دنیا
صدارتی انتخاب: بائیڈن کی برتری میں اضافہ، صدر ٹرمپ کے نتائج پر خدشات
امریکہ میں منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں باقی رہ جانے والی چھ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نے چھ میں سے چار ریاستوں میں اپنے حریف ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل کر لی ہے۔ اب تک 44 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کا اعلان ہو چکا ہے جس کے مطابق جو بائیڈن الیکٹورل کالج کے 253 ووٹ لے کر آگے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک 214 ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ چھ ریاستوں میں اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے جن میں سے نیواڈا اور ایریزونا میں جو بائیڈن کو پہلے ہی برتری حاصل تھی۔ ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے مزید ووٹوں کی گنتی کے بعد جمعے کی صبح جو بائیڈن پینسلوینیا اور جارجیا میں بھی اپنے حریف پر سبقت لے گئے ہیں۔ پینسلوینیا کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 20 ہے اور اگر جو بائیڈن صرف اسی ریاست میں کامیاب ہو گئے تو وہ صدر منتخب ہو جائیں گے۔ امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو الیکٹورل کالج کے 538 میں سے کم از کم 270 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے اور بائیڈن اس ہدف سے صرف 17 ووٹ دور ہیں۔ جن دیگر دو ریاستوں نارتھ کیرولائنا اور الاسکا میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے وہاں صدر ٹرمپ کو بدستور برتری حاصل ہے۔ لیکن دوسری بار صدر منتخب ہونے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو اب بھی الیکٹورل کالج کے کم از کم 56 ووٹ درکار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ کو الاسکا اور نارتھ کیرولائنا کے علاوہ پینسلوینیا اور جارجیا بھی جیتنا ہوں گی اور ساتھ ہی نیواڈا یا ایریزونا میں سے کسی ایک ریاست میں بھی کامیابی حاصل کرنی ہو گی جو اب بظاہر مشکل نظر آ رہا ہے۔
ٹوئٹر آؤٹ آف کنٹرول ہو گیا: ٹرمپ کا شکوہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن میں کامیابی کے دعوؤں یا دھاندلی پر مبنی ٹوئٹس پر خصوصی لیبل لگا رہا ہے یا اُنہیں ہائیڈ کر رہا ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر سے شکوہ بھی کیا ہے۔امریکہ میں منگل کو صدارتی انتخابات کے دن سے اب تک ٹوئٹر ری پبلکن امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی ٹوئٹس پر لیبل لگا چکا ہے کہ اس ٹوئٹ میں موجود معلومات گمراہ کن یا حقائق کے خلاف ہیں۔ البتہ ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی ایسی کوئی بھی ٹوئٹ نہیں جس پر ٹوئٹر نے کسی قسم کا لیبل لگایا ہو۔ الیکشن کے دن سے لے کر اب تک صدر ٹرمپ کی کم از کم 10 ٹوئٹس ایسی ہیں جن پر ٹوئٹر نے اپنی پالیسی کے مطابق لیبل لگایا ہے۔

ٹوئٹر نے امریکی انتخابات سے قبل ہی آگاہ کر دیا تھا کہ وہ الیکشن سے متعلق گمراہ کن معلومات کو اپنے پلیٹ فارم سے روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔ تین نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات کے اگلے روز ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ لیبل لگا دیا تھا جس میں انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ اور دھاندلی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔’ووٹ کو عزت دو’: امریکی انتخابات پر پاکستانیوں کے دلچسپ تبصرے امریکہ کا 46 واں صدر کون ہوگا؟ اس سوال کے جواب کا انتظار صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف لوگ بے تابی سے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ ساتھ دلچسپ چٹکلوں اور میمز کا بازار بھی گرم ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر سے متعلق ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دلچسپ میمز گردش کر رہی ہیں۔ کوئی نتائج میں تاخیر پر اپنا حال میمز کے ذریعے بیان کر رہا ہے تو کوئی بازی جو بائیڈن کے حق میں دیکھ کر صدر ٹرمپ پر میمز بنا رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ بھی ان ہی میمرز بھی شامل ہو گئی ہیں۔
Tonight at The White House… pic.twitter.com/IN1P2HQv5B
— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) November 5, 2020
انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے صدر ٹرمپ سے متعلق ایک مزاحیہ میم شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی رات وائٹ ہاؤس میں کچھ ایسا ماحول ہے۔ ایک اور صارف نے امریکی الیکشن کے نتائج میں پیدا ہونے والی سنسنی کو مشہور ویب سیریز ‘مرزا پور’ سے ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات کی جو صورتِ حال چل رہی ہے وہ ‘مرزاپور ٹو’ سے زیادہ دلچسپ اور ڈرامائی ہے۔
The stuff going on currently i.e. #USAelection2020 is way more dramatic and fun to watch compared to Mirzapur 2. The way #BidenHarris2020 and #Trump2020 is going on is quite amazing.
Clearly, Mirzapur 2 failed our expectations. pic.twitter.com/mjjR7QUfFB— Het Daftary (@DaftaryHet) November 4, 2020
ووٹوں کی گنتی کرنے والے عملے کی سیکیورٹی مزید سخت

امریکہ میں صدارتی انتخابات کا نتیجہ اب تک واضح نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں فریقین کے حامیوں کے درمیان تناؤ کے بڑھنے سے کچھ ریاستوں کے حکام نے ووٹوں کی گنتی کرنے والے عملے کے لیے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے حامیوں کی زیادہ تر توجہ ریاست پنسلوینیا، نیواڈا اور ایریزونا پر مرکوز ہے جہاں دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ یہ ریاستی کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ووٹنگ کے عمل اور گنتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی وجہ سے گنتی کرنے کی جگہوں کے باہر کشیدگی کی فضا ہے۔ نیواڈا کی کلارک کاؤنٹی کی رجسٹرار جو گلوریا نے کہا کہ ’’مجھے اپنے اسٹاف کی حفاظت کی فکر ہے۔‘‘
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
ٹورنٹو، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی محترمہ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندستان-کینیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر کینیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کینیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔
اجلاس میں کینیڈا اور ہندستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ہندستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ 2 اور نجی بازار فنڈ 2 کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
محترمہ سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، 4 آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ 2018 کے 11.18 فیصد سے کم ہوکر مارچ 2025 میں 2.31 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کینیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
