تازہ ترین
ملک گیر لاک ڈاءون :14روزہ چوتھا مرحلہ شروع
ملک گیر لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے کے اختتام کیساتھ ہی سوموار کو 14روز ہ چوتھا مرحلہ شروع ہوگیا۔تاہم وادی کشمیر میں کورونا لاک ڈاؤن کے 2ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور اب یہ تیسرے مہینے میں داخل ہوچکا ہے۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں سوموار کو مسلسل 61ویں روز بھی کورونا لاک ڈاؤن سختی کیساتھ نافذ رہا۔گزشتہ دنوں کے مقابلے میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی۔24گھنٹوں کے دوران 2مریضوں کی موت اور مریضوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ ہونے کے بیچ سوموار کو لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی،تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔وادی کشمیر میں شمال وجنوب میں معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے۔شہر ودیہات میں ہر طرح کی دکانیں،بازار،تجارتی و کاروباری اداے مرکز بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔اس دوران لاک ڈاؤن کو سختی کیساتھ لاگو کرنے کیلئے سڑکوں،پلوں اور چوراہو ں پر پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے جگہ جگہ ناکہ بندی اور تار بندی بھی کی گئی ہے۔گزشتہ دنوں کے دوران شہر کے سیول لائنز میں نجی گاڑیوں میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ شہر خاص میں بھی نقل وحرکت میں اضافہ ہی دیکھنے کو ملا۔ادھر ضلع انتظامیہ بڈگام نے سوموار کے روز وسطی کشمیر کے ضلع میں دفعہ144کا نفاذ عمل میں لایا۔یہ اقدام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ضلع کمشنر بڈگام کی طرف ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہلک وائرس سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔آرڈر میں بتایا گیا ہے ضلع کے اندر کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اضافی اقدامات کئے گئے ہیں۔آرڈر میں درج ہے کہ ضلع میں کورونا کے پھیلاؤکو روکنے کیلئے دفعہ144نافذ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی شام 7 بجے سے صبح 7 بجے تک لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل پر مکمل پابندی عاید کی گئی ہے۔آرڈر کے مطابق لوگوں کو صرف شدید مجبوری کے تحت ہی کہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرینگر سمیت وادی بھردفعہ 144کے تحت حکم امتناعی برقرار ہے۔ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلہ آج(سوموار) سے شروع ہوا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کل ملک میں لاک ڈاؤن کی مدت اِس مہینے کی31 تاریخ تک بڑھانے کا اعلان کیا۔24مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن سے ملک میں کووڈ۔19 کو پھیلنے سیروکنے میں کافی مدد ملی ہے۔
البتہ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں قابل قدر نرمی کی جائیگی۔ مرکزی سرکار نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریڈ، اورینج اور گرینزون کی حدبندی کی اجازت دے دی ہے۔گھیرا بندی والے علاقے ریڈ اور اورینج زون کے دائرے میں آئیں گے، جبکہ علاقے کا ایک چھوٹا حصہ بفر زون ہوگا۔ گھیرا بندی والے علاقوں میں طبی اور ضروری سامان کی رسد کو چھوڑ کر کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزارت داخلہ نے اْن سرگرمیوں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جن پر اگلے14دن تک پورے ملک میں پابندی عائد رہے گی۔سبھی گھریلو اور بین الاقوامی ہوائی سفر، طبی اور دفاعی خدمات کو چھوڑ کر، باقی لوگوں کے لیے لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں بھی بند رہے گا۔ میٹروریل بھی ابھی بند رہے گی۔ اسکول، کالجز، تعلیمی، تربیتی اور کوچنگ ادارے پورے ملک میں بند رہیں گے۔
ہوٹل اور ریستوراں بھی بند رہیں گے، تاہم مسافروں کی آسانی کے لییہوائیاڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ڈپو میں کینٹین اور کھانے کے اسٹالز کھولنے کی اجازت ہوگی۔ سنیما ہالز، جم، شاپنگ مال، تفریحی پارک یا ایسی ہی جگہیں جہاں لوگ اکٹھا ہوتے ہوں،پورے ملک میں بند رہیں گی۔ سیاسی، سماجی اور ثقافتی عوامی جلسوں سمیت ہر طرح کے جلسے پر احتیاط کے طور پر پابندی رہے گی۔ عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماعات پر سختی کے ساتھپابندی عائد رہے گی۔ شام سات بجے سے صبح سات بجے تک کا رات کا کرفیو31 مئی تک جاری رہے گا۔ریاستیں اور مرکزی انتظام والے علاقے بین ریاستی بس خدماتاور دیگر گاڑیوں کی آمد ورفت دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔بین ریاستی بس خدمات کے بارے میں فیصلہ متعلقہ ریاستوں کی باہمی رضامندی سے کیا جائے گا۔سرکار نے اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم کھولنے کی بھی اجازتدے دی ہے، لیکن اِن مقامات پر لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔سرکار نے مختلف اداروں اور آجروں پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا ہے کہ سبھی ملازمین اپنے موبائل فون پر آروگیہ سیتو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔سرکار نے65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں،حاملہ خواتین اور10 سال سے کم عمر کے بچوں کو صلاح دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن نافذ رہنے تک اپنے گھروں میں ہی رہیں۔
ادھر ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاون مزید 14 دنوں کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ لاک ڈاون کا چوتھا مرحلہ ہے جو پیر کے روز یعنی18 مئی سے شروع ہو گیا اور31 مئی کو ختم ہو گا۔ اس پورے معاملے پر سی این بی سی ٹی وی۔18 کے ساتھ خاص بات چیت میں پی وی آر کے چیئرمین اور ایم ڈی اجئے بجلی نے بتایا کہ15 جون کے آس پاس شاپنگ مال کھل سکتے ہیں۔ اس کے ایک۔ دو ہفتے بعد سنیما ہال کو کھولنے کی منظوری بھی دی جا سکتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ مارچ کے آخر سے ملک کی سبھی جگہوں پر شاپنگ ہال اور سنیما ہال بند ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
اس کے بعد وزارت داخلہ نے نئے رہنما خطوط جاری کر دئیے۔ اس کے مطابق، سنیما ہال، شاپنگ مال، جم، سوئمنگ پول، انٹرٹینمنٹ پارک، تھئیٹر، آڈیٹوریم اور اسمبلی ہال بند رہیں گے۔اجے بجلی آگے کہتے ہیں کہ سنیما ہال میں بیٹھنے کے لئے کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ جیسے فیملی اینڈ گروپ کو ایک ساتھ بٹھایا جائے گا۔ وہیں، دوسرے لوگوں کو بٹھانے کے لئے کچھ دوری رکھی جائے گی۔ لاک ڈاون کے بعدجلدی۔ جلدی فلمیں ریلیز ہو سکتی ہیں۔ وہیں، سبھی لوگوں کے لئے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر فلمیں ریلیز کرنا آسان کام نہیں ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
