اہم خبریں
کورونا وائرس:24ممالک زد میں آگئے
چین کے باہر فلپائن میں پہلی ہلاکت
چین میں اب تک 362 افراد وائرس سے ہلاک،17 ہزار افراد متاثر
سرینگر 3،فروری:کے این ایس / چین کو کورونا وائرس سے نمٹنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اب تک 17 ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 24ممالک اسکی زد میں آگئے ہیں۔اتوار کے روز فلپائن میں اس وائرس سے پہلی ہلاکت واقع ہوئی جو چین سے باہر اس وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت تھی۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق چین میں اب تک362 افراد وائرس سے ہلاک ہوگئے ہیں جو ملک میں 2002 میں سارس وائرس کی وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔چین میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد پیر کو362سے زیادہ ہو گئی جبکہ فلپائن میں بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا جو اس وائرس سے چین کے باہر دنیا میں پہلی موت ہے۔ مہلک کرونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں تشویش ہے اور کئی ممالک چین کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحدیں بند اور وہاں رہائش پذیر اپنے شہریوں کو ملک واپس لا رہے ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین میں اموات کے تازہ اعداد و شمار حکومت کی جانب سے ایک بڑے شہر وین زو کو بند کرنے کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں۔ وین زو ہیوبے صوبے کے شہر ووہان سے 800 کلومیٹر دور واقع ہے، جہاں سے وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔حکام کے مطابق ہیوبے میں وائرس سے مزید 56 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ملک کے جنوبی مغرب میں واقع بڑے شہر چونگ چنگ میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے جس کے بعد وائرس کے نتیجے میں اب تک 362 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اموات کی یہ تعداد ملک میں سارس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ سارس وائرس سے 2002 میں چین میں 349 افراد ہلاک ہوئے تھے۔مشرقی شہر وین زو میں حکام وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ شہر کی سڑکیں بند کر کے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
پچھلے دسمبر ووہان سے شروع ہونے والی کرونا وائرس کی وبا نے چین بھر میں 17 ہزار دو سو افراد کو متاثر کیا ہے اور یہ24 ملکوں تک پھیل چکا ہے جن میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ ان تمام ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دوسرے ملکوں نے ہیوبے میں موجود اپنے سینکڑوں شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے اور چین کے سفر پر پابندی لگا دی ہے۔بیماری کا پھیلاؤ روکنے کی کوششیں:چین، جہاں پچھلے 24 گھنٹے میں وائرس کے دو ہزار آٹھ سو 29نئے کیس سامنے آئے ہیں، اس سے نمٹنے کی سخت کوشش کر رہا ہے، ان کوششوں میں عوامی مقامات پر جمع ہونے پر پابندی، گھر سے صرف ایک شخص کو محدود کاموں کے لیے نکلنے کی اجازت اور سکولوں میں چھٹیاں بڑھانا شامل ہیں۔
چین نے کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بھی مکمل کر لیا ہے۔ یہ ہسپتال وائرس سے بری طرح متاثر ہونے والے وسطی صوبے ہیوبے کے دارالحکومت ووہان میں 10 روز میں مکمل کیا گیا جبکہ1500 بستر کا ایک اور ہسپتال بھی زیر تعمیر ہے۔چین کی پیپلز لیبریشن آرمی کی ٹیمیں پیر کو نئے ہسپتال میں خدامات سرانجام دینے آتی رہیں تاکہ شہر میں کام کرنے والے طبی عملے پر بوجھ کم ہو سکے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سرکاری چینل سی سی ٹی وی پر جدید طبی آلات اور وینٹیلیشن سسٹم سے آراستہ نئے ہسپتال کے وارڈ دیکھے جاسکتے۔علاج میں پیش رفت؟:خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈاکٹر کرونا وائرس میں مبتلا ایسے نئے مریضوں کے علاج میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کی حالت بہت خراب تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان مریضوں کو نزلے اور ایچ آئی وی کی ادویات ملا کر دی گئیں جس کے ابتدائی نتائج کے مطابق مریضوں میں 48گھنٹے میں نمایاں بہتری آئی۔
کورونا وائرس کے مریض، کن کن ممالک میں:آسٹریلیا:اس ملک میں بارہ مریضوں میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص کی گئی ہے۔ ان مریضوں میں بیشتر چینی صوبے ووہان سے واپس لوٹے تھے۔کمبوڈیا:مشرقی بعید کے اس ملک میں ملکی محکمہ صحت نے صرف ایک مریض میں اس وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے۔ یہ وہ ساٹھ سالہ شخص ہے، جو ووہان سے واپس ملک پہنچا تھا۔ہانگ کانگ:چین کے خصوصی انتظام کے حامل علاقے ہانگ کانگ میں چودہ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں اور ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ان کو بقیہ مریضوں سے الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔بھارت:نئی دہلی سے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ ایک دوسرے علیل شخص میں بھی کورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق جنوبی ریاست کیرالا میں جس نئے مریض میں وائرس پایا گیا ہے، اْسے فوری طور پر سب سے الگ کر دیا گیا ہے۔جاپان:ٹوکیو سے جاپانی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ پہلی فروری کو تین نئے مریضوں میں چینی وائرس کی تشیخص ہوئی ہے۔ اس طرح جاپان میں اِس وبائی مرض میں مبتلا افراد کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں دو ایسے ہیں جن کو دوسرے انسانوں سے یہ مرض منتقل ہوا ہے۔
میکاؤ:میکاؤ بھی چینی علاقہ ہے لیکن اس کی وجہ سے شہرت وہاں کے جوئے خانے کی انڈسٹری ہے۔ اس علاقے میں آٹھ مریضوں میں نمونیا بیماری کا باعث بننے والا یہ وائرس پایا گیا ہے۔ملائیشیا:مشرق بعید کے ایک اور ملک ملائیشیا میں بھی آٹھ مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام علیل افراد کا تعلق چینی اقلیتی برادری سے ہے۔نیپال:کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع ریاست نیپال میں ایسے ایک مریض کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے، جو چینی علاقے ووہان سے کھٹمنڈو پہنچا تھا۔ ووہان ہی وہ شہر ہے جہاں پہلی مرتبہ اس وائرس کی دریافت ہوئی تھی۔سنگاپور:شہری ریاست سنگا پور کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے مزید افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کا بتایا ہے۔ اس طرح وہاں اس وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد ڈیڑھ درجن ہو گئی ہے۔جنوبی کوریا:جزیرہ نما کوریا کے اس ملک میں اتوار دو فروری کو مزید دو افراد میں اس وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ ان میں ایک بیس سالہ نوجوان بھی ہے جو ووہان سے ایک چارٹرڈ فلائٹ سے واپس وطن پہنچا تھا۔ جنوبی کوریا میں وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد پندرہ ہے۔
سری لنکا:اس ملک میں ایک تینتالیس سالہ شخص میں وائرس کی موجودگی کا بتایا گیا ہے۔ یہ سری لنکن سیاح چینی صوبے ہوبائی کی سیاحت کو گیا ہوا تھا کہ اسے وائرس نے اپنی گرفت میں لے لیا۔تائیوان:اس جزیرہ نما ریاست میں وائرس میں مبتلا مریضوں کی کل تعداد دس ہے۔ ان میں دو بزرگ چینی خواتین بھی ہیں جو سیاحت کے لیے ایک گروپ میں شامل ہو کر تائیوان پہنچی تھیں۔تھائی لینڈ:چین کی ہمسایہ ریاست تھائی لینڈ میں اس وائرس کی وجہ سے نمونیا بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد انیس بتائی گئی ہے۔ ویتنام:ویتنام میں متعدی مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد چھ ہے۔ اتوار کو بھی ایک نیا مریض سامنے آیا ہے۔
چھٹا مریض وسطی صوبے سے ہے اور اس کی عمر پچیس سال ہے۔ یہ ایک ہوٹل کا ملازم ہے۔کینیڈا:شمالی امریکی ملک کینیڈا میں چینی شہر ووہان میں نمودار ہونے والے وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد چار ہے۔امریکا: امریکا کی مختلف ریاستوں میں سات مریضوں میں وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ تین مریض کیلیفورنیا، دو الینوائے، ایک ایک میساچوسٹس اور واشنگٹن ریاستوں میں ہیں۔برطانیہ:لندن حکومت نے بتایا ہے کہ دو مریضوں میں اس وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ جمعے اکتیس جنوری کو ان مریضوں کے حوالے سے اعلان کیا گیا تھا۔ ان میں ایک شخص ووہان کی سیاحت سے لوٹا تھا۔ فرانس:اس یورپی ملک میں کورونا وائرس کے چھ مریض زیر علاج ہیں۔
جرمنی:جرمن حکام نے سات افراد میں نمونیا بیماری کے اس نئے وائرس کی نشاندہی کا بتایا ہے۔اٹلی:اطالوی وزیراعظم جوزپے کونٹو کے مطابق تیس جنوری کو پہلی مرتبہ ایسے دو چینی سیاحوں میں اس وائرس کی نشاندہی ہوئی جو چین سے اٹلی پہنچے تھے۔روس:ماسکو حکومت نے دو افراد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کا بتایا ہے۔سویڈن:اس یورپی ملک میں ایک مریض میں وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔
اس مریض کی شہریت عام نہیں کی گئی ہے۔اسپین: ہسپانوی جزیرے لا گومیرا میں پہلی مرتبہ ایک مریض میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی موجودگی کا پتہ چلا۔ اس ملک میں طبی حکام نے پانچ افراد کو الگ تھلگ کر رکھا ہے لیکن ان میں ابھی تک وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان میں ایک جرمن شہری بھی ہے۔متحدہ عرب امارات:خلیجی ریاست نے ایک مریض میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ علیل شخص چینی شہریت کا حامل ہے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق چین سے15افراد وارد جموں وکشمیر ہوئے ہیں جن میں 8کا تعلق کشمیر اور7کا تعلق جموں سے بتایا جاتا ہے،تاہم ان میں سے کوئی فرد کرونا وائرس کے مرکز ی علاقہ ووہن سے نہیں آیا۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
