تازہ ترین
قومی میڈیا کشمیر مخالف پروپگنڈہ پھیلا نے میں مصروف:گورنر
خبراردو: ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے قومی میڈیا پر بیرون ریاست کشمیر مخالف پروپگنڈہ چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں ایک شخص کے ہلاک ہونے پر قومی میڈیا کی چینلوں پر دو دو ہفتوں تک خبریں نشر کی جاتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ سیاسی منظر نامے پر ریاست میں جاری حدبندی معاملے کو افواہ بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اضلاع سے متعلق نئی حد بندی ایک آئینی معاملہ ہے۔ گورنر نے پاکستان پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج خود تکلیف میں ہے، وہ اب تھک چکا ہے۔
ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے بدھوار کو شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشنل سنٹر واقع بلوارڈ روڑ پر چیف سیکرٹری ، جملہ مشیروں اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے قومی میڈیا پر بیرون ریاست کشمیر مخالف پروپگنڈہ چلانے کا الزام عائد کیا۔ گورنر نے بتایا کہ قومی میڈیا بیرون ریاست کشمیر کی شبیہ کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی میڈیا کی چینلیں بیرون ریاست کشمیر کو منفی انداز میں پیش کررہی ہے جو کہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ گورنر کے بقول اگر کشمیر میں ایک آدمی مر جاتا ہے تو قومی میڈیا پر اس سے متعلق دو دو ہفتوں تک خبر نشر کی جاتی ہے اور یوں کشمیر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے تاہم میرے ضلع میں ہر روز 5افراد ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن ان کی کسی بھی بھنک تک نہیں لگتی۔ ان سے متعلق کوئی بھی خبر شائع نہیں کی جاتی۔
گورنرکے مطابق کشمیر میں کسی بھی سیاح پر پتھر نہیں پھینکا جاتا لیکن میرے ضلع مظفر نگر سہارانپور کی ہائے وے پر سیاحوں کو روزانہ لوٹا جاتا ہے مگر وہاں کا ذکر قومی میڈیا میں نہیں کیا جاتا۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی صورتحال کو بیرون ریاست منفی انداز میں پیش کرنے کا خالص مقصد کشمیر کو بدنام کرنا ہے۔ گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ موجودہ سیاسی منظرنامے پر ریاست میں جاری حد بندی سے متعلق بوال نیا شوشہ کھڑا کیا جارہا ہے جو کہ سراسر افواہ بازی پر مبنی ہے۔ انہوں نے حد بندی سے متعلق جاری تنازعے کو محض افواہ بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ابھی تک مرکزی وزیر داخلہ نے بھی کوئی تصدیق نہیں کی ہے اور تاایں دم یہ صرف افواہ بازی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔جموں وکشمیر بنک سے متعلق جاری تنازعے پر گورنر نے بتایا کہ بنک نے گالف کورس کی تزین کاری پر 50کروڑ روپے صرف کئے ہیں جہاں پر ایک ہزار امیر ترین لوگ اس کا فائدہ اُٹھارہے ہیں۔ میٹنگ میں موجود ریاست کے چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم نے گورنر کے جواب کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جموں وکشمیر بنک نے گالف کورس کی تزین کاری پر 50کروڑ روپے خرچ کئے ہیں جہاں پر ایک ہزار امیر افراد اس سے مستفید ہورہے ہیں۔چیف سیکرٹری کے مطابق جموں وکشمیر بنک ریاستی معیشت کا ایک اہم ستون ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر بنک سے متعلق سینکڑوں شکایات موصول ہوچکی تھی یہاں تک کہ آر بی آئی نے بھی اس حوالے سے گورنر ستیہ پال ملک کو مکتوب میں سرزنش کی۔ انہوں نے بتایا کہ بنک میں جاری بے ضابطگیوں کو رفع کرنے میں تین مہینوں کا وقت درکار ہے۔ چیف سیکرٹری کے مطابق تین مہینوں کے اندر اندر بنک میں پائی جارہی بدانتظامی اور بے ضاضابطگیوںکو رفع کیا جائےگا۔جموں وکشمیر بنک دوبارہ اپنی شان رفتہ کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگا اوریقینا منظر نامے پر چھاجائےگا۔ریاستی سرکار بنک کو عالمی سطح کا معیاری ادارہ بنانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرےگا۔کے این ایس نمائندے کے مطابق چیف سیکرٹری نے گورنر کے جواب کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا بنک کوئی خیراتی ادارہ نہیں بلکہ ایک مالیاتی ادارہ ہے جو ریاستی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنک کےلئے ایم ڈی اور چیرمین کے عہدے علیحدہ علیحدہ رہیں گے۔ ادھر اگلے ماہ سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ امسال سالانہ امرناتھ یاترا پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگی۔
ریاستی سرکاریاتریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر سیکورٹی کے کڑے بندوبست عمل میں لائے گی۔گورنرنے مزید بتایا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ریاستی عوام نے لوک سبھا انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرکے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو آگے لایا۔ میں اس بات کےلئے مطمئن ہوں اور مجھے ریاستی عوام پر فخر ہے کہ انہوں نے لوک سبھا انتخابات کے دوران مہذیب ہونے کا بھر پور ثبوت دیا اور اپنے پسندیدہ نمائندوں کا انتخاب ممکن بنانے کےلئے پولنگ مراکز کا رخ کیا۔تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی مین اسٹریم جماعتیں لوگوں کو لوک سبھا انتخابات میں شامل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔یہاں کی مین اسٹریم پارٹیاں لوگوں کو پولنگ مراکز تک لے جانے میں بری طرح سے ناکام ہوگئیں۔ میں اُن سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ انتخابات کے دوران پولنگ کی شرح کیا رہی؟ مین اسٹریم سیاسی جماعتیں لوگوں کو مائل کرنے میں ناکام و نامراد ہوگئیں۔گورنر کے بقول میں نے مقامی سیاسی پارٹیوں کو پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کےلئے کافی کوششیں کیں تاہم وہ اس کےلئے تیار نہیں ہوئے لیکن پھر بھی ہم نے جمہوری اداروں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کےلئے زمینی سطح پر لوگوں کو خودمختار بنانے کےلئے انتخابات کرائے۔
اس موقعے پر گورنر ستیہ پال ملک جو کہ یونیفائڈ ہیڈکوارٹرز کی صدارت بھی کررہے ہیں، نے وادی کشمیرمیں امن و قانون کی صورتحال اوریہاں جاری عسکریت پر بھی بات کی۔ گورنر نے پاکستان پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج خود تکلیف میں ہے، وہ اب تھک چکا ہے۔ پاکستان کو اب یہ بات محسوس ہونے لگی ہے کہ وہ ہندوستان کو توڑ نہیں سکتا لیکن پھر بھی وہ یہاں افرا تفری کو ہوا دینے کےلئے چھوٹی چھوٹی کارروائیاں انجام دے رہا ہے۔گورنر کے مطابق سرحد کے دوسری طرف اس وقت بھی جنگجوﺅں کے تربیتی مراکز قائم ہے جہاں نوجوانوں کی ذہنوں میں زہربھر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر آج بھی دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہے تاہم ہماری فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں سرھدپار سے داخل ہورہے جنگجوﺅں کو آئے روز ختم کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں جنگجوﺅں کی صفوں میں بھرتیوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔گورنرنے جنگجوﺅں نوجوانوں کو صلاح دیتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دائرے میں شامل ہوجائیں۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے انتہا پسندانہ رویے کے آگے مرکزی و ریاستی حکومت کبھی بھی نہیں جھکے گی بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تشدد کا راستہ اختیار کرچکے نوجوان بندوق کو خیر باد کرتے ہوئے بات چیت کا حصہ بن جائیں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
