تازہ ترین
کورونا لاک ڈاؤن ۔ 2کا دائرہ وسیع تراور سخت
شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں ، بڑے جمعہ اجتماعات پر قدغن
جگہ جگہ لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے پولیس کا اعلان ،لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین
خبراردو:-
سرینگر: وادی کشمیر میں کورونا لاک ڈاءون ۔ 2کا دائرہ وسیع تر ہونے کیساتھ ساتھ جمعہ کو پابند یاں اور بندشیں سختی کیساتھ نافذ کی گئیں ۔
شہر سرینگر میں جمعہ کو لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کرفیو جیسی قدغنیں رہیں ،جس دوران جگہ جگہ پولیس نے جپسیوں پر لگے لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی جبکہ بڑے جمعہ اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق کورونا مثبت معاملات ،اموات کے پیش نظر اور وباکے برق رفتار پھیلاءو کو روکنے کےلئے انتظامیہ کی جانب سے نافذ کئے گئے لاک ڈاءون ۔ 2کے پانچویں روز جمعہ کو شہر ودیہات میں پابندیاں اور بندشیں وسیع تر کرنے کیساتھ ساتھ مزید سخت کردی گئیں ۔
دارالحکومت سرینگر میں جمعہ کی علی الصبح لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو روکنے کےلئے تار بندی ،گھیرا بندی اور ناکہ بندی کی گئی ۔ شہر خاص میں جمعہ کو بندشیں سخت کردی گئیں ،جس دوران لوگوں کی نقل وحرکت کو گھر کی چار دیواری تک محدود رکھنے کےلئے گلی کوچوں کیساتھ ساتھ مرکزی رابطہ سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا اور صرف لازمی سروس سے وابستہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کی اجازت دی جارہی تھی ۔
اس دوران جگہ جگہ پولیس کی ٹی میں گھروں سے باہر آئے لوگوں کو واپس گھروں طرف جانے کےلئے کہتی ہوئی دیکھی گئیں جبکہ صبح کے وقت کھولی گئیں دکانیں بھی بند کرائی گئیں ۔ شہر خاص اور سیول لائنز کے درمیان رابطہ سڑکیں اور پل مکمل طور پر سیل کئے گئے تھے اور آوا جاہی کو مسدود کیا گیا تھا ۔ سرینگر کے کئی علاقوں میں جمعہ کو لاک ڈاؤن سخت سے سخت کیا گیا اور سڑکوں پر مزید بندشیں اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ،جس کی وجہ سے سیول لائنز اور پائین شہر میں عام زندگی کا کاروبار گزشتہ دنوں کی ہی طرح مفلوج ہوگیا ۔
سر نو لاک ڈاؤن کے جمعہ کو مسلسل پانچویں روز بندشوں کو سخت و موثر بنانے کیلئے اضافی فورسز و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا اور سڑکوں پر نجی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں سے پوچھ تاچھ کا عمل بھی سخت کیا گیا ۔ بازاروں ،دکانوں اور تجارتی وکاروباری مراکز بند رہنے کے نتیجے میں ہرسْو ہو کا عالم چھایا رہا،اور لازمی خدمات کے علاوہ ایمبولنس گاڑیاں ہی زیادہ تر سڑکوں پر دیکھنے کو ملی ۔
کئی علاقوں میں تاہم انتظامیہ کی جانب سے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرنے کی غرض سے جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں ،انہیں رات کی تاریکی میں ہی ہٹا لیا گیا،مگر بیشتر علاقوں میں اس طرح کی رکاوٹیں اب بھی نصب ہیں ۔ جمعرات کو اگرچہ بعض روٹوپر پبلک ٹرانسپورٹ اور نجی گاڑیوں کی آمد ورفت دیکھنے کو مل رہی تھی ،تاہم جمعہ کو سڑکوں سے ہر طرح کا پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ،البتہ نجی گاڑیوں کی آوا جاہی جاری تھی ،تاہم گزشتہ دنوں کے مقابلے میں قلیل تھی ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع آفات سماوی انتظامی اتھارٹی کے چیئرمین،جو ضلع مجسٹریٹ سرینگر بھی ہیں ،نے اتوار کو سرینگر کے88علاقوں میں بندشیں عائد کرنے کے احکامات صادر کئے تھے ۔ سرینگر میں کرونا وائرس میں مبتلا کیسوں کی تعداد2ہزار کے ہندسے کو عبور کر گئی ہے ۔
مرکزی جامع مسجد سرینگر ، آثار شریف حضرتبل اور خانقاہ معلی سرینگر سمیت بڑی مساجد میں بڑے جمعہ اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ان عبادت گاہوں کی طرف جانے والے راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا تھاجبکہ پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافہ نفری کو تعینات کیا گیا تھا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو درگا ہ شرےف حضر ت بل اورجامع مسجد سر ےنگر سمےت خانقاہوں ، زےا ر ت گاہوں و دےگر بڑ ی مساجد میں 17وےں ہفتے بھی نماز جمعہ کے اجتماعات منعقد نہےں ہو سکے تاہم دوراز دےہات اور علاقوں مےں لوڈ اسپےکر بند کر کے نماز جمعہ مختصر خطبے کیساتھ ادا کی گئی ۔
لوگوں نے گھروں مےں ہی جمعہ کے بد لے نماز ظہر ادا کی البتہ چھوٹی اور محلہ سطح کی مسا جد مےں کم قلےل لوگوں نے نماز جمعہ ادا کی ۔ ادھر انتظامیہ کی جانب سے بڈگام کے بعد بارہمولہ میں بھی تین روز ہ کورونا لاک ڈاءون کا سرکاری اعلان کیا گیا ۔ یاد رہے کہ بڈگام میں جمعرات کو پابندیاں اور بندشیں عائد کی گئیں اور جمعہ کو ان میں مزید سختی دیکھنے کو ملی ۔ بارہمولہ میں جمعہ آئندہ تین کےلئے لوگوں کی آزاد نقل وحرکت پر پابندی عائد رہے گی ۔ بارہمولہ میں بندشوں کے سبب جمعہ کو ہو کا عالم رہا ۔
کپوارہ میں پابندیوں میں 25جولائی تک توسیع کی گئی ہے ،جسکے نتیجے میں یہاں سناٹا رہا ۔ بانڈی پورہ میں ضلع مجسٹریٹ نے سمبل اور اس کے مضا فات میں اتوار26جولائی تک تمام دکانیں بند رکھنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل پر بھی مکمل پابندی عائد کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں ۔ اننت ناگ ضلع میں سوموار سے ہی لاک ڈاءون جاری ہے،جبکہ جمعہ کو لاک ڈاؤن کو مزید سخت بناتے ہوئے لوگوں کی آزاد نقل وحرکت پر مکمل پابندی عائد کی ۔ شوپیان ،پلوامہ اور کولگام میں بھی معمولات زندگی کہیں مکمل طور پر درہم برہم رہیں ،تو کہیں جزوی طور سرگرمیاں جاری رہیں ۔ وادی کشمیر میں لاک ڈاءون ۔ 2کے نتیجے میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے جبکہ ہر طرح کی سرگرمیاں ٹھپ ہیں اور زندگی کی رفتار تھم گئی ہے ۔
دریں اثناء ایک رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر میں لاک ڈاءون کے نتیجے میں اقتصادی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔ ایک رپورٹ کشمیری تاجروں کو روزانہ150کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق جمعرات کی شب تک جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کے490نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے428کا تعلق کشمیر صوبے سے اور 62کا تعلق جموں صوبے سے ہیں اور اس طرح مثبت معاملات کی کل تعداد12156تک پہنچ گئی ہے ۔
حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے12156 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے5488سرگرم معاملات ہیں ۔ اب تک6446اَفراد شفایاب ہوئے ہیں ۔ جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد222تک پہنچ گئی ،جن میں سے 204کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور18کاتعلق جموں صوبہ سے ہےں ۔
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
دنیا
تبت میں شدید زلزلہ، کم از کم 16 افراد ہلاک
بیجنگ، چین کے خود مختار علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کے مطابق، شمالی تبت کے ایک دور افتادہ علاقے میں جمعرات کی رات 10 بج کر 33 منٹ پر زلزلہ آیا۔ جمعہ کو بھی متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق، متاثرہ علاقے میں زلزلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کی سطح دوم نافذ کردی گئی ہے۔ زلزلے کے باعث بجلی اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، کم آبادی والے بلند پہاڑی شہر ناگچو کے حکام نے بتایا کہ زلزلے میں 65 افراد تک زخمی ہوئے ہیں، تاہم بعض دیگر رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد اس سے کچھ کم بتائی گئی ہے۔
یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔ حکام کے مطابق، کم از کم 339 مکانات اور مویشیوں کے 20 باڑے منہدم ہوگئے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں لوگوں کو اپنے مکانات سے باہر نکلتے اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں یا کھلی جگہوں پر پناہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلے کا مرکز ایک پہاڑی علاقے میں تھا، جو ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق شمال مشرق اور تبت کے دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
الجزیرہ کی نامہ نگار کترینا یو نے بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ چینی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے 1,600 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ تاہم، تقریباً 4,800 میٹر کی بلندی پر واقع متاثرہ علاقے تک پہنچنا مشکل ہے، کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہیں یا چٹانیں کھسکنے سے متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں برف باری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
کترینا یو کے مطابق، یہ خطہ زلزلوں کے لیے نیا نہیں ہے، کیونکہ یہ ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے اتصال کے علاقے میں واقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کی آبادی کم ہونے کی وجہ سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
