تازہ ترین
حزب آپریشنل چیف کی ہلاکت، بڈگام میں پُر تشدد مظاہرے ،پولیس افسر زخمی
جنوبی ضلع پلوامہ کے بیگ پور ہ اونتی پورہ میں حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف،ریاض نائیکو کی ہلاکت پر بڈگام میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس افسر سر میں پتھر لگنے سے زخمی ہوا ہے۔ادھر وادی میں جمعہ کومسلسل تیسرے روز بھی بی ایس این ایل پوسٹ پیڈ کے بغیر تمام مواصلاتی کمپنیوں کے پوسٹ پیڈ و پری پیڈ کے علاوہ موبائل انٹر نیٹ خدمات منقطع رہیں۔موبائیل کالنگ اور انٹر نیٹ خدمات مسلسل بند رہنے سے جہاں سے لاکھوں صارفین مواصلاتی رابطے سے محروم ہوگئے،وہیں ورک فرام ہو م متاثر ہوچکا ہے جبکہ طلاب آن لائنپڑھائی (کلاسز) محروم ہوگئے ہیں۔تاہم مجموعی طور پر وادی کشمیر میں حالات پرامن رہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پوری وادی میں بدھ کوموبائل کالنگ و ایس ایم ایس سروس کے علاوہ انٹر نیٹ سہولیات بند کی گئیں تھیں جو جمعہ کو مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہیں۔2۔جی انٹرنیٹ کو بند کرنے کی کے بعد طلبا بھی آن لائن پڑھائی سے محروم ہوگئے ہیں۔موبائل و انٹر نیٹ سروس بند ہونے سے آٹھویں جماعت سے بارہویں اور پیشہ وارانہ کورسز کیلئے تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلاب آن لائن کلاسز لینے سے رہ گئے ہیں جبکہ پرائمری کلاسز کے بچے بھی آن لائن کلاسز لینے سے محروم ہوئے۔
لاک ڈاون کے دوران انتظامیہ نے تدریسی عملے کو طلبا کیلئے آن لائن کلاسز کے احکامات صادر کیے تھے تاکہ طلبا کی تعلیم زیادہ متاثر نہ ہو، لیکن مواصلاتی نظام پر پابندی سے یہ سلسلہ بھی اب ختم ہو گیا ہے۔جمعرات کو انسپکٹر جنرل آف پولیس،وجے کمار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حالات مکمل طور پر قابو میں آنے کے بعد انٹر نیٹ سروس بحال کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ افواہوں کو روکنے کیلئے احتیاطی اقدامات اٹھانا لا زمی ہے۔ادھر وادی کشمیر میں لاکھوں صارفین مواصلاتی رابطے سے محروم ہیں۔ مواصلاتی نظام پر پابندی عائد کرنے سے وادی میں لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔لاک ڈاون کے دوران کشمیر میں ہزاروں مریض فون کے ذریعے علاج کے لئے ڈاکٹروں سے رجوع کر رہے تھے، لیکن گزشتہ 3روز سے مواصلاتی نظام پر پابندی کے سبب وہ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔لاک ڈاون کی وجہ سے انتظامیہ نے ہسپتالوں میں الیکٹیو سرجریز اور او پی ڈی بند کر دی ہیں جس سے غیر کوروناوائرس بیماروں کا علاج بھی متاثر ہوگیا ہے۔بیشتر ڈاکٹروں نے بیماروں کیلئے آن لائن یا فون کے ذریعے علاج اور مشورہ دینے کا عمل شروع کیا تھا اور لاک ڈاون کے دوران یہ سلسلہ جاری تھا۔
سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے بتایا کہ انکی حاملہ اہلیہ کا زچگی کے حوالے سے وقت نزدیک آرہا ہے اور آنے والے دنوں میں سرجری متوقع ہے، لیکن گزشتہ 3دنوں سے وادی کشمیر میں موبائل سروس معطل ہونے کی وجہ سے وہ ڈاکٹر سے رابطہ قائم نہیں کر پا رہے ہیں جس وجہ وہ شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں۔انتظامیہ نے بی ایس این یل موبائل کے علاوہ دیگر نجی کمپنیوں کی موبائل سروس منقطع کی ہیں، جبکہ کشمیر میں بی ایس این ایل موبائل صارفین کی تعداد بہت کم ہے جس کی وجہ سے بیشتر آبادی گزشتہ 3 روز سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
ادھر صحافی بھی مواصلاتی بندش کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں۔اس دوران ’ورک فرام ہوم‘ کا منصوبہ بھی فی الوقت فوت ہوگیا کیونکہ 2جی انٹر نیٹ بندش کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران گھر سے کام کرنے والے بھی گزشتہ دنوں سے ہاتھ پر ہاتھ درے بیٹھے ہیں۔یاد رہے کہ جنوبی ضلع پلوامہ کے بیگ پورہ گاؤں میں حزب المجاہدین کا اعلی کمانڈر ریاض نائکو کی ہلاکت کے بعد سرینگر سمیت وادی بھر میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ موبائل سروس تیسرے روز بھی معطل رہی۔وادی میں جگہ جگہ پولیس و دیگر فورسز بھی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ ممکنہ مظاہروں کو روکا جا سکے۔قابل ذکر ہے کہ بدھ کو پلوامہ میں حزب کمانڈر ریاض نائیکو کی ہلاکت کے موقعہ پر پر تشدد مظاہروں کے دوران ایک عام شہری ہلاک جبکہ کم از کم15افراد زخمی ہوئے جن میں 3کو گولیاں لگیں جبکہ12پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئے۔
ادھر بعض اطلاعات کے مطابق وسطی ضلع بڈگام میں جمعہ کے روز حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو کی ہلاکت کیخلاف مظاہروں نے پْر تشدد شکل اختیار کی جس کے دوران ایک پولیس آفیسر زخمی ہوگیا۔ذرائع کے مطابق ضلع کے نصر اللہ پورہ علاقے میں مظاہروں کے دوران ڈی ایس پی، فیاض حسین کے سر پر پتھر لگنے سے چوٹ آئی۔
مظاہرین اونتی پورہ میں دو روز قبل نائیکو اور اس کے ساتھی کی ہلاکت کیخلاف احتجاج کررہے تھے۔پولیس نے مظاہرین کیخلاف ٹیر گیس کا استعمال کیا تاہم مظاہرین میں سے کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔حکام نے کہا کہ مظاہرین نے پولیس اور فورسز کو سنگبازی کا نشانہ بنایا جس کے دوران پولیس آفیسر زخمی ہوگیا۔دریں اثناء پولیس ترجمان نے بتایا کہ وادی کشمیر جمعہ کو مجموعی طور پر حالات پر امن رہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
