تازہ ترین
اُردو زبان: موجودہ حالت پر کیوں مچتا کہرام نہیں؟
غازی سہیل خان: 
اُردو، بر صغیر میں ا کثرت سے بولی جانے والی زبان ہے۔ جو اپنی جاذبیت و مٹھاس کی وجہ سے تمام قوموں میں مقبول ہے، خصوصاً برصغیر ہندوو پاک میں، جہاں کثرت سے اُردو زبان بولی جاتی ہے، پاکستان میں اُردو سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ بھارت میں بھی کثیر آبادی یہ زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔ ہندوستان میں آزادی سے قبل تمام قومیں جن میں ہندو،مسلم، سکھ، اکثر مذاہب سے وابستہ لوگ اُردو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔
ریاست جموں و کشمیرکی سرکاری زبان یہی اُردو ہے۔ یہاں کی کثیر لسانی صورت حال کے پیشِ نظر اُردو ایک اہم ضرورت بن گی تھی اور یہ ضرورت بدستور قائم ہے۔کشمیر، جموں، لداخ کی مقامی زبانیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کشمیری، ڈوگری، لداخی،پہاڑی، شنا اور بلتی کے علاوہ بہت ساری نسلوں،تہذیبوں اور مذہبی اکائیوں سے وابستہ زبانیں مثلاً گوجری‘پشتو‘پنجابی‘ بھدرواہی ‘بکروالی وغیرہ، ان تمام زبانوں کے درمیان اُردو کو رابطے کی زبان کا درجہ حاصل ہے۔اس زبان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی علاقے کی مادری زبان نہیں بلکہ سب کی لسانِ مشترک ہے۔باوجود اس کے کہ ُاردو اس وقت عالمی زبان بن گئی ہے ۔دنےا کی بڑی بڑی ےونیورسٹیوں مےںآج اُردو پڑھائی جاتی ہے، یہ اب ہندوستان اور پاکستان کی زبان نہیں بلکہ اس زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے ۔
جموں کشمیر کے ڈوگرہ راج میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے 1889ءمیں دفعہ 145 کے تحت اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلایا۔لیکن شومئی قسمت جموں و کشمیر کے دستور میں ایسے دفعات موجود ہیں جن کی باری باری یہاں کے حکمرانوں اور نیتاوں نے کانٹ چھانٹ کی اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہیں ۔ اگرچہ اُردو کو یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے تاہم جو اس زبان کا حال آج ہمارے سامنے ہے وہ سب کے سامنے عیاں وبیاں ہے ۔چند سال قبل یہاں بچوں کو بُنیادی تعلیم اُردو زبان میں ہی دی جاتی تھی اور آج حال یہ ہے کہ بچوں کو اُردو پڑھنا تو دور کی بات اُردو زبان میں بات کرنے میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔اجتماعی سطح پر یہاں کی آبادی اس زبان سے دور کی جا رہی ہے، تاہم یہاں مسلمانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے اس لیے ان کامذہبی لٹریچر جس میں تفاسیر،احادیث،فقہ وغیرہ 80 فیصداُردو زبان میں ہے ، جس کی وجہ سے ابھی بھی اُردو زندہ ہے۔ اُردو سے دوری کے بعد یہاں کی نوخیز نسل مغربی تہذیب کا دلدادہ بنتی جا رہی ہے ۔اسلامی روایات کو دن دہاڑے دفن کیا جا رہا رہاہے۔
اُردو زبان کی بدحالی کے لئے جہاں یہاں کی حکومتوں اور لیڈروں کو ذمہ دار ٹھرایا جاسکتا ہے وہیں یہاں کے ادباء،شعرا اور اُردو کے نام پر روٹیاں کھانے والوں کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرانا غلط نہیں ہو گا۔ جب اُردو کے نصاب کی بات کرتے ہیںتوآج کے اس مابعد جدیدیت (post modern)کے دور میں بھی ہمارے طلبہ کو ”رگے گُل سے بلبل کے پر باندھنے“ کو کہا جاتا ہے،وہی الف لیلی داساتانیں اور مافوق الفطرت قصے اور کہانیاں پڑھائی اور سُنائی جاتی ہیں ، بس ”طوطے کی رٹ “ کی طرح اُردو کے نصاب میں کبھی کوئی تبدیلی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو رہی ہے ۔اسی طرح سے اُردو کے نام پر ایک ایسا طبقہ ریاست میں کام کر رہاہے جس کو ”اُردو مافیا“(urdu mafia) کے لقب سے پُکارا جا سکتا ہے، اس طبقے نے کبھی سنجیدگی سے اُردو زبان و ادب کی اشاعت و فروغ کے لئے کام نہیں کیا ،کبھی اُردو زبان سے محبت رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بس اپنا نام اور زر کمانے کے لئے اس زبان کو استعمال میں لایا ۔اسی طرح سے ہمارے اداکرنا پڑتا ہے ،۔
ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز اُردو ورلڈ سرینگر(Urdu world srinagar)کی ٹیم کے ساتھ پیش آیا۔حسب معمول جب یہ ٹیم ماگام کے ایک پرائیوٹ اسکول پہنچی تو بچوں سے بات چیت کے دوران جب اُردو میں بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوںنے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ ہمیں اُردو زبان میں بات کرنی نہیں آتی اور ساتھ ہی اُساتذہ صاحبان نے کہا کہ اگر ہمیں اسکول انتظامیہ نے اُردو میں بات کرتے ہوئے دیکھاتو دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتاہے ۔واحسراتا….!
میری اس خامہ فرسائی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم سے دور کھنا چاہے یا ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں چلنا چاہئے بلکہ میرا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو اس حق( اُردو زبان و ادب )سے نا آشنا نہیں رکھنا چاہے ۔
جموں کشمیر میں تو اُردو زبان کے رہبر ہی رہزنی کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے نام پر جو نام نہاد تنظیمیں و ا دارے وجود میں آئے ہیں اُن کواگرہم اُردومافیا (urdu mafia)کا نام تفویض کریں تو میرے خیال میں بے جا نہ ہوگا۔ایک واقعہ پیش کرتاہوں:چند سال قبل میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کشمیر یونی ورسٹی حضرت بل سرینگر میں بیٹھا تھا ،باتوں ہی باتوں میںہم نے اُردو زبان و ادب کے حوالے سے گفتگو چھیڑی نتیجتاًمیں نے اس زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور ادروں کے ساتھ ساتھ اُن افراد کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ لکھنے کا سوچا تو بھی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے دوست نے کہا کہ ”آپ کو ابھی شاید علم نہیں ہے کہ آپ کن اداروں اور تنظیموں کی کارکردگی کے حوالے سے لکھنے کی جسارت کرنے جا رہے ہیں؟ اگر آپ نے ایسا کیا تو میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوںکہ آپ کے مضامین جو اخبار میں آتے ہیں وہ بھی بند کروا دیے جائیں گے ۔“
ذاتی طور پر میں نے یہ اخذ کیا ہے کہ جن لوگوں نے بھی اُردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت کے لئے کوئی تنظیم یا ادارہ وجود میں لایا ہے آج تک وہ کوئی خاص کام انجام نہیں دے پائے سوائے چند ایک کے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ ادارے اور تنظیمیں اخلاص کی بُنیاد پر نوجوان نسل کی تربیت کرتے، اُبھرتے ہوئے قلم کاروں ،شاعروں ،افسانہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرتے، نئی نسل کواُردو زبان و ادب سے آشنا کرتے لیکن افسوس! کام اس کے برعکس ہی ہو رہا ہے۔ اس پر مزید چوٹیں جو ڈالی گئیں اس میں انٹرنیٹ کا بڑا عمل دخل ہے۔انٹرنٹ کے موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ اُردو زبان کی بول چال کا معیار بھی کافی حد تک گرا دیا گیا ہے، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں،یہاںآج کل سوشل میڈیا جس میں فیس بک اور یوٹیوب ودیگر سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بہت ساری نیوز چینلیں ہیں، جن کے صحافی اوررپورٹر اس زبان کا ستیاناس کر نے پر تلے ہوئے ہیں، ہم نے یہ دیکھا کہ اگر کسی صحافی یا رپورٹر سے انگریزی میں بات کرنے کے دوران کوئی چوک ہو جائے تو اُسے کبھی عوام معاف نہیں کرتی پہلے تو وہ صحافی انگریزی میڈیا میں کام کر ہی نہیں سکتا جس کی زبان اچھی نہ ہو اور اُردر میڈیا میں نیم حکیم صحافی بھی دو چار باتیں کر کے تُرم خان بن ہی جاتے ہیں۔
اس صورتحال میں اُردو زبان کی بگڑتی حالت پر کیوں مچتا کہرام نہیں ؟۔تاہم جب ہم موجودہ دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو اس وقت ساری دنیا خصوصاً مغرب اسرائیل کی پالسی اور پروگرام کے تحت دُنیا پر اپنے نظریات کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنی دھاڑجمانے میںکامیاب ہو گیا ہے، تبھی تو یہ چند لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل ملک مسجد اقصیٰ پر اپنا ناجائز قبضہ جمائے ہوئے بیٹھا ہے اور دنیا ئے اسلام کی 57آزاد مملکتیں اسرائیل کی جارہیت کو روکنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں اپنی مادری زبان عبرانی(Hebrew) میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے ۔یہ تلخ حقیقت ہمارے حکمران طبقے اور نام نہاد عاشقان اُردو زبان و ادب شایدسمجھ نہیں پا رہے ہیں ۔
ان سارے تلخ حقائق کو پیش کرنے کی گستاخی کے بعد یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ اگر ہمیں اپنی نسل نو کو تاریخ ،اسلام اور ادب سے وابستہ رکھنا ہے تو اپنے سارے ذاتی مفادات کو بالائے تاق رکھ کر اس زبان کو اس ذبوںحالی سے بچانے کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ یہاں کے حکمرانوں اور لیڈروں کوچاہے کہ اُردو کے فروغ کے لئے ضروری اقدامات اُٹھائےں جن مےں سب سے پہلے اےک اُردو اکےڈمی کا قےام عمل مےں لایا جانا ضروری ہے۔ اُردو کے مضمون کو گریجویشن تک ہر اےک طالب علم کے لئے لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ جن سرکاری محکموں دفتری کام اُردو میں کام کاج ہوتا تھا ان کو اُردو مےں ہی کام کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائےں ۔سرکاری عمارتوں کے ساتھ پرائیوٹ اداروں کو بھی یہ ہدایت جاری کی جانی چاہیے کہ ساین بورڈس اور عمارتوں پر لگے بےنرس پر انگرےزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی تحریر کو لازمی قرار دیا جائے۔ اُردو کے فروغ و اشاعت کے نام پر جتنی بھی تنظیمیں اور ادارے وجود میں آئے ہیں اُن کو نیت خلوص کے ساتھ اس زبان کو نسل نو تک پہنچانے کی کوشش کرنی چائیے۔ جموںکشمیر کی سےاسی ،سماجی و مذہبی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ کہ وہ اس زبان کے فروغ کے لئے اپنی سطح پر اقدامات اُٹھائےں ،تا کہ اس میں علم کے سرمائے سے نوجوان طبقہ بہرہ ور ہو کر سماج کی تعمیر میں اپنا کلیدی رول ادا کر سکے اورسماج کو اس تہذیبی جارحیت سے خلاصی کے لئے اپنی صلاحتوں کو صرف کریں ۔
اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر ہم سب پر یہ اخلاقی فرض ہے کہ ہم اُردو زبان کو عروج بخشنے میں اپنی صلاحتوں کو بروے کار لائیں ۔تا کہ ہم بھی دنےا کے ساتھ چل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں ،اگر ہم ایسا نہ کریں تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہماری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
رابطہ ۔ghazisuhail09@gmail.com
نوٹ:( مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
