پاکستان
سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل
اسلام آباد، سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد کے ایک اسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں قانونی حراست میں واپس بھیجے جانے کے لیے طبی طور پر فِٹ قرار دیا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر بتایا کہ ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر فِٹ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’اس پورے عمل کی تکمیل کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔‘‘
عمران خان کو جمعہ کی صبح طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بتایا کہ یہ منتقلی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمل میں آئی، جس میں طویل عرصے سے زیرحراست عمران خان کی بگڑتی صحت کے حوالے سے ان کے حامیوں کے مطالبے پر توجہ دی گئی تھی۔
پی ٹی آئی نے صحافیوں کو جاری ایک پیغام میں کہا کہ ’’سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔‘‘
عمران خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ تین سال سے زائد عرصے کی قید کے باعث ان کی صحت خراب ہوئی ہے اور ان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ طبی رپورٹس میں ایسی کوئی بیماری سامنے نہیں آئی جس کے لیے فوری علاج درکار ہو۔
سپریم کورٹ نے منگل کو حکام کو حکم دیا تھا کہ 73 سالہ عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں ذاتی معالج سمیت طبی ماہرین کے پینل سے معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے انہیں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی حکم دیا تھا، جن سے وہ مبینہ طور پر کئی ماہ سے نہیں مل سکے تھے۔تاہم عطا اللہ تارڑ نے بعد میں کہا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ’’پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال‘‘ کے باعث کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق شفا انٹرنیشنل کے اطراف کا علاقہ رکاوٹیں کھڑی کرکے سیل کردیا گیا تھا اور وہاں سخت سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔ بعض پی ٹی آئی کارکن عدالتی احکامات اور پارٹی رہنماؤں کی تنبیہ کے باوجود اسپتال کے راستے اور باہر جمع ہوگئے تھے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے سوال اٹھایا کہ آیا سپریم کورٹ کے حکم پر ’’اس کی حقیقی روح کے مطابق‘‘ عمل کیا گیا یا اسے محض تشہیر کے لیے ایک ’’سطحی مشق‘‘ تک محدود رکھا گیا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان ان کے ساتھ اسپتال گئی تھیں اور طبی معائنے کے دوران موجود رہیں۔ ان کی ایک اور بہن نورین خان نے منگل کی شب جیل میں ان سے ملاقات کی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ججز قیدی کی ’’زندگی، صحت، وقار اور سلامتی‘‘ کے تحفظ کی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری سے آگاہ ہیں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ عمران خان کے علاج میں ماہر امراض چشم کو شامل کیا جائے۔
عمران خان کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ جیل حکام کی جانب سے طبی مسئلے کو نظر انداز کیے جانے کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں 100 سے زائد مقدمات کا سامنا ہے، جن میں ریاستی راز افشا کرنے اور سرکاری تحائف کی فروخت سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں۔ وہ مسلسل ان مقدمات کو ’’سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے‘‘ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔
سابق کرکٹر عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے، جب انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
ان کی گرفتاری اور قید کے خلاف ان کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا، جس کے خلاف حکام نے سخت کریک ڈاؤن کیا۔
قید میں ہونے کے باوجود عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک انتہائی مقبول شخصیت ہیں اور انہیں بڑی تعداد میں عوامی حمایت حاصل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سابق وزیر اعظم عمران خان علاج کےلیے جیل سے ہسپتال منتقل
اسلام آباد، پاکستان کی عدالت عالیہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی علاج کے لیے جیل حکام کی جانب سے ہسپتال منتقل کرنے اور کیس کی اگلی سماعت یعنی 16 ستمبر تک ہسپتال میں رہنے کی اجازت دینے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی سپریم کورٹ کے بینچ جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں انہوں نے حکومت کو حکم دیا کہ عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
یہ درخواستیں عمران خان کی ہمشیرہ اور ماہر جراح ڈاکٹر عظمیٰ خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جیل میں ان کی صحت بگڑ رہی ہے اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس لیے انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔
عدالت نے 73 سالہ سابق وزیر اعظم کے معائنے اور علاج کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ طبی معائنے اور علاج کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ خان اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان موجود رہیں۔ اس کے علاوہ حکام کو عمران خان کی ان کے اہل خانہ سے ملاقاتیں یقینی بنانے کا بھی حکم دیا گیا۔
اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی ‘روح اور الفاظ’ کے ساتھ عمل درآمد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پارٹی نے اب یہ محسوس کر لیا ہے کہ عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں۔
چوہدری نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ہر کوئی عدالتوں کے ذریعے ہی رہا ہوا ہے اور عدلیہ قانونی چارہ جوئی اور ریلیف کے لیے بہترین راستہ بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیر اعظم کو ان کی پارٹی کی جانب سے درخواست نہ ہونے کے باوجود بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔
عمران خان متعدد مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔
2018 میں اقتدار میں آنے والے سابق کرکٹر اپنی مدتِ ملازمت پوری ہونے سے تقریباً ایک سال قبل اپریل 2022 میں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک ہار گئے تھے۔
تب سے انہیں توشہ خانہ اور بد عنوانی سے متعلق مقدمات سمیت متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔
ان کی کچھ سزائیں معطل یا کالعدم ہو چکی ہیں جبکہ کئی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
اسلام آباد، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں جیل میں بند سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے بانی عمران خان کو اگلے 48 گھنٹوں کے اندر بہتر علاج کے لیے اسلام آباد کے ایک اسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
سابق وزیر اعظم خان کی پارٹی نے منگل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس کا اعلان کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ حکم خان کی بگڑتی صحت سے متعلق دائر درخواست کے بعد جاری کیا۔ عدالت نے اسپتال میں ماہرین کا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی جس میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان شامل ہوں گے۔ عدالت نے جیل حکام کو ان کے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تاریخی فیصلے سے راحت کی کرن آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ خان صاحب کی صحت سب سے اہم ہے اور انہیں شفا اسپتال بھیجا جائے، ان کے ذاتی معالج اور خاندان کے افراد کو میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کی ہدایت ہمارے لیے ایک بڑا یقین دہانی ہے’۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فتح ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “عمران خان ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں، یہ عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے، اگرچہ 9 اپریل 2022 سے ہونے والی ناانصافیوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم آئینی حقوق اور مکمل انصاف کا مطالبہ کرتے رہیں گے”۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان فیصلے پر انتہائی جذباتی ہوگئیں اور کہا کہ ہم انصاف کی امید تقریباً کھو چکے تھے، ہمیں صرف اللہ پر بھروسہ تھا، آج عدالت نے اسپتال میں خان صاحب کا مکمل چیک اپ کرنے کا حکم دیا، جس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگست 2023 سے جیل میں بند 73 سالہ عمران خان کی صحت اور خاص طور پر ان کی آنکھوں کے بارے میں خدشات جاری تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پارٹی کے حامیوں اور ان کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران کی موت کے حوالے سے بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں اور عدالت کے اس حکم کے بعد ان سب پر روک لگ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ نے بی جی ایس بی یو کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کے متاثر ہونے سے پہلے حکومت سے کارروائی کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں میں عظیم الشان ترنگا ریلی نکالی گئی
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
ہندوستان7 days agoعالمی عدم استحکام کے باوجود سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے ہندستانی معیشت: مرمو
-
دنیا1 week agoنیپال کے رولپا میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی، 3 افراد تاحال لاپتہ
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
دنیا1 week agoامریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
