تازہ ترین
پی ڈی پی نے بھاجپا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا: محبوبہ مفتی
خبراردو:
پی ڈی پی صدر اور ریاست کی سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کو شمالی ضلع بانڈی پورہ میں پارٹی ورکروں کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سابق مخلوط حکومت کے دوران پی ڈی پی نے بھاجپا کی ناک میں نکیل ڈال کر اُن کی من مانیوں پر قدغن عائد کی۔ انہوں نے بتایا کہ بھاجپا چاہتی تھی کہ میں حریت کانفرنس پر سرگرمیوں پر پابندی عائد کردوں تاہم میں نے بی جے پی کے ڈکٹیشن کو قبول نہیں کیا۔ پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے بی جے پی اس بات کی خواہش مند تھی کہ وہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ حریت کانفرنس کا وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرے تاہم پی ڈی پی نے بھاجپا کی ناک میں نکیل ڈال کر اُن کی من مانیوں کو چلنے نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے سابق محلوط حکومت کے دوران بھاجپا کے کشمیر دشمن ایجنڈے کو ناکام بناتے ہوئے اُن کی خواہشات کو روبہ عمل لانے کی اجازت نہیں دی۔یک روزہ پارٹی ورکروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بی جے پی چاہتی تھی کہ وہ جماعت اسلامی کا کریک ڈاؤن کرنے کے علاوہ علیحدگی پسند قیادت کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعے خوف زدہ کرے لیکن ہماری پارٹی نے بھاجپا کی منصوبوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا۔
پی ڈی پی صدر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بھاجپا ریاست میں پرامن آواز کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال میں لانا چاہتی تھی جس کے لیے وہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کو استعمال کرنا چاہتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بھاجپا ریاست میں علیحدگی پسندوں کو دبانے ، ہراساں کرنے اور ان کی آواز کو کمزور کرنے کی خاطر این آئی اے کو استعمال میں لانا چاہتی تھی۔ بی جے پی کی خواہش تھی کہ وہ حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق، حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور دیگر علیحدگی پسند لیڈران پر این آئی اے کا کریک ڈاؤ ن شروع کیا جائے تاہم پی ڈی پی نے بی جے پی کے کسی بھی منصوبے کو خاک میں ملاتے ہوئے انہیں ناکام و نامراد کردیا۔پی ڈی پی صدر نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ریاست قائم تحقیقاتی ایجنسیوں بشمول پوٹا اور این آئی اے نے اپنادائرہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط حکومت کے دوران وسیع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط حکومت تھی جس دوران ریاست میں این آئی اے اور پوٹا جیسے عوام کش قانون کا دائرہ ریاست جموں وکشمیر تک وسیع کیا گیا۔
محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی نے ہی بھاجپا حکومت کو عوامی مفاد کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جس کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں ماہ رمضان کے دوران ایک ماہ تک یک طرفہ جنگ بندی کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی نے بھاجپا کو یک طرفہ جنگ بندی کے لیے مجبور کردیا تاہم جنگجوؤں گروپوں نے اس سے کوئی فائدہ نہ اُٹھاتے ہوئے جنگ بندی کی پیش کش کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔’’پی ڈی پی نے بھاجپا کو ماہ صیام کے دوران یک طرفہ جنگ بندی کے لیے مجبور کردیا تاہم جنگجو تنظیموں نے جنگ بندی کا مثبت جواب نہیں دیا۔ میں چاہتی تھی کہ مرکزی حکومت علیحدگی پسند قیادت سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرکے ریاست میں غیر یقینی صورتحال سے نجات مل جائے، حتیٰ کہ سال 2016میں پارلیمانی وفد نے بھی ریاست کا دورہ کرتے ہوئے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا تاہم انہوں نے بھی مفاہمت کے تمام دروازے بند کردئے‘‘۔
محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بعد ازاں مرکزی حکومت نے ریاست کے لیے خصوصی مذاکرات دنیشور شرما کو تعینات کرتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ دوستانہ ماحول میں بات چیت کے لیے کشمیر بھیجا تاہم علیحدگی پسند اس پراسس کی حمایت کرنے میں ناکام رہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
