تازہ ترین
اُردو زبان: موجودہ حالت پر کیوں مچتا کہرام نہیں؟
غازی سہیل خان: 
اُردو، بر صغیر میں ا کثرت سے بولی جانے والی زبان ہے۔ جو اپنی جاذبیت و مٹھاس کی وجہ سے تمام قوموں میں مقبول ہے، خصوصاً برصغیر ہندوو پاک میں، جہاں کثرت سے اُردو زبان بولی جاتی ہے، پاکستان میں اُردو سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ بھارت میں بھی کثیر آبادی یہ زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔ ہندوستان میں آزادی سے قبل تمام قومیں جن میں ہندو،مسلم، سکھ، اکثر مذاہب سے وابستہ لوگ اُردو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔
ریاست جموں و کشمیرکی سرکاری زبان یہی اُردو ہے۔ یہاں کی کثیر لسانی صورت حال کے پیشِ نظر اُردو ایک اہم ضرورت بن گی تھی اور یہ ضرورت بدستور قائم ہے۔کشمیر، جموں، لداخ کی مقامی زبانیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کشمیری، ڈوگری، لداخی،پہاڑی، شنا اور بلتی کے علاوہ بہت ساری نسلوں،تہذیبوں اور مذہبی اکائیوں سے وابستہ زبانیں مثلاً گوجری‘پشتو‘پنجابی‘ بھدرواہی ‘بکروالی وغیرہ، ان تمام زبانوں کے درمیان اُردو کو رابطے کی زبان کا درجہ حاصل ہے۔اس زبان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی علاقے کی مادری زبان نہیں بلکہ سب کی لسانِ مشترک ہے۔باوجود اس کے کہ ُاردو اس وقت عالمی زبان بن گئی ہے ۔دنےا کی بڑی بڑی ےونیورسٹیوں مےںآج اُردو پڑھائی جاتی ہے، یہ اب ہندوستان اور پاکستان کی زبان نہیں بلکہ اس زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے ۔
جموں کشمیر کے ڈوگرہ راج میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے 1889ءمیں دفعہ 145 کے تحت اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلایا۔لیکن شومئی قسمت جموں و کشمیر کے دستور میں ایسے دفعات موجود ہیں جن کی باری باری یہاں کے حکمرانوں اور نیتاوں نے کانٹ چھانٹ کی اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہیں ۔ اگرچہ اُردو کو یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے تاہم جو اس زبان کا حال آج ہمارے سامنے ہے وہ سب کے سامنے عیاں وبیاں ہے ۔چند سال قبل یہاں بچوں کو بُنیادی تعلیم اُردو زبان میں ہی دی جاتی تھی اور آج حال یہ ہے کہ بچوں کو اُردو پڑھنا تو دور کی بات اُردو زبان میں بات کرنے میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔اجتماعی سطح پر یہاں کی آبادی اس زبان سے دور کی جا رہی ہے، تاہم یہاں مسلمانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے اس لیے ان کامذہبی لٹریچر جس میں تفاسیر،احادیث،فقہ وغیرہ 80 فیصداُردو زبان میں ہے ، جس کی وجہ سے ابھی بھی اُردو زندہ ہے۔ اُردو سے دوری کے بعد یہاں کی نوخیز نسل مغربی تہذیب کا دلدادہ بنتی جا رہی ہے ۔اسلامی روایات کو دن دہاڑے دفن کیا جا رہا رہاہے۔
اُردو زبان کی بدحالی کے لئے جہاں یہاں کی حکومتوں اور لیڈروں کو ذمہ دار ٹھرایا جاسکتا ہے وہیں یہاں کے ادباء،شعرا اور اُردو کے نام پر روٹیاں کھانے والوں کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرانا غلط نہیں ہو گا۔ جب اُردو کے نصاب کی بات کرتے ہیںتوآج کے اس مابعد جدیدیت (post modern)کے دور میں بھی ہمارے طلبہ کو ”رگے گُل سے بلبل کے پر باندھنے“ کو کہا جاتا ہے،وہی الف لیلی داساتانیں اور مافوق الفطرت قصے اور کہانیاں پڑھائی اور سُنائی جاتی ہیں ، بس ”طوطے کی رٹ “ کی طرح اُردو کے نصاب میں کبھی کوئی تبدیلی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو رہی ہے ۔اسی طرح سے اُردو کے نام پر ایک ایسا طبقہ ریاست میں کام کر رہاہے جس کو ”اُردو مافیا“(urdu mafia) کے لقب سے پُکارا جا سکتا ہے، اس طبقے نے کبھی سنجیدگی سے اُردو زبان و ادب کی اشاعت و فروغ کے لئے کام نہیں کیا ،کبھی اُردو زبان سے محبت رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بس اپنا نام اور زر کمانے کے لئے اس زبان کو استعمال میں لایا ۔اسی طرح سے ہمارے اداکرنا پڑتا ہے ،۔
ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز اُردو ورلڈ سرینگر(Urdu world srinagar)کی ٹیم کے ساتھ پیش آیا۔حسب معمول جب یہ ٹیم ماگام کے ایک پرائیوٹ اسکول پہنچی تو بچوں سے بات چیت کے دوران جب اُردو میں بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوںنے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ ہمیں اُردو زبان میں بات کرنی نہیں آتی اور ساتھ ہی اُساتذہ صاحبان نے کہا کہ اگر ہمیں اسکول انتظامیہ نے اُردو میں بات کرتے ہوئے دیکھاتو دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتاہے ۔واحسراتا….!
میری اس خامہ فرسائی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم سے دور کھنا چاہے یا ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں چلنا چاہئے بلکہ میرا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو اس حق( اُردو زبان و ادب )سے نا آشنا نہیں رکھنا چاہے ۔
جموں کشمیر میں تو اُردو زبان کے رہبر ہی رہزنی کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے نام پر جو نام نہاد تنظیمیں و ا دارے وجود میں آئے ہیں اُن کواگرہم اُردومافیا (urdu mafia)کا نام تفویض کریں تو میرے خیال میں بے جا نہ ہوگا۔ایک واقعہ پیش کرتاہوں:چند سال قبل میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کشمیر یونی ورسٹی حضرت بل سرینگر میں بیٹھا تھا ،باتوں ہی باتوں میںہم نے اُردو زبان و ادب کے حوالے سے گفتگو چھیڑی نتیجتاًمیں نے اس زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور ادروں کے ساتھ ساتھ اُن افراد کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ لکھنے کا سوچا تو بھی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے دوست نے کہا کہ ”آپ کو ابھی شاید علم نہیں ہے کہ آپ کن اداروں اور تنظیموں کی کارکردگی کے حوالے سے لکھنے کی جسارت کرنے جا رہے ہیں؟ اگر آپ نے ایسا کیا تو میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوںکہ آپ کے مضامین جو اخبار میں آتے ہیں وہ بھی بند کروا دیے جائیں گے ۔“
ذاتی طور پر میں نے یہ اخذ کیا ہے کہ جن لوگوں نے بھی اُردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت کے لئے کوئی تنظیم یا ادارہ وجود میں لایا ہے آج تک وہ کوئی خاص کام انجام نہیں دے پائے سوائے چند ایک کے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ ادارے اور تنظیمیں اخلاص کی بُنیاد پر نوجوان نسل کی تربیت کرتے، اُبھرتے ہوئے قلم کاروں ،شاعروں ،افسانہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرتے، نئی نسل کواُردو زبان و ادب سے آشنا کرتے لیکن افسوس! کام اس کے برعکس ہی ہو رہا ہے۔ اس پر مزید چوٹیں جو ڈالی گئیں اس میں انٹرنیٹ کا بڑا عمل دخل ہے۔انٹرنٹ کے موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ اُردو زبان کی بول چال کا معیار بھی کافی حد تک گرا دیا گیا ہے، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں،یہاںآج کل سوشل میڈیا جس میں فیس بک اور یوٹیوب ودیگر سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بہت ساری نیوز چینلیں ہیں، جن کے صحافی اوررپورٹر اس زبان کا ستیاناس کر نے پر تلے ہوئے ہیں، ہم نے یہ دیکھا کہ اگر کسی صحافی یا رپورٹر سے انگریزی میں بات کرنے کے دوران کوئی چوک ہو جائے تو اُسے کبھی عوام معاف نہیں کرتی پہلے تو وہ صحافی انگریزی میڈیا میں کام کر ہی نہیں سکتا جس کی زبان اچھی نہ ہو اور اُردر میڈیا میں نیم حکیم صحافی بھی دو چار باتیں کر کے تُرم خان بن ہی جاتے ہیں۔
اس صورتحال میں اُردو زبان کی بگڑتی حالت پر کیوں مچتا کہرام نہیں ؟۔تاہم جب ہم موجودہ دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو اس وقت ساری دنیا خصوصاً مغرب اسرائیل کی پالسی اور پروگرام کے تحت دُنیا پر اپنے نظریات کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنی دھاڑجمانے میںکامیاب ہو گیا ہے، تبھی تو یہ چند لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل ملک مسجد اقصیٰ پر اپنا ناجائز قبضہ جمائے ہوئے بیٹھا ہے اور دنیا ئے اسلام کی 57آزاد مملکتیں اسرائیل کی جارہیت کو روکنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں اپنی مادری زبان عبرانی(Hebrew) میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے ۔یہ تلخ حقیقت ہمارے حکمران طبقے اور نام نہاد عاشقان اُردو زبان و ادب شایدسمجھ نہیں پا رہے ہیں ۔
ان سارے تلخ حقائق کو پیش کرنے کی گستاخی کے بعد یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ اگر ہمیں اپنی نسل نو کو تاریخ ،اسلام اور ادب سے وابستہ رکھنا ہے تو اپنے سارے ذاتی مفادات کو بالائے تاق رکھ کر اس زبان کو اس ذبوںحالی سے بچانے کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ یہاں کے حکمرانوں اور لیڈروں کوچاہے کہ اُردو کے فروغ کے لئے ضروری اقدامات اُٹھائےں جن مےں سب سے پہلے اےک اُردو اکےڈمی کا قےام عمل مےں لایا جانا ضروری ہے۔ اُردو کے مضمون کو گریجویشن تک ہر اےک طالب علم کے لئے لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ جن سرکاری محکموں دفتری کام اُردو میں کام کاج ہوتا تھا ان کو اُردو مےں ہی کام کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائےں ۔سرکاری عمارتوں کے ساتھ پرائیوٹ اداروں کو بھی یہ ہدایت جاری کی جانی چاہیے کہ ساین بورڈس اور عمارتوں پر لگے بےنرس پر انگرےزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی تحریر کو لازمی قرار دیا جائے۔ اُردو کے فروغ و اشاعت کے نام پر جتنی بھی تنظیمیں اور ادارے وجود میں آئے ہیں اُن کو نیت خلوص کے ساتھ اس زبان کو نسل نو تک پہنچانے کی کوشش کرنی چائیے۔ جموںکشمیر کی سےاسی ،سماجی و مذہبی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ کہ وہ اس زبان کے فروغ کے لئے اپنی سطح پر اقدامات اُٹھائےں ،تا کہ اس میں علم کے سرمائے سے نوجوان طبقہ بہرہ ور ہو کر سماج کی تعمیر میں اپنا کلیدی رول ادا کر سکے اورسماج کو اس تہذیبی جارحیت سے خلاصی کے لئے اپنی صلاحتوں کو صرف کریں ۔
اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر ہم سب پر یہ اخلاقی فرض ہے کہ ہم اُردو زبان کو عروج بخشنے میں اپنی صلاحتوں کو بروے کار لائیں ۔تا کہ ہم بھی دنےا کے ساتھ چل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں ،اگر ہم ایسا نہ کریں تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہماری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
رابطہ ۔ghazisuhail09@gmail.com
نوٹ:( مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoکانگریس نے ایس آئی آر پر امت شاہ سے تین سوالوں کا جواب مانگا
