تازہ ترین
کورونا لاک ڈاؤن: سرینگر میں 15اگست تک پابندیوں میں میں توسیع
کہیں معمولات زندگی گائیڈ لائنز کیساتھ بحال کرنے کی اجازت،کہیں ہنوز معطل
خبراردو:-
سرینگر:وادی کشمیر کے کئی اضلاع میں سوموار کے روز معمولات زندگی گائیڈ لائنز کیساتھ بحال ہوئیں،تو کہیں ہنوز معطل ہیں۔ادھر دارالحکومت سرینگر میں 15اگست تک کورونا پابندیوں اور بندشوں میں توسیع کی گئی۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق دارالحکومت سرینگر میں سوموار کو مسلسل کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔شہر کے سبھی مرکزی بازار بشمول تجاری مرکز لالچوک بند رہا۔شہر میں کسی بھی علاقے میں دکانیں کھلی نہیں تھیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہا۔تاہم شہر کی سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی آمد ورفت گزشتہ دنوں کے مقابلے میں کافی زیادہ دیکھنے کو ملی جبکہ آٹو رکھشا بھی کہیں کہیں سڑکوں پر چلتے ہوئے دیکھے گئے۔
دارالحکومت سرینگر میں طویل عرصے سے لاک ڈاؤن جاری ہے،جسکی وجہ سے معیشت پر منفی اثرارت مرتب ہورہے ہیں۔شہر میں ریڈ زون قرار دئے گئے علاقوں سے لوگ بغیر کسی رکاوٹ آ۔جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جن علاقوں کو کورونا کیسز میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا،وہاں سے لوگوں نے اب خود ہی رکاوٹیں ہٹا کر آمد ورفت بحال کردی گئی ہے۔شہر میں اگرچہ پیٹرول پمپ کھلے ہیں جبکہ نجی بنکوں پر بھی کام کاج بغیر کسی خلل کے جاری ہیں۔کئی دکانداروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے لاک ڈاؤن ٹرانسپورٹ اوردکانیں بند رکھنے محدود کر دیا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ اس طرح کا لاک ڈاؤن سود ہونے کے بجائے تباہ کن ثابت ہوگا۔اس دوران سرینگر میں اگلے ایک ہفتے تک کورونا پابندیوں اور بندشوں میں توسیع کی گئی ہے۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سری نگر نے سری نگر میں تجارتی اداروں اور نقل و حرکت سمیت عوامی سرگرمیوں پر پابندی میں توسیع کا حکم دیا ہے۔
یہ پابندیاں 15 اگست کی آدھی رات تک نافذ رہیں گی۔ توسیع کا حکم کووڈ۔19 صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا گیا ہے، جو ضلع میں بدستور موجود ہے۔
علاوہ ازیں سری نگر کی ضلعی انتظامیہ نے ان سر گرمیوں کے حوالے سے پہلے ہی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے،جن کیلئے حکومت نے 16 اگست کیلئے اعلان رکھا ہے۔یعنی حکومت نے16اگست سے سرینگر میں سبھی مذہبی مقامات کھولنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ادھر اطلاعات کے مطابق بارہمولہ میں حکومتی ایس اوپیز کے تحت کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ غلام نبی ایتو کے ایک حکم نامے کے مطابق آج یعنی سوموار سے ضلع بارہمولہ میں دکانیں کھلی رہیں گی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن پابندی میں نرمی کے ایک حصے کے طور پرضلع بارہمولہ میں آج یعنی سوموار10 اگست سے طاق جفت نظام کے تحت اور کووڈ۔19 ایس او پیز کی مکمل پیروی کے مطابق بازار کھلے رہیں گے۔ تمام دکانیں جن کا نمبر شمار طاق میں آتا ہے، کھلے رہیں گے۔یہ حکم نامہ اگلے چار دن کیلئے نافذ العمل رہے گا۔ادھر شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ اور کپوارہ اضلاع میں بھی ایس اوپیز کے تحت کہیں کہیں دکانیں کھولنے کیساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی چلنے کی اجازت دی گئی۔گاندر بل اور بڈگام میں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے۔جنوبی کشمیرکے چار اضلاع پلوامہ،شوپیان،کولگام اور اننت ناگ میں بھی لاک ڈاؤن کا مل جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے
ان چاروں اضلاع میں کورونا پابندیاں اور بندشیں کہیں سختی کیساتھ نافذ ہیں جبکہ کہیں کہیں ان میں نرمی دیکھنے کو مل رہی ہے،جسکی وجہ سے جنوبی کشمیر میں کہیں کہیں دکانیں کھلی ہوئی دیکھنے کو مل رہی ہے تو کہیں ہنوز بند ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی کشمیر میں اکا دکا پبلک ٹرانسپورٹ سے وابستہ گاڑیاں بھی چلتی ہوئی دیکھی گئیں۔
تاہم پوری وادی10اضلاع میں نجی گاڑیوں کی آمد ورفت جاری ہے اور پولیس کہیں کہیں لاک داؤن گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کی پاداش میں کارروائیاں بھی عمل میں لاتی ہے۔شوپیان میں متعدد دکانیں کووڈ۔19گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کی پاداش میں سیل کی گئیں۔وادی کشمیر میں گزشتہ ایک برس سے لاک ڈاؤن جاری اور معیشت کواربوں روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ سب سے بڑا تعلیمی شعبہ کو پہنچا،جسکی تلافی ناممکن ہے۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
