دنیا
امریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کا قومی قرضہ ’’بہت زیادہ‘‘ ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے ایک ’’انتہائی محتاط اور خفیہ منصوبہ‘‘ ہے، جس کے تحت معیشت کی شرحِ نمو کو حکومتی قرضے میں اضافے سے زیادہ تیز کرکے قرضوں کے بوجھ کو کم کیا جائے گاوانس نے نیوز میکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’یقیناً ان کے پاس ایک انتہائی محتاط منصوبہ ہے، جسے امریکہ کے صدر کی حمایت حاصل ہے، تاکہ امریکا اس مقام تک پہنچ سکے جہاں ہماری معیشت ہمارے قرض سے زیادہ تیزی سے ترقی کرے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ وانس نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار بائیڈن انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت ایک ’’قرض کا بم‘‘ چھوڑ کر گئی، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس قرض کے مقابلے میں معاشی ترقی کی رفتار بہتر بنانے کی حکمت عملی موجود ہے۔
بیسنٹ نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا 40 ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے سے معیشت کو ترقی دے کر نکل سکتا ہے۔انہوں نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’’40 ٹریلین ڈالر کی تعداد میں کوئی جادو نہیں ہے، اور ہم ترقی کے ذریعے اس سے نکل سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے وفاقی بجٹ خسارے اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں خسارے کی شرح سے متعلق ’’بہت سی غلط معلومات‘‘ کی بھی تردید کرنے کی کوشش کی۔
محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی قومی قرضہ رواں ہفتے 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرگیا، جو ایک دہائی قبل تقریباً 20 ٹریلین ڈالر کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
2026 کے آغاز میں امریکی قرضہ تقریباً 38.4 ٹریلین ڈالر تھا، جو 18 اگست تک بڑھ کر تقریباً 40.1 ٹریلین ڈالر ہوگیا۔
قرض میں اس اضافے نے واشنگٹن میں حکومتی قرض لینے کی رفتار، بڑھتے ہوئے سود کے اخراجات اور وفاقی مالیات کی طویل مدتی پائیداری سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکی قرضہ 2036 تک تقریباً 64 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
بیسنٹ نے حالیہ اضافے کے ایک حصے کی وجہ فروری میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ٹیرف کی رقم کی عارضی واپسی کو قرار دیا جس میں ٹرمپ کے ہنگامی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر ٹیرف کو ’’اسی سطح‘‘ پر برقرار رکھیں گے اور پیش گوئی کی کہ 2026 میں ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی ’’تقریباً 2025 کے برابر‘‘ ہوگی۔
بیسنٹ نے بعد میں وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’سیکشن 301 کے ٹیرف کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ ہم گزشتہ سال کی ٹیرف آمدنی کی اسی سطح یا اس سے بھی زیادہ پر واپس آجائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ میں چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
واشنگٹن، امریکہ کی مغربی ریاست الاسکا میں ایک دُور دراز رڈار اسٹیشن کے قریب ایک کرائے پر حاصل کیا گیا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے حادثے میں طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں سی این این کی وفاقی ہوابازی انتظامیہ ‘ایف ایف اے’ کے حوالے سے شائع کردہ خبر کے مطابق طیارہ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 12 بج کر 15 منٹ پراینکریج سے روانہ ہوا اور تقریباً 724 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع کیپ نیونہام کی جانب جا رہا تھا۔ طیارہ اپنی منزل کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے۔
الاسکا کمانڈ کے مطابق طیارہ کرائے پر حاصل کیا گیا تھا اور اس میں 8 افراد سوار تھے ۔سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے بھی حادثے میں تمام افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔ ایف ایف اے اور قومی رسل و رسائل سیفٹی بورڈ حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کیپ نیونہام کی تنصیب پر صرف فوجی اور منظور شدہ کرائے کے طیاروں کو اترنے کی اجازت ہے۔
امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ جنرل رابرٹ ڈیوس نے کہا ہے کہ”یہ ہماری فوج اور ان معاشروں کے لئے کہ جن کی ہم خدمت کرتے ہیں ایک تباہ کن نقصان ہے ۔ ہلاک ہونے والے افراد مشکل ماحول میں اہم ذمہ داریاں انجام دینے والے مخلص پیشہ ور تھے۔”
کمانڈ دفتر نے بتایا ہے کہ طیارے میں سوار افراد اور عملے کے نام ان کے اہل خانہ کو اطلاع دینے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین
ایران جنگ میں امریکہ ’’نئے مرحلے‘‘ میں داخل ہوچکا، معاشی دباؤ حکمت عملی کا اہم ہتھیار:وانس
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں ایک ’’نئے مرحلے‘‘ میں داخل ہوچکا ہے، جس میں معاشی دباؤ واشنگٹن کے مقاصد حاصل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن گیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر پابندیاں مزید سخت کردی ہیں اور سفارتی کوششیں بدستور تعطل کا شکار ہیں۔
وانس نے دی کلی ٹریوس اینڈ بک سیکسٹن شو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’اب ہم ایک طرح سے نئے مرحلے میں ہیں، جہاں ہمارے پاس سب سے مؤثر ذریعہ وہ معاشی دباؤ ہے جو ہم ان پر ڈال سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔‘‘
وانس نے کہا کہ واشنگٹن امریکی صارفین پر توانائی کی بلند قیمتوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے تیل اور گیس کی سپلائی بھی بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ اس اضافی معاشی طاقت کو ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’اگر ہم اتنا تیل اور گیس فراہم کرسکیں کہ کچھ امریکیوں کو پٹرول پمپ پر اور توانائی کی قیمتوں میں کچھ ریلیف ملے،‘‘ تو اس سے ایران پر ’’بہت زیادہ معاشی دباؤ‘‘ بھی پڑے گا اور اس کے فیصلوں پر اثر پڑے گا۔
وانس نے تسلیم کیا کہ اس حکمت عملی میں ’’ایک نازک توازن‘‘ برقرار رکھنا ہوگا، کیونکہ ایران جوابی کارروائی کے طور پر امریکہ پر بھی معاشی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق واشنگٹن کا خیال ہے کہ مسلسل معاشی دباؤ ایران کو اپنی جوہری صلاحیت دوبارہ بحال کرنے سے روکنے کے حتمی مقصد کی جانب بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
وانس کا یہ بیان امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (او ایف اے سی ) کی جانب سے ایران سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں مزید 10 افراد کو شامل کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایران پر ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ عائد کرے گا اور اس مہم کو امریکی اتحادیوں کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کرے گا۔
بیسنٹ نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’معاشی دباؤ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے تمام اتحادیوں کے پاس جائیں گے، اور یہ دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی مربوط معاشی تنہائی کی مہم ہوگی۔‘‘
معاشی دباؤ میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کی دھمکی دی ہے، جبکہ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس کا فوجی ردعمل زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کی جانب سے وسیع تر معاشی مہم کی دھمکی کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان اقدامات کا حکم دینے یا انہیں نافذ کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات چلائے جاسکتے ہیں اور انہیں سزا دی جاسکتی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام میں ترک فوجی موجودگی قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: شامی وزیر خارجہ
دمشق، شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے رواں ہفتے کے اوائل میں نشانہ بنائے گئے ابو ال ظہور ایئربیس پر ترک فوجی موجودگی قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
الشیبانی نے بدھ کو امریکی نیوز ادارے ایکسِیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ترک فوجی حکام نے تربیت اور وسیع تر فوجی تعاون کے سلسلے میں ایئربیس کا دورہ ضرور کیا تھا، تاہم انہوں نے ترک فوج کی تعیناتی یا فوجی ڈھانچے کی تعمیر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنصیب بڑی حد تک خالی تھی۔
انہوں نے کہا، ’’وہاں ترک اڈہ قائم کرنے، مستقل ترک فوجی موجودگی رکھنے یا اس مقام پر ترک فوجی تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ بات اسرائیل پر واضح کر چکے ہیں۔
منگل کو اسرائیل نے حلب کے قریب ابو ال ظہور ایئربیس کے رن وے اور اسٹوریج تنصیبات پر آٹھ فضائی حملے کیے تھے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملے مارچ کے بعد شامی حکومت کی تنصیبات پر اسرائیل کی پہلی کارروائی معلوم ہوتے ہیں۔
حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔
الشیبانی نے کہا کہ اسرائیل کے پاس اس تنصیب کو نشانہ بنانے کا کوئی جائز جواز نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں دونوں ممالک کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام میں اضافہ کریں گی۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شام میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کی افواج شام میں سرگرم ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے حملے سے قبل شام کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایئربیس پر ترک فوجی موجودگی کی اجازت نہ دے۔
نیتن یاہو نے بدھ کو کہا، ’’ہمارا پیغام بالکل واضح تھا: ایسا نہ کریں۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے پیغام کو پوری طرح نہیں سمجھا۔‘‘
جمعرات کی صبح اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر الزام لگایا کہ وہ ’’ترکی کو شام میں خطرناک مہم جوئی کی طرف دھکیل رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا، ’’اسرائیل کسی بھی فریق کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘
کاٹز نے مزید کہا کہ اردوان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ترک پارلیمنٹ میں اسرائیل کے خلاف ’’خالی اور گمراہ کن تقاریر‘‘ جاری رکھیں، بجائے اس کے کہ وہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے عزم کو آزمانے کی کوشش کریں۔
ترکی نے شام میں اپنی فوجی پوزیشن کے حوالے سے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’ناقابلِ قبول دعوے‘‘ قرار دیا ہے۔
ترک وزارت دفاع نے جمعرات کو کہا کہ انقرہ شام کو اپنی فوجی صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔
وزارت نے کہا کہ اسرائیل کے حملوں سے قبل یا دوران ایئربیس پر کوئی ترک فوجی وفد موجود نہیں تھا۔ اس نے عالمی برادری سے اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مزید ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا، جنہیں اس نے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
نیٹو کے رکن ترکی نے شامی صدر احمد الشرع کے اہم اتحادیوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ انقرہ اسرائیل پر شام کو غیر مستحکم کرنے اور نئی شامی انتظامیہ کو کمزور کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔
ترکی بارہا عالمی برادری سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور شام کی علاقائی سالمیت کا احترام یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔
گزشتہ سال ترکی اور اسرائیل نے شام میں کسی ممکنہ فوجی تصادم یا واقعے سے بچنے کے لیے رابطے کا ایک نظام بھی قائم کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں میں عظیم الشان ترنگا ریلی نکالی گئی
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ نے بی جی ایس بی یو کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کے متاثر ہونے سے پہلے حکومت سے کارروائی کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
دنیا1 week agoامریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
ہندوستان7 days agoعالمی عدم استحکام کے باوجود سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے ہندستانی معیشت: مرمو
