تازہ ترین
کورونا وائرس کے خلاف عوام کی جنگ
کورونا وائرس کے پھیلتے خطرات اور خدشات کے پیش نظر وادی کشمیر میں جمعہ کو مسلسل دوسرے روز بھی عملی لاک ڈاؤن رہا جبکہ نماز جمعہ اجتماعات کو محدود کرنے کیلئے انتظامیہ نے وادی بھر میں دفعہ144کے تحت سخت ترین کرفیو جیسی بندشیں اور پابندیاں عائد کیں۔ ادھر وادی بھر میں کہیں نماز جمعہ اجتماعات کو محدود کیا گیا اور کہیں ان اجتماعات کو مکمل طور پر معطل کیا گیا۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والی عالمگیر وبا ’کورونا وائرس‘ نے وادی کشمیر میں بھی باضابط طور پر دستک دی ہے اور اس مرض میں ایک خاتون کے مبتلاء ہونے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی،وہیں انتظامیہ بھی متحرک ہوگئی اورجمعہ کو مسلسل دوسرے روز بھی شہر میں بندشیں اور پابندیاں عائد کیں۔
کشمیر میں کورونا کے خوف کے باعث جہاں جمعہ کو مسلسل دوسرے بھی حقیقی لاک ڈاؤن رہا،وہیں انتظامیہ نے بھی نماز جمعہ اجتماعات کو محدود کرنے کیلئے احتیاطی اقدامات کے تحت پوری وادی میں بندشیں اور پابندیاں عائد کیں۔سرینگر سمیت پوری وادی میں جمعہ کو دکانات،پیٹرول پمپ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہا۔حکام کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں جمعہ کو احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں اور پابندیاں عائد کی گئیں،تاکہ کورونا وائرس کی روکتھام کو یقینی بنایا جاسکے۔سرینگر میں سیکیورٹی فورسز نے جگہ جگہ خار دار تار استعمال کرکے راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا تھا جبکہ اس کے علاوہ لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود کرنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔اس دوران جمعہ کی علی الصبح پولیس گاڑیوں کے ذریعے اعلان بھی کیا گیا کہ لوگوں گھروں میں رہیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
پولیس لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے یہ اعلان کررہی تھی کہ پورے شہر میں دفعہ144نافذ کی گئی،لہٰذا لوگ گھروں میں ہی رہیں جبکہ پولیس یہ بھی کہہ رہی تھی کہ کورونا وائرس کی روکتھام کیلئے لوگوں کا تعاؤن لازمی ہے اور مل جل کر ہی اس وبا سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ جمعہ کی صبح صرف سرکاری اور لازمی سروس کے ملازمین،میڈیا نمائندوں اور ایمرجنسی کی صورت میں گھروں سے باہر آنے والے افراد کو ہی جانے اور آنے کی اجازت دی جاتی تھی۔حکام نے بین الضلعی اور اندرونی ضلعی ہر طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ سروس کیساتھ ساتھ وادی بھر میں بارہمولہ۔بانہال ریل سروس کو معطل رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ادھر وادی بھر میں پہلے ہی پرائمری سے لیکر یونیورسٹی سطح کے سبھی تعلیمی اداروں کو31مارچ تک بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ادھر موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر شہر میں متعدد مساجد میں جمعہ کی نماز کو معطل کر دیا گیاجبکہ متعدد مساجد میں 25 منٹ سے بھی کم وقت میں اجتماعی نماز ادا کی گئی جس کے دوران ائمہ کرام نے مختصر نماز ادا کی۔
جمعہ کی نماز میں شریک لوگوں کو ماسک پہنے دیکھا گیا اور وہ اپنے دوستوں اور عزیزوں سے مصافحہ کرنے سے گریزاں رہے۔ آثار شریف شریف حضرتبل،مرکزی جامع مسجد سرینگر،امام باڈہ بڈگام سمیت دیگر کئی بڑی اور مرکزی جامع مسا جد میں جمعہ اجتماعات کو یا محدود کیا گیا اور یا تو مکمل طور پر معطل کردیا گیا۔کشمیرمیں ایک مذہبی تنظیم، جمعیت اہل حدیث نے جمعرات کے روز کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جموں و کشمیر بھر میں جمعہ کی مکمل نماز کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مسجد میں صرف لازمی فرض نماز کی ادائیگی کی جائے گی اور باقی تمام ارکان معطل کر دئے جائیں گے۔تنظیم کا اجلاس صدر غلام محمد المدنی کی زیر صدارت ہوا۔
اس میں جنرل سکریٹری ڈاکٹر لطیف الکندی اور مفتی جموں و کشمیر محمد یعقوب بابا نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جمعہ کی مکمل نماز جموں و کشمیر میں 31 مارچ تک ملتوی کردی جائے گی۔ کشمیر میں بھی مذہبی رہنما ہفتے کے روز اس معاملے پر اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ کشمیر کے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کے روز تمام مذہبی رہنماوں کا اجلاس دن دو بجے بلایا ہے۔ہفتہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے اس اجلاس میں جماعت اسلامی، جمعیت اہل حدیث، عوامی ایکشن کمیٹی، متحدہ مجلس علما، جمعیت ہمدانی، اتحاد المسلمین، متحدہ مسلم کونسل، انجمن اتحاد اتحاد المسلمین،مسلم پرسنل لا بورڈ، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ اور لال بازار، کاروان اسلامی، انجمنِ حمایت الاسلام، اسلامک اسٹڈی سرکل، اور انجمن شرعی شیعان اور دیگر تنظیمیں شرکت کریں گی۔مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ ہم تین نکات پر تبادلہ خیال کریں گے جس میں مسجدوں کو صرف نماز جمعہ کے لئے محدود رکھنا، جمعہ کے روز مختصر خطبہ، اور مساجد میں نماز کو مکمل طور پر منسوخ کرنا شامل ہیں۔ ہمارے پاس اسلام میں یہ آپشن ہے۔ اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔کاروان اسلامی کے سرپرست مولانا غلام رسول نے کہا کہ اسلام میں ایک ایسی شق موجود ہے جس کے تحت زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی صورتحال کے وقت مساجد میں نماز عارضی طور پر منسوخ کی جاسکتی ہے۔ دریں اثنا، مختلف افکار سے وابستہ مختلف مذہبی اداروں کی تنظیم متحدہ مجلس علما (ایم ایم یو)، جس کی سربراہی میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں،نے علمائے کرام، خطیبوں اور مساجد کے انتظامات سے اپیل کی ہے کہ وہ رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔
جمعہ کی نماز میں عربی خطبہ انتہائی مختصر اور دعا صرف موجودہ وبا سے بچنے کیلئے کی جائے۔جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کی جانب سے آنے والی تمام مجالس اور محفلوں کو فی الحال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے-جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر اور سینئر پیپلز کانفرنس رہنما مولانا عمران رضا انصاری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کی جانب سے آنے والے دنوں میں جس طرح کی بھی مجلس یا محفل منعقد ہونے والی تھی انہیں فی الحال موخر کردیا گیا ہے۔
اب کسی بھی طرح کے عوامی اجتماعات منعقد نہیں کیے جائیں گے۔کشمیر کے گرمائی صدر مقام سری نگر اور وادی کے چند دوسرے علاقوں میں جزوی لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔یہ اقدام سری نگر کے گنجان آبادی والے خان یار علاقے سے تعلق رکھنے والی 67سالہ خاتون کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا گیا ہے۔کرونا وائرس کی شکار خاتون چند روز قبل ہی عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس پہنچی تھی۔ متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم خان یار میں گھر گھر جا کر لوگوں کا موقع ہی پر طبی معائنہ بھی کیا۔وادی میں کرونا وائرس کا یہ پہلا کیس ہے۔ جس کے بعد پورے علاقے خاص طور پر سری نگر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
