تازہ ترین
پیلز کانفرنس کے ضلع صدر بڈگام سے اظہار تعزیت
پیپلز کانفرنس کی کی طرف سے جاری ایک بیان میں پارٹی کے ضلع صدر بڈگام فردوس فراش کی والدہ کے وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پورے خاندان کے ساتھ ےعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس پیپلز کانفرنس کے سینئر لیڈر محمد سلیمان بٹ کی جانب سے موصولہ ایک بیان میں پارٹی کے ضلع صدر بڈگام فردوس فراش کے والدہ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پورے خاندان خاص کر فردوس فراش کے ساتھ تعزیت کا اظہار کر کے مرحومہ کے حق میں دعا مغفرت اور لواحقین کے صبر کی دعا ہے، ۔ بیان کے مطابق پارٹی کے دیگر لیڈران نے بھی اپنے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔
دنیا
شام میں ترک فوجی موجودگی قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: شامی وزیر خارجہ
دمشق، شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے رواں ہفتے کے اوائل میں نشانہ بنائے گئے ابو ال ظہور ایئربیس پر ترک فوجی موجودگی قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
الشیبانی نے بدھ کو امریکی نیوز ادارے ایکسِیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ترک فوجی حکام نے تربیت اور وسیع تر فوجی تعاون کے سلسلے میں ایئربیس کا دورہ ضرور کیا تھا، تاہم انہوں نے ترک فوج کی تعیناتی یا فوجی ڈھانچے کی تعمیر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنصیب بڑی حد تک خالی تھی۔
انہوں نے کہا، ’’وہاں ترک اڈہ قائم کرنے، مستقل ترک فوجی موجودگی رکھنے یا اس مقام پر ترک فوجی تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ بات اسرائیل پر واضح کر چکے ہیں۔
منگل کو اسرائیل نے حلب کے قریب ابو ال ظہور ایئربیس کے رن وے اور اسٹوریج تنصیبات پر آٹھ فضائی حملے کیے تھے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملے مارچ کے بعد شامی حکومت کی تنصیبات پر اسرائیل کی پہلی کارروائی معلوم ہوتے ہیں۔
حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔
الشیبانی نے کہا کہ اسرائیل کے پاس اس تنصیب کو نشانہ بنانے کا کوئی جائز جواز نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں دونوں ممالک کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام میں اضافہ کریں گی۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شام میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کی افواج شام میں سرگرم ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے حملے سے قبل شام کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایئربیس پر ترک فوجی موجودگی کی اجازت نہ دے۔
نیتن یاہو نے بدھ کو کہا، ’’ہمارا پیغام بالکل واضح تھا: ایسا نہ کریں۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے پیغام کو پوری طرح نہیں سمجھا۔‘‘
جمعرات کی صبح اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر الزام لگایا کہ وہ ’’ترکی کو شام میں خطرناک مہم جوئی کی طرف دھکیل رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا، ’’اسرائیل کسی بھی فریق کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘
کاٹز نے مزید کہا کہ اردوان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ترک پارلیمنٹ میں اسرائیل کے خلاف ’’خالی اور گمراہ کن تقاریر‘‘ جاری رکھیں، بجائے اس کے کہ وہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے عزم کو آزمانے کی کوشش کریں۔
ترکی نے شام میں اپنی فوجی پوزیشن کے حوالے سے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’ناقابلِ قبول دعوے‘‘ قرار دیا ہے۔
ترک وزارت دفاع نے جمعرات کو کہا کہ انقرہ شام کو اپنی فوجی صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔
وزارت نے کہا کہ اسرائیل کے حملوں سے قبل یا دوران ایئربیس پر کوئی ترک فوجی وفد موجود نہیں تھا۔ اس نے عالمی برادری سے اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مزید ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا، جنہیں اس نے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
نیٹو کے رکن ترکی نے شامی صدر احمد الشرع کے اہم اتحادیوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ انقرہ اسرائیل پر شام کو غیر مستحکم کرنے اور نئی شامی انتظامیہ کو کمزور کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔
ترکی بارہا عالمی برادری سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور شام کی علاقائی سالمیت کا احترام یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔
گزشتہ سال ترکی اور اسرائیل نے شام میں کسی ممکنہ فوجی تصادم یا واقعے سے بچنے کے لیے رابطے کا ایک نظام بھی قائم کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آر ایس ایس کو ڈیڑھ ارب لوگوں کی سچائی جاننے کا حق کس نے دیا: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کونشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ ملک کے ڈیڑھ ارب لوگوں کی سچائی جانتا ہے، جبکہ ہر شخص اپنی سچائی خود جانتا ہے انہوں نے سوال کیا کہ آخر آر ایس ایس کو ڈیڑھ ارب لوگوں کی سچائی جاننے کا حق کس نے دیا راہل نے جواہر بھون میں یہاں جمعرات کو سابق وزیر اعظم اور بھارت رتن راجیو گاندھی کے 82 ویں یوم پیدائش پر منعقدہ ‘ہرا بھرا سوراج: راجیو گاندھی کے نقطہ نظر کو خراج عقیدت’ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں نظریاتی لڑائی اسی سوال پر ہے کہ سوراج کو اکثر آزادی کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ اس کا مطلب خود پر حکومت کرنا ہے۔ یہ ذمہ داری اور سوچنے کا طریقہ ہے۔ کوئی شخص دوسرے کو آزادی دے سکتا ہے، لیکن کسی دوسرے کو سوراج نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خود کو گہرائی سے سمجھنا اور دنیا کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کو سمجھنا ہی سوراج ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی چاہتے تھے کہ ملک کا ہر شخص اس راستے پر چلے۔ کوئی شخص انجینئر، باورچی، موچی یا خلاباز بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی پسند کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ حکومت اور ملک کا کام لوگوں کی تخیل کے دروازے کھولنا اور انہیں اپنے منتخب کردہ راستے پر آگے بڑھنے میں مدد کرنا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ گاندھی جی کا سوراج کا نقطہ نظر ایسی مہنگی تعلیم کے نظام کے ساتھ ممکن نہیں ہے اور یہ ایسے ناانصافی پر مبنی امتحانی نظام کے ساتھ بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دو تین لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز مالیاتی نظام ملک کی گہرائی تک نہیں پہنچنے والا ہے اور اس سانچے کا سیاسی نظام بھی گاندھی جی کے نقطہ نظر کے مطابق نہیں ہو سکتا۔
مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ خراب ماحول انسان کو سوراج سے دور کر دیتا ہے اور اس کی قدرتی حالت کو بدل دیتا ہے، جس سے وہ اپنی زندگی ٹھیک سے نہیں جی پاتا۔ گاندھی جی کا ماننا تھا کہ ہر ذی روح ایک منفرد اکائی ہے اور سچائی تک پہنچنے کا اس کا اپنا راستہ ہے۔ اگر وہ خود یہ ماننے لگیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کی سچائی جانتے ہیں تو یہ غلط ہوگا، کیونکہ انہوں نے وہ تجربہ نہیں کیا جو اس شخص نے کیا اور نہ ہی وہ دیکھا ہے جو اس نے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی سچائی جاننے اور اپنی زندگی کا راستہ چننے کا حق ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں سے کہتی ہے کہ ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ آدیواسیوں سے کہتی ہے کہ ان کی زمین لے لی جائے گی اور مخالفت کرنے پر انہیں گولی مار دی جائے گی، جبکہ دلتوں سے کہا جاتا ہے کہ ان کا استحصال اہمیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو کچھ کیا گیا ہے، اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ راہل نے کہا کہ ملک کے ہر شخص کو، چاہے وہ کسی بھی مذہب، ذات، عمر یا صنف کا ہو، یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ اس ملک کا حصہ ہے، یہاں اس سے محبت کی جاتی ہے، اس کا احترام کیا جاتا ہے اور سچائی کی اس کی تلاش اہمیت رکھتی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
لداخ میں قائم کی جائے گی جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی بنچ: شاہ
نئی دہلی، حکومت نے لداخ میں الگ سے ہائی کورٹ یا اس کی مستقل بنچ قائم کرنے کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے وہاں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی بنچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس فیصلے کو منظوری دی گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو یہ معلومات دی۔
امت شاہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ لداخ میں ہائی کورٹ کی بنچ بننے سے وہاں کے لوگوں کی انصاف تک رسائی آسان ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لداخ کی ہمہ جہت ترقی اور آئینی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے پوسٹ میں لکھا، “وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے لداخ میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی ایک بنچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس قدم سے لداخ کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے انصاف تک رسائی آسان ہوگی اور قانونی خدمات کا فائدہ اٹھانے میں لگنے والا وقت کم ہوگا۔ حکومت نے کہا کہ وہ لداخ کی ہمہ جہت ترقی اور آئینی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔”
قابل ذکر ہے کہ لداخ کی سیاسی و سماجی تنظیمیں اور عوام طویل عرصے سے حکومت کے سامنے اپنا یہ مطالبہ رکھ رہے تھے۔ لداخ کے جغرافیائی اعتبار سے دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو قانونی معاملات کے حل کے لیے سری نگر جانا پڑتا ہے جس سے انہیں کافی دشواری اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
جموں و کشمیر7 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں میں عظیم الشان ترنگا ریلی نکالی گئی
-
دنیا7 days agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoمعروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
-
جموں و کشمیر7 days agoمحبوبہ نے بی جی ایس بی یو کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کے متاثر ہونے سے پہلے حکومت سے کارروائی کی اپیل کی
