تازہ ترین
کورونا وائرس: اسپتالوں میں بستروں اوروینٹی لیٹروں کی کمی ،700نئے وینٹی لیٹر خریدے گئے:حکام
سرینگر:وادی کشمیر میں عالمگیر وبا کی برق رفتار پھیلاءو کے نتیجے میں طبی ایمر جنسی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ،کیونکہ اسپتالوں پر مریضوں کا دباءو بڑھنے کیساتھ ساتھ اب مریضوں کےلئے بسترے کم پڑ رہے ہیں ۔ ادھر اسپتالوں میں وینٹی لیٹر کی کمی بھی شدت کیساتھ محسوس کی جارہی ہے ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں کورونا مثبتمعاملات اور اموات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے جبکہ وادی میں کورونا طبی ایمر جنسی پیدا ہوگئی ہے ۔ اسپتالوں میں مریضوں کا حد سے زیادہ دباؤ ہے جبکہبستروں کی کمی وجہ سے نئے کووڈ ۔ 19وارڈ قائم کئے جارہے ہیں ۔ سرینگر میں 3اسپتالوں سی ڈی اسپتال ،سکمز بمنہ اوررعناواری کو کووڈ ۔ 19مریضوں کےلئے مخصوصرکھا گیا ہے جبکہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ اور صدر اسپتال سرینگر میں بھی مخصوص شعبے قائم کئے گئے ہیں ۔
وباء کے برق رفتار پھیلاؤ اور متاثرین کی بڑھتی تعداد کا اندازہ اس بات لگایا جاسکتا ہے کہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ انتظامیہ نے سرائے بھی خالی کرائی جبکہ مریضوں کے علاج کےلئے پلا زما تھراپی کے طریقہ علاج کو بھی شروع کیا گیا ۔ اس کے علاوہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ نے علیحدہ پلاز ما بینک قائم کرنے کا اعلان بھی کررکھا ہے اور پلازما ڈونرس کےلئے ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ۔
ادھر ایک مقامی انگریزی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر میں کورونا کیسز میں اضافہ کے بیچ اسپتالوں میں وینٹی لیٹروں کی شدید کمی ہے ۔ رپورٹ میں محکمہ صحت وطبی تعلیم کے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں 78 (ہائی ۔ اینڈ ) اور 41(پوٹیبل ) وینٹی لیٹر ہیں ۔ اعداد وشمار کے مطابق وادی میں 4264مریضوں کےلئے19(ہائی ۔ اینڈ) وینٹی لیٹرس ہیں جبکہ جموں 859مریضوں کےلئے59وینٹی لیٹر ہیں ۔ اعداد وشمار کے مطابق کشمیر میں 23(پوٹیبل) وینٹی لیٹر ہیں جبکہ جموں میں انکی تعداد18ہے ۔ رپورٹ میں صحت وطبی تعلیم کے کمشنر اتل ڈلو نے بتایا ہے کہ کیسوں میں اضافہ کے پیش نظر قبل ازوقت کی ہی اقدامات کئے ہیں اور700وینٹی لیٹر خریدے گئے ۔
ان کا کہناتھا کہ ان وینٹی لیٹرس میں سے 70فیصد کشمیر کو دئے جائیں گے جبکہ اننت ناگ ،بارہمولہ اور سرینگر کے اسپتالوں کو پہلے ہی سپلائی کی گئی ،تاہم نصب کرنے کا معاملہ التواء میں ہے ،جو بہت جلد کیا جائیگا ۔ کئی اسپتالوں کے ذراءع نے کے این ایس کو بتایا کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹروں کی تعداد انگلیوں پر گننے کے برا بر ہے جبکہ نمو نیا میں مرض اور شدید کورونا متاثر ین کو یہی مشین زندہ رکھتی ہے ۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ نہ صرف وینٹی لیٹروں کی ضرورت ہے بلکہ ان چلانے والے ٹیکنیشنز کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ کرونا وائرس کی عالمگیر وبا کے پیش نظر وینٹی لیٹر کا ذکر میڈیا میں اکثر سننے میں آ رہا ہے ۔
وینٹی لیٹر کی ضرورت کب پڑتی ہے;238;:کرونا وائرس کے 80 فیصد مریض معمولی بیمار ہوتے ہیں اور بغیر علاج کے خود ہی صحت یاب ہو جاتے ہیں ۔ البتہ معتبر طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شاءع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کا شکار بننے والے پانچ فیصد مریض ہنگامی طبی امداد کے مراکز میں پہنچ جاتے ہیں اور ان میں سے نصف کو، یعنی کل تعداد کے ڈھائی فیصد کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اب تک شاءع ہونے والی تحقیق کے مطابق کووڈ19 کے مریضوں کی ایک قلیل تعداد پھیپھڑوں کی شدید بیماری ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (اے آر ڈی ایس) میں مبتلا ہو جاتی ہے ۔
اس بیماری میں پھیپھڑے سوزش کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی تھیلیوں میں پانی بھر جاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھیپھڑے اپنا فعل انجام نہیں دے سکتے، یعنی دوسرے الفاظ میں جسم کو آکسیجن فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتِ حال ہے، جس کے تدارک کے لیے مریض کو مصنوعی طریقے سے وینٹی لیٹر کے ذریعے آکسیجن پہنچائی جاتی ہے ۔ وینٹی لیٹر کیسے کام کرتا ہے;238;:وینٹی لیٹر ایک پیچیدہ مشین ہے، جس کے تین بڑے حصے آکسیجن سلنڈر، کمپریسر اور کمپیوٹر ہیں ۔
ایک نلکی مریض کی ناک یا منہ سے گزار کر پھیپھڑوں تک پہنچائی جاتی ہے، جس کے بعد کمپریسر کے ذریعے آکسیجن سلنڈر سے آکسیجن براہِ راست مریض کے پھیپھڑوں تک فراہم کی جاتی ہے ۔ ایک اور نلکی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پھیپھڑوں سے نکال کر باہر لے آتی ہے ۔ وینٹی لیٹر ہوا کے اندر حسبِ ضرورت آکسیجن شامل کر کے مریض کے پھیپھڑوں تک براہِ راست بھیجتا ہے ۔ عام طور پر مریض سانس خود باہر نکالتا ہے لیکن اگر سانس لینے کا عمل مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے تو وینٹی لیٹر سانس باہر بھی نکال سکتا ہے اور یوں مریض کے پھیپھڑوں کا کام کرنے لگتا ہے ۔
چونکہ شدید بیمار مریض کی خاصی توانائی سانس لینے اور باہر نکالنے پر خرچ ہو جاتی ہے، اس لیے وینٹی لیٹر اس کے لیے سانس لے کر صحت بحال کرنے کے عمل کی راہ ہموار کر سکتا ہے ۔ ویسے تو آکسیجن ماسک کے ذریعے بھی پہنچائی جا سکتی ہے لیکن وینٹی لیٹر اس سلسلے میں زیادہ موثر ہے اور آکسیجن ضائع کیے بغیر مریض کو فراہم کر سکتا ہے ۔ وینٹی لیٹر کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کی مدد سے پھیپھڑوں کے اندر دباوَ برقرار رکھا جا سکتا ہے تاکہ وہ پچک نہ جائیں ۔
مزید یہ کہ وینٹی لیٹر کی ٹیوب کی مدد سے پھیپھڑوں میں جمع ہونے والا پانی باہر نکالا جا سکتا ہے ۔ اس دوران ایک مخصوص کمپیوٹر اس سارے عمل کی نگرانی کرتا ہے اور مریض کی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی ترسیل میں کمی بیشی لاتا رہتا ہے ۔
دنیا
سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
ٹورنٹو، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی محترمہ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندستان-کینیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر کینیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کینیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔
اجلاس میں کینیڈا اور ہندستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ہندستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ 2 اور نجی بازار فنڈ 2 کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
محترمہ سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، 4 آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ 2018 کے 11.18 فیصد سے کم ہوکر مارچ 2025 میں 2.31 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کینیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
