اہم خبریں
چین، ایران کی بڑھتی قربت، امریکہ کو کیا خدشات ہیں؟
امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے اس بیان کے بعد کہ چین کے ایران سے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات مشرقِ وسطی میں عدم استحکام کا باعث بنیں گے، اس بات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بیجنگ کس حد تک تہران سے نئے معاہدہ کے ذریعے دو طرفہ تعاون بڑھائے گا کیوں کہ ایسا کرنے سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے گی۔
مائیک پومپیو نے نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کو ایک انٹرویو میں امریکہ کی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ایران سے تعاون بڑھانے سے مشرقِ وسطی میں عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہوگی۔
ان کے بقول اس سے اسرائیل کو خطرہ در پیش ہوگا۔ ان تعلقات سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو بھی خطرات کا سامنا ہوگا۔
وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطی کے تین اتحادیوں اور خطے کے دوسرے ممالک کو بیجنگ سے متعلق خبردار کیا ہے۔ چین کا شمار امریکہ کے بڑے حریف ممالک میں ہوتا ہے۔
ایران کے حوالے سے مائیک پومپیو نے کہا کہ ایران دنیا میں ریاستی دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا سب سے بڑا کردار ہے۔ اسی وجہ سے چین کی ایران سے تجارت کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں اور قرضوں کی فراہمی خطے کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔
خیال رہے کہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مغربی ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس کے تناظر میں بات کر رہے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ چین اور ایران 25 سالہ تجارتی اور عسکری تعاون کے معاہدے کے تحت جامع اسٹریٹجک شراکت داری استوار کریں گے۔
چین اور ایران نے اسے معاہدہ کے لیے بات چیت کا آغاز 2014 میں کیا تھا۔ جامع اسٹریٹجک شراکت داری بیجنگ کا دوسرے ممالک سے اعلیٰ ترین سطح پر تعاون قرار دیا جاتا ہے۔حالیہ ہفتوں میں ایرانی حکام نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں لیکن تہران نے یہ نہیں بتایا کہ یہ معاہدہ کب طے پائے گا۔
چین اور ایران کے اس معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دونوں ممالک کئی دہائیوں سے اقتصادی اور عسکری حلیف رہے ہیں۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور اس نے 1980 کی دہائی میں تہران کو اسلحہ بھی فراہم کیا تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2010 میں ایران پر دیگر ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ لیکن رواں برس اکتوبر میں یہ پابندی ختم ہو جائے گی۔
چین نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں امریکہ کی اس قرارداد کو سلامتی کونسل میں ویٹو کر دے گا جو اس پابندی کے اطلاق کے وقت میں مزید اضافہ کرنے کی سفارش کرے گی۔
چین نے روس اور ایران کے ہمراہ پہلی سہ فریقی بحری مشقوں میں بھی شرکت کی تھی۔ یہ مشقیں گزشتہ سال دسمبر میں بحرِ ہند اور خلیج عمان میں ہوئی تھیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے ایران سے معاہدے کے مفادات ہیں۔ معاہدے کا مقصد تہران کو اسلحے کی فراہمی اور ایران کی معیشت میں اربوں ڈالرز ڈالنے کے بدلے ایرانی تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ دیگر رعایتیں حاصل کرنا ہے۔یران کی معیشت کو 2018 سے کساد بازاری کا سامنا ہے کیوں کہ اس وقت امریکہ نے ایران پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کر دیا تھا تا کہ اس پر دباؤ بڑھایا جائے۔ امریکہ کی پالیسی نے چین سمیت کئی ملکوں کو مجبور کیا کہ وہ ایران سے تیل نہ خریدیں۔ تیل کی فروخت ایران کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔واشنگٹن میں قائم ہڈسن انسٹیٹیوٹ کے تبصرہ نگاروں مائیکل دوران اور پیٹر رف نے ایک مقامی ویب سائٹ پر مضمون میں لکھا ہے کہ چین کو ایران اور روس کی کارروائیوں کو ہوا دینے سے کئی اہم فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین کی پالیسی یہ ہو گی کہ خطے میں سرگرم عمل حلیف قوتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تا کہ وہ امریکہ کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کریں اور یوں امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔
ان مبصرین نے یہ بھی کہا ہے کہ چین کو ایک اور بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ خطے کے ایسے ممالک جو امریکہ کی نیت پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں، وہ بیجنگ سے تعلقات بہتر بنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔
کچھ اور مبصرین نے وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کو بتایا ہے کہ چین کے ایران کی مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی کارروائیوں کو روکنے کے بھی محرکات موجود ہیں۔
بیلجیم کے ‘ویسالئیس کالج’ میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر گائے برٹن کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں چین نے اپنے مفادات میں اچھا کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2003 میں عراق پر حملے کے بعد امریکہ کی اس ملک میں عسکری موجودگی نے عراق کو اس حد تک مستحکم کر دیا ہے کہ اب چین کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ پر کشش معاہدوں سے عراق کی تیل اور گیس کی صنعت کو ترقی دے سکے۔
گائے برٹن سمجھتے ہیں کہ چین کے نزدیک ایسی پالیسی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کر کے وہ واشنگٹن سے اپنے تعلقات میں مزید تناؤ کی کیفیت کو نہ بڑھائے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے تاہم وہ گزشتہ سال سے ایرانی تیل کی درآمد اور ایران میں سرمایہ کاری سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ورجینیا میں قائم ‘رینڈ کارپوریشن’ سے وابستہ سینئر ماہرِ اقتصادیات ہاورڈ شاٹز کہتے ہیں کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ چین ایران کو ایسی شراکت داری پر مجبور نہ کر سکے جس کا بیجنگ خواہاں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایرانی عوام چین کی اپنے ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے مکمل طور پر متفق نہیں ہیں۔
ان کے بقول اس وقت چین ایران کی معیشت کو جاری رکھنے کا ایک موقع فراہم کر رہا ہے لیکن ایرانی لوگوں کو یہ اندیشہ ہے کہ چین کی ان کے ملک سے زیادہ وابستگی سے ایران کی خطے میں طاقت کم ہو جائے گی۔
چین کے ایران سے گہرے تعلقات استوار کرنے کی راہ میں ایک اور بات یوں بھی حائل ہے کہ چین کے اس وقت امریکی اتحادیوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل سے بھی قریبی اقتصادی اور عسکری تعلقات ہیں۔
چین کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی تعلقات ہیں۔ یہ دونوں ممالک چین کے لیے تیل کی برآمدات کا ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ چین ان دو ممالک کو اسلحہ بھی فروخت کرتا ہے۔ چین نے اسرائیل کی اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن کے ‘عرب گلف اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ’ سے منسلک ماہر رابرٹ موگیل نکی کہتے ہیں کہ ایسے تعلقات چین کے لیے ایرانی تعلقات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
