تازہ ترین
20ہزار سے زائد میڈیکل اسسٹنٹوں کے مستقبل کو برباد نہ کریں :الطاف بخاری
جموں وکشمیر کے کالجوں کو اُ ن کورسز میں داخلہ بند کرنا چاہئے جنہیں انڈین فارمیسی کونسل تسلیم نہیں کرتی
خبراردو:-
سرینگر:جموں وکشمیر اپنی پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخاری نے مرکزی حکومت پرزور دیا ہے کہ جموں وکشمیر میں 20ہزار سے زائد میڈیکل اسسٹنٹوں کو سینٹرل فارمیسی قانون کے دائرہ میں لاکر اُن کے مستقبل کو محفوظ بنایاجائے ۔ کے این ایس کے مطابق ایک بیان میں بخاری نے کہا کہ جموں وکشمیر کے میڈیکل اسسٹنٹ یعنی طبی معاونین بھی فارمیسی میں لائسنس حاصل کرنے یا کسی سرکاری ملازمت کے لئے خصوصی طور پر فارمیسی میں ڈپلوما یا ڈگری ہولڈرز کے لئے درخواست دینے کے لئے اہلیت کے معیار کو پورا کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا’’جموں وکشمیر میں 20ہزار کے قریب میڈیکل اسسٹنٹ فارمیسی میں تربیت یافتہ ہیں جوکہ 4اگست2019سے قبل جے کے فارمیسی ایکٹ کے تحت فارمیسی لائسنس کے لئے اہل تھے لیکن بدقسمتی سے اب فارمیسی کونسل آف انڈیا نے اِنہیں خارج کر دیا ہے، یہ اِن پیشہ وار افراد کے روشن مستقبل کے ساتھ سراسر نا زیادتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سینٹرل فارمیسی قانون جوکہ اکتوبر2019کے بعد سے جموں وکشمیر میں نافذالعمل ہے، سے میڈیکل اسسٹنٹوں کو خارج کرنے کا کوئی منطق اور جواز نہیں ۔
میڈیکل اسسٹنٹس جنہوں نے تین سالہ کورسز(بشمول جے کے فارمیسی قانون کے تحت تسلیم شدہ ایک سالہ ٹریننگ)مکمل کئے ہیں ، کے ساتھ زیادہ نا انصافی ہے اور اِس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ سنٹرل فارمیسی ایکٹ کا دائرہ وسیع کرنے اور میڈیکل اسسٹنٹوں کو اس میں شامل کرنے سے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ نا انصافی کے تصور کا خاتمہ ہوگا ۔
جموں و کشمیر کے اُمیدواروں نے کامیابی سے اپنے کورسز مکمل کرنے کے بعد فارمیسی میں کیریئر بنانے کے لئے میڈیکل اسسٹنٹ کورسز کا انتخاب کیا تھا تاہم جے کے فارمیسی ایکٹ کی جگہ سینٹرل فارمیسی قانون کے اطلاق نے اُن کے باوقار ذریعہ معاش کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے ۔ اپنی پارٹی صدر نے مزید کہا ہے کہ فارمیسی لائسنس کی اجرائیگی کو صرف فارمیسی میں بیچلرز ڈگری یا ڈپلومہ ہولڈرز تک محدود کردینے سے ہزاروں میڈیکل اسسٹنٹوں کے مستقبل کو تاریک بنا دیا ہے جنہوں نے یکساں نصاب کے ساتھ جموں وکشمیر میں حکومت کی طرف سے تسلیم شدہ اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے ۔
الطاف بخاری نے اُن اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے جن کے مطابق سینٹرل فارمیسی قانون کے تحت سرکاری نوکریوں اور فارمیسی لائنس کے لئے نا اہل قرار دینے کے باوجودجموں وکشمیر کے سرکاری کالجوں کی طرف سے طلبا کو میڈیکل اسسٹنٹ کورسز میں داخلہ دیاجارہاہے ۔ انہوں نے کہا’’مختلف کالجوں میں اِس وقت بھی بہت سے طلبا میڈیکل اسسٹنٹ کورسز میں زیرِ تعلیم ہیں جموں وکشمیر حکومت کو اِس معاملہ کی وضاحت پیش کرنی چاہئے اور اُن کورسز میں داخلہ بند کرنا چاہئے جوسینٹرل فارمیسی ایکٹ کے تحت تسلیم شدہ نہیں ہیں ۔ بخاری نے کہاکہ جموں وکشمیر میں نئے فارمیسی قانون کے نفاذ نے ہزاروں کوالیفائیڈ نوجوانوں کے مستقبل کو مخدوش کر دیا ہے ۔
جموں وکشمیر کے میڈیکل اسسٹنٹوں کو راحت فراہم کرنے کی غرض سے سینٹرل فارمیسی قانون میں ضروری ترامیم کا مطالبہ کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ ’’حکومت ِ ہند کو اُن میڈیکل اسسٹنٹوں کو یکمشت رعایت دینی چاہئے جنہوں نے 4اگست2019سے قبل ٹریننگ مکمل کی ہے اور اِنہیں سرکاری شعبہ میں نوکری فراہم کرنے کے لئے جامع پالیسی بنانی چاہئے ۔ انہوں نے مرکزی وزارت صحت سے بھی پرزور مطالبہ کیا کہ میڈیکل اسسٹنٹس کو فارمیسی لائسنس کے اجراء کے اہل بنائیں اور اُن میڈیکل اسسٹنٹس کے لیٹرل انٹری کو یقینی بنائیں جو فارمیسی میں اپنی اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
دنیا
سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
ٹورنٹو، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی محترمہ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندستان-کینیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر کینیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کینیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔
اجلاس میں کینیڈا اور ہندستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ہندستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ 2 اور نجی بازار فنڈ 2 کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
محترمہ سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، 4 آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ 2018 کے 11.18 فیصد سے کم ہوکر مارچ 2025 میں 2.31 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کینیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
