا اس کی مستقل بنچ قائم کرنے کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے وہاں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی بنچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس فیصلے کو منظوری دی گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو یہ معلومات دی۔
امت شاہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ لداخ میں ہائی کورٹ کی بنچ بننے سے وہاں کے لوگوں کی انصاف تک رسائی آسان ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لداخ کی ہمہ جہت ترقی اور آئینی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے پوسٹ میں لکھا، “وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے لداخ میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی ایک بنچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس قدم سے لداخ کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے انصاف تک رسائی آسان ہوگی اور قانونی خدمات کا فائدہ اٹھانے میں لگنے والا وقت کم ہوگا۔ حکومت نے کہا کہ وہ لداخ کی ہمہ جہت ترقی اور آئینی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔”
قابل ذکر ہے کہ لداخ کی سیاسی و سماجی تنظیمیں اور عوام طویل عرصے سے حکومت کے سامنے اپنا یہ مطالبہ رکھ رہے تھے۔ لداخ کے جغرافیائی اعتبار سے دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو قانونی معاملات کے حل کے لیے سری نگر جانا پڑتا ہے جس سے انہیں کافی دشواری اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
جموں و کشمیر7 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں میں عظیم الشان ترنگا ریلی نکالی گئی
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
ہندوستان7 days agoعالمی عدم استحکام کے باوجود سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے ہندستانی معیشت: مرمو
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
دنیا1 week agoکولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
-
جموں و کشمیر7 days agoمحبوبہ نے بی جی ایس بی یو کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کے متاثر ہونے سے پہلے حکومت سے کارروائی کی اپیل کی
