تازہ ترین
تو ہین آمیز بیان : نماز جمعہ کے بعد پرامن احتجاجی مظاہرے
قصور واروں کو سخت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ،مفتی اعظم خانہ نظر بند
خبراردو:-
سرینگر:پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز بیان کے خلاف وادی بھر میں جمعہ کو احتجاجی مظاہرے کئے گئے،جو پرامن طور اختتام پذ یر ہوئے۔اس دوران مظاہرین نے گستاخی کرنے والوں کو سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔یاد رہے کہ پولیس نے توہین آمیز بیان کے ضمن میں اب4افراد کو گرفتار کیا ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق ریاسی جموں کے ایک شہری کی جانب سے حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی پر مبنی توہین آمیزبیان دینے کے خلاف جمعہ وادی بھر میں احتجاج کیا گیا۔مظاہرین نے جگہ جگہ پرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے،جن پر توہین آمیز بیان کے خلاف نعرے درج تھے۔
احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے ملی تفصیلات کے مطابق نماز جمعہ سے قبل پریس انکلیو سرینگر میں علما،ائمہ مساجد اور طالب علم نمودار ہوئے،جہاں انہوں نے اس واقعہ کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔اسی طرح سرینگر کے مختلف علاقوں جن میں پالپورہ سونہ وار،شہر خاص میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ پٹن،پالہالن،بڈگام،بارہمولہ،لالپورہ سوگام لولاب اور دیگر کئی مقامات پر صدائے احتجاج بلند کی گئی۔
سویہ بگ بڈگام میں رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستا خی کے خلاف مظاہرے ہوئے جس کی قیادت حقانی میموریل ٹرسٹ جموں و کشمیر اور ابن حقانی یوتھ فاونڈیشن کشمیر کے اراکین کررہے تھے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ رکھے تھے،جن پر گستاخی کے خلاف نعرے درج تھے۔
انہوں نے ملوثین کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی مانگ کی اور کہاکہ عاشقان رسول ﷺکی کثیر تعداد نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔ وہ ان توہین رسالت کے مرتکب ملزموں کو کڑی سزا دینے کے لئے فلک شگاف نعرے لگارہے تھے۔بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوئے۔بارہمولہ میں اسلامک اسکالروں اور مقامی لوگوں نے توہین آمیز بیان کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین جن میں اسلامک اسکالر،مقامی لوگ اور دکاندار شامل تھے،نے نماز جمعہ کے بعد درگا الہیٰ مسجد شرید اولڈ ٹاؤن سے مرکزی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی۔
مظاہرین نے’گستاخی نبی ﷺ کی کیا سزا،سر تن سے جد سر تن سے جدا‘ کے بھی نعرے لگائے۔بعد ازاں یہ مظاہرہ بھی پرامن طور منتشر ہوا۔شہر خاص میں بھی نماز جمعہ کے بعد ایک احتجاجی جلوس برآمد ہوا۔اس موقع پر مظاہرین نے بتایا کہ اس ناپاک جسارت کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی سازش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نبی آخرالزمان ﷺ کی عزت اور ناموس کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔
ان کا کہناتھا کہ یہ مذہبی دہشت گردی ہے۔دریں اثناء جموں صوبے میں چند روز قبل کچھ افراد کی جانب سے نبی کریم ﷺکی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج کے پیش نظر مفتی اعظم جموں و کشمیر مفتی ناصر الاسلام کو جمعہ کے روز صبح سے ہی گھر میں نظر بند کر کے رکھ دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو صبح سے ہی پولیس نے مفتی اعظم کے گھر میں نظر بند رکھااور انہیں جمعہ کی نماز ادا کرنے کیلئے بھی گھر سے باہر مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مفتی اعظم نے اس کے بعد گھر میں ہی نماز اداکی۔
واضح رہے انتظامیہ کی جانب سے نظربندی کا فیصلہ مفتی اعظم کے اس بیان کے بعد لیا گیا جس میں انہوں نے جموں میں نبی کریم ﷺکی شان میں گستاخی کے خلاف بعد نماز جمعہ پر امن احتجاج کی اپیل کی تھی۔اس دوران جموں میں حضورﷺ کی شان مبارکہ میں گستاخی کے خلاف مختلف علاقوں میں جمعہ کے روز بھی پُرامن احتجاجی مظاہرے ہوئے جس دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔
وہیں شمالی کشمیر کے کرالہ گنڈ قاضی آباد میں بھی گستاخی رسولﷺ کوسزادینے کے لئے احتجاجی جلوس نکا لا۔ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھیں تھے جن پر شان رسولﷺ گستاخی ہرگز برداشت نہیں“، گستاخیوں کی ایک سزا سر تن سے جُدا سر تن سے جُدا؛ملوثین کو سزا دو کے نعرے درج تھے۔احتجاجی مظاہرین نے نعرہ بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ اس طرح کے واقعات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا۔
اور رسولﷺکی شان میں گستاخی کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے مرتکب شخص کو سخت سے سخت سزادی جائے گی۔احتجاجی جلوسنماز جمعہ کے بعد مسجد بیت الرحمت جامع قدیم کرالہ گنڈ قاضی آباد سے نکل کر کرالہ گنڈ چوک میں اختتام پزیر ہوا۔جلوس کی قیادت جامع قدیم کے امام و خطیب مفتی وسیم احمد اور دیگر علمائے کرام کررہے تھے۔
اس موقع پر مفتی وسیم احمد اور دیگر علمائے کرام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حضورﷺکی شان اقدس میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے شخص کے خلاف سخت سے سخت سزاملنی چاہئے۔انہوں ے کہاکہ اس طرح کے واقعات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور رسولﷺکی شان میں کسی کو گستاخی کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جموں و کشمیر
کشمیر کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری، میدانی علاقوں میں بارش
سری نگر، کشمیر کے کئی بالائی علاقوں میں منگل کو تازہ برف باری ہوئی، جبکہ سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر میں جمعرات تک بڑے پیمانے پر بارش اور دیگر موسمی سرگرمیوں کی پیش گوئی کی ہے۔
حکام کے مطابق، مغربی ہواؤں کے زیر اثر سیاحتی مقامات گلمرگ اور سونا مرگ کے علاوہ زوجیلا محور پر بھی تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ ادھر جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی، جو آخری اطلاعات موصول ہونے تک جاری تھی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بونداباندی کا امکان ہے۔ محکمہ نے آئندہ چند روز کے لیے بھی اسی طرح کے موسمی حالات کی پیش گوئی کی ہے۔
14 اکتوبر کی پیش گوئی کے مطابق، بعض علاقوں میں گرج چمک اور آسمانی بجلی کے ساتھ 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ کچھ مقامات پر تیز بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ اسی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
موجودہ موسمی حالات کے باعث بالائی علاقوں میں سردی اور نمی برقرار رہنے کا امکان ہے، جب کہ میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر 13 سے 15 اکتوبر کے درمیان سیب، دھان اور دیگر فصلوں کی کٹائی کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کریں۔
خراب موسم کے امکان کے پیش نظر مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور عام لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کریں اور کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے ٹریفک سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
یواین آئی۔ ط ا
ہندوستان
اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی، سینسیکس 1,100 پوائنٹس سے زیادہ بڑھا
مبئی، گھریلو اسٹاک مارکیٹوں میں منگل کو زبردست تیزی دیکھی گئی، بی ایس ای سینسیکس 1,100 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ سینسیکس 71,951.73 پوائنٹس پر کھلا، جو پچھلے کاروباری دن سے 27 پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ 71,703.56 پر ریڈ زون میں گرا لیکن پھر تیزی سے سبز ہو گیا۔ سینسیکس 1,109.10 پوائنٹس (1.54 فی صد) بڑھ کر 73,033.78 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس سے قبل یہ 73,045.67 پوائنٹس کی اونچائی پر پہنچ گیا تھا۔ اس طرح آج اس میں 1,342 پوائنٹس کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی 50 انڈیکس صبح فلیٹ کھلنے کے بعد بالآخر 358.60 پوائنٹس یا 1.60 فی صد بڑھ کر 22,721.95 پر آگیا۔ گزشتہ کاروباری دن دونوں بڑے انڈیکس سرخ رنگ میں بند ہوئے تھے۔ روپے کے مسلسل دوسرے دن مسلسل اضافے سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے جذبات کو تقویت ملی ہے۔ مضبوط سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہوا۔ وسیع بازار میں بھی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری تھا۔
نفٹی مڈ کیپ 50 انڈیکس میں 0.87 فیصد اضافہ ہوا اور سمال کیپ 100 انڈیکس میں 0.11 فی صد اضافہ ہوا۔
بہتر سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں میں بھی بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس 5.22 فی صد بڑھ گیا۔ رئیلٹی سیکٹر 2.46 فی صد بڑھ کر بند ہوا۔ آٹو، بینکنگ، فائنانس، ایف ایم سی جی، میٹل، اور کنزیومر ڈیریبل سیکٹر کے انڈیکس میں بھی ایک فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سینسیکس کمپنیوں میں، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز کا اسٹاک آٹھ فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔
کمپنی نے پیر کو اطلاع دی کہ اس کا خالص منافع سال بہ سال 21.2 فی صد بڑھ کر Rs5,132 کروڑ ہو گیا اور موجودہ مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں آمدنی 11.5 فیصد بڑھ کر Rs35,620 کروڑ ہو گئی۔ دیگر آئی ٹی کمپنیوں میں، ٹی سی ایس کے حصص میں 6.5 فی صد، ٹیک مہندرا کے تقریباً 5 فی صد اور انفوسس کے حصص میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ہندوستان یونی لیور، ٹرینٹ، بجاج فنسر اور بجاج فائنانس کے حصص میں 2 سے 3 فی صد اضافہ ہوا۔ ٹائٹن، مہندرا اینڈ مہندرا، بی ای ایل، بھارتی ایئرٹیل، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ایچ ڈی ایف سی بینک، ٹاٹا اسٹیل، آئی ٹی سی، ایل اینڈ ٹی، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایشین پینٹس، اور ایکسس بینک کے حصص میں 1 سے 2 فی صد اضافہ ہوا۔ ریلائنس انڈسٹریز، سن فارما، اڈانی پورٹس اور پاور گرڈ کے حصص بھی سبز رنگ میں رہے۔ کوٹک مہندرا بینک، ایٹرنل اور ماروتی سوزوکی کے حصص میں کمی ہوئی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
راجیو چوک پر این ایس یو آئی کا مظاہرہ، جاکھڑ سمیت متعدد کارکنان حراست میں
نئی دہلی، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کرتے ہوئے منگل کے روز کنالٹ پلیس میں واقع راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 7 پر اچانک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے کی قیادت این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کی۔ مظاہرین نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ‘ووٹ چوری’ کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب دہی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کے مدنظر کنالٹ پلیس میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ دہلی پولیس نے مسٹر جاکھڑ سمیت سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
مسٹر جاکھڑ نے کہا کہ طالب علم رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر انتخابی شفافیت سے جڑے سوالات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرے کو روکنے کے بجائے حکومت کو سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ ‘ووٹ چوری’ کے خلاف ان کی تحریک جمہوری اور پرامن طریقے سے جاری رہے گی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان5 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
