دنیا
آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک جنگ سے قبل کی سطح کے ایک معمولی حصے تک محدود
لندن، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی جنگ سے قبل کی سطح کے ایک معمولی حصے تک محدود ہوگئی ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے سے صرف 21 جہاز اندر داخل ہوئے جبکہ 18 جہاز باہر نکلے۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے دوران بحری ٹریفک میں مختصر اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس میں تیزی سے کمی آگئی۔
اگست کے پہلے ہفتے تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک جنگ سے قبل کی اوسط کا تقریباً 4 فیصد رہ گئی تھی۔
کے پلر کے اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو صرف تقریباً سات جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرے، جو گزشتہ 10 دن کی اوسطاً روزانہ 11 جہازوں کی آمدورفت کا تقریباً دو تہائی ہے۔ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے۔
بحری ٹریفک میں یہ نمایاں کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کسی بامعنی مذاکرات کی بحالی کے بغیر ختم ہوگئی، جس کے نتیجے میں دونوں فریق مسلسل دھمکیوں اور بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اگرچہ سفارتی تعطل کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ میں امریکہ اور ایران کے بڑے حملے بڑی حد تک رک گئے ہیں، تاہم یو کے ایم ٹی او اب بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہا ہے۔
دستیاب بحری اعداد و شمار سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ جہاز سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی مرضی سے آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں یا ایرانی حکام انتظامی یا سکیورٹی اقدامات کے ذریعے بحری آمدورفت محدود کر رہے ہیں۔
تاہم، دونوں صورتوں میں نتیجہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک سے توانائی کی ترسیل میں مسلسل نمایاں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
بحری آمدورفت میں خلل نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے اور طلب میں اضافے اور رسد میں اتار چڑھاؤ کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔
ایران کے لیے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں کمی سے ان آمدنیوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے جو اس کی فوجی اور علاقائی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
تاہم طویل عرصے تک جاری رہنے والی رکاوٹ عالمی تجارت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے اور خطے میں بحری سلامتی برقرار رکھنے کے لیے امریکہ پر دباؤ مزید بڑھا سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ ’مضبوط اور باوقار‘ حالت میں ختم ہونی چاہیے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کو کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بالآخر ختم ہونی چاہیے اور ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ یہ جنگ اس وقت ختم کرے جب وہ اپنی برتری برقرار رکھتا ہو۔
پزشکیان نے ایران کی میڈیکل کمیونٹی کی اسلامی ایسوسی ایشن کی 31ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’بہتر ہے کہ جنگ آج ختم کردی جائے، جب ہم مضبوط اور باوقار ہیں۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی برادری نے ایران کی فتح کو تسلیم کیا ہے اور اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث امریکہ کو بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پزشکیان نے ایران میں بڑھتی ہوئی عوامی بے اطمینانی کا بھی اعتراف کیا، جہاں جنگ کے باعث پہلے سے موجود شدید معاشی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر معاشرے میں بے اطمینانی یا شکایات موجود ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے وہ اقدامات نہیں کیے جو ہمیں کرنے چاہیے تھے۔‘‘
صدر نے امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کی ناکہ بندی کے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے ملک کی درآمدات اور برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے ایران میں ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کے تسلسل پر بھی سوال اٹھایا اور حکومت کی جانب سے پٹرول خریدنے کی لاگت اور عوام کو فروخت کی جانے والی قیمت کے درمیان بڑے فرق کی نشاندہی کی۔
پزشکیان نے سوال کیا، ’’کس نے کہا کہ حکومت کو پٹرول 130,000 تومان (0.10 ڈالر) میں خریدنا چاہیے اور پھر اسے 1,500 تومان (0.0011 ڈالر) میں فروخت کرنا چاہیے‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی سبسڈی جاری رکھنے سے حکومت کے پاس خوراک پر سبسڈی اور انشورنس سمیت دیگر ضروری پروگراموں کے لیے کافی مالی وسائل نہیں بچیں گے، جس سے مزدوروں، ریٹائرڈ افراد اور سرکاری ملازمین کے معاش کا تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کو تقریباً چھ ماہ گزرنے کے بعد ایرانی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ متعدد پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی نے ملک کے لیے اپنی اہم ترین آمدنی، تیل، برآمد کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرنے کے باعث ایران بین الاقوامی پابندیوں کو ناکام بنانے کے طریقوں میں ماہر سمجھا جاتا ہے، تاہم تہران اب پابندیوں میں نرمی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
ساتھ ہی ایران آبنائے ہرمز پر اتنا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ان بحری جہازوں سے محصولات وصول کرسکے جو توانائی اور دیگر اشیا منتقل کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ میں چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
واشنگٹن، امریکہ کی مغربی ریاست الاسکا میں ایک دُور دراز رڈار اسٹیشن کے قریب ایک کرائے پر حاصل کیا گیا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے حادثے میں طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں سی این این کی وفاقی ہوابازی انتظامیہ ‘ایف ایف اے’ کے حوالے سے شائع کردہ خبر کے مطابق طیارہ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 12 بج کر 15 منٹ پراینکریج سے روانہ ہوا اور تقریباً 724 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع کیپ نیونہام کی جانب جا رہا تھا۔ طیارہ اپنی منزل کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے۔
الاسکا کمانڈ کے مطابق طیارہ کرائے پر حاصل کیا گیا تھا اور اس میں 8 افراد سوار تھے ۔سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے بھی حادثے میں تمام افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔ ایف ایف اے اور قومی رسل و رسائل سیفٹی بورڈ حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کیپ نیونہام کی تنصیب پر صرف فوجی اور منظور شدہ کرائے کے طیاروں کو اترنے کی اجازت ہے۔
امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ جنرل رابرٹ ڈیوس نے کہا ہے کہ”یہ ہماری فوج اور ان معاشروں کے لئے کہ جن کی ہم خدمت کرتے ہیں ایک تباہ کن نقصان ہے ۔ ہلاک ہونے والے افراد مشکل ماحول میں اہم ذمہ داریاں انجام دینے والے مخلص پیشہ ور تھے۔”
کمانڈ دفتر نے بتایا ہے کہ طیارے میں سوار افراد اور عملے کے نام ان کے اہل خانہ کو اطلاع دینے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کا قومی قرضہ ’’بہت زیادہ‘‘ ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے ایک ’’انتہائی محتاط اور خفیہ منصوبہ‘‘ ہے، جس کے تحت معیشت کی شرحِ نمو کو حکومتی قرضے میں اضافے سے زیادہ تیز کرکے قرضوں کے بوجھ کو کم کیا جائے گاوانس نے نیوز میکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’یقیناً ان کے پاس ایک انتہائی محتاط منصوبہ ہے، جسے امریکہ کے صدر کی حمایت حاصل ہے، تاکہ امریکا اس مقام تک پہنچ سکے جہاں ہماری معیشت ہمارے قرض سے زیادہ تیزی سے ترقی کرے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ وانس نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار بائیڈن انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت ایک ’’قرض کا بم‘‘ چھوڑ کر گئی، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس قرض کے مقابلے میں معاشی ترقی کی رفتار بہتر بنانے کی حکمت عملی موجود ہے۔
بیسنٹ نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا 40 ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے سے معیشت کو ترقی دے کر نکل سکتا ہے۔انہوں نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’’40 ٹریلین ڈالر کی تعداد میں کوئی جادو نہیں ہے، اور ہم ترقی کے ذریعے اس سے نکل سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے وفاقی بجٹ خسارے اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں خسارے کی شرح سے متعلق ’’بہت سی غلط معلومات‘‘ کی بھی تردید کرنے کی کوشش کی۔
محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی قومی قرضہ رواں ہفتے 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرگیا، جو ایک دہائی قبل تقریباً 20 ٹریلین ڈالر کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
2026 کے آغاز میں امریکی قرضہ تقریباً 38.4 ٹریلین ڈالر تھا، جو 18 اگست تک بڑھ کر تقریباً 40.1 ٹریلین ڈالر ہوگیا۔
قرض میں اس اضافے نے واشنگٹن میں حکومتی قرض لینے کی رفتار، بڑھتے ہوئے سود کے اخراجات اور وفاقی مالیات کی طویل مدتی پائیداری سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکی قرضہ 2036 تک تقریباً 64 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
بیسنٹ نے حالیہ اضافے کے ایک حصے کی وجہ فروری میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ٹیرف کی رقم کی عارضی واپسی کو قرار دیا جس میں ٹرمپ کے ہنگامی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر ٹیرف کو ’’اسی سطح‘‘ پر برقرار رکھیں گے اور پیش گوئی کی کہ 2026 میں ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی ’’تقریباً 2025 کے برابر‘‘ ہوگی۔
بیسنٹ نے بعد میں وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’سیکشن 301 کے ٹیرف کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ ہم گزشتہ سال کی ٹیرف آمدنی کی اسی سطح یا اس سے بھی زیادہ پر واپس آجائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ نے بی جی ایس بی یو کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کے متاثر ہونے سے پہلے حکومت سے کارروائی کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں میں عظیم الشان ترنگا ریلی نکالی گئی
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
ہندوستان1 week agoعالمی عدم استحکام کے باوجود سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے ہندستانی معیشت: مرمو
-
دنیا1 week agoنیپال کے رولپا میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی، 3 افراد تاحال لاپتہ
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
دنیا1 week agoامریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
