پاکستان
پارسی: صدیوں کے سفر میں فراموش کر دی گئی مذہبی برادری
ماضی میں پارسی برادری کراچی کی رونق ہوا کرتی تھی۔ پھر مذہبی عدم برداشت نے کراچی سے اس کی یہ رونق چھین لی۔ پارسی آبادی کی خدمات و کارنامے کراچی کے ماضی اور حال کی زینت میں ہمیشہ اضافے کا باعث بنے۔
پچھلی کچھ دہائیوں سے پاکستان میں آباد پارسیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے محرکات میں بنیادی طور پر ملک میں امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور نوکری کے بہتر مواقع کا فقدان بھی شامل ہے۔ پارسی برادری میں شرح تعلیم سو فیصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارسیوں کی کارکردگی پاکستان کی دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں ہر شعبے میں نمایاں ہے۔
پارسیوں کا زرتشتی عقیدہ عالمی تاریخ کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مذہب بدھ مت، یہودیت، مسیحیت اور اسلام سے کہیں زیادہ پرانا ہے۔ کراچی شہر میں واقع بہت سی تعمیرات اب بھی پارسیوں کی خدمات کا پتا دیتی ہیں۔ اس شہر میں زرتشتیوں کی عبادت گاہ دارمیر 1848ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کا فن تعمیر آج بھی اس کے تابناک ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں اب پارسیوں کا ہجوم دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس لیے کہ مقامی زرتشتیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے۔ تاہم یہ برادری آج بھی پہلے کی طرح متحد ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں پارسیوں سے متعلق غلط فہمیوں نے انہیں سماجی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ معاشرے نے پارسی برادری کی خدمات کو تو فراموش کر دیا لیکن پارسیوں کے قائم کردہ فلاحی اور تعلیمی ادارے آج بھی بلا تفریق سب کو یکساں امداد اور تعلیم دے رہے ہیں۔
تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت کراچی میں غیر مسلم آبادی کا تناسب بھی بہت زیادہ تھا۔ اس میں پارسی برادری بھی ایک بڑا نام تھا۔ تعلیم، کاروبار، سیاست یا سماجی خدمت، پارسی برادری کسی سے پیچھے نہیں تھی۔ اگرچہ قدیم زرتشتی ایران سے تعلق رکھتے تھے تاہم وہ برصغیر کی ثقافت میں اس طرح گھل مل گئے کہ پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔
اب لیکن پورے پاکستان میں ان کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ روشن خورشید برہوچہ نیشنل کمیشن فار مائنوریٹی رائٹس کی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کراچی میں پارسیوں کی تعداد تقریباً 1100 ہے۔ کوئٹہ، راولپنڈی اور ملتان میں نو خاندان اور لاہور میں دس خاندان آباد ہیں۔‘‘
پارسی برادری کی خدمات
تعداد میں کم لیکن تعلیم اور کاروبار میں کامیاب اس برادری نے پاکستان کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیرام دنشا آواری پاکستان کی ایک مایہ ناز کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ آواری بیچ لگژری ہوٹل اور آواری ہوٹل کے مالک ہیں۔ آواری گروپ پاکستان کی تاریخ کا پہلا گروپ تھا جس نے بیرون ملک بھی ہوٹل بزنس کامیابی سے چلایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرام دنشا آواری نے صرف کاروباری دنیا میں ہی کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ وہ دو بار سن 1978 اور سن 1982 کے ایشین گیمز میں کشتی رانی کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ بھی جیت چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ گوشپی آواری نے 1982ء میں بیرام دنشا آواری کے ہمراہ سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں، جنہوں نے کسی بین الاقوامی مقابلے میں سونے کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔
بانی کراچی
کراچی کی تاریخ جمشید نسروانجی مہتا کے ذکر کے بغیر ہمیشہ نامکمل ہی ہو گی۔ جمشید نسروانجی مہتا کو بانی کراچی بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں کراچی کا پہلا میئر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ جمشید مہتا کی محنت ہی تھی کہ جس نے چھوٹے سے شہر کراچی میں سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی اور فلاحی ادارے اور پارک تعمیر کروائے، یہاں تک کہ شجرکاری بھی کروائی اور جانوروں کے لیے پینے کے پانی کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا اور ان کے لیے ایک ہسپتال بھی تعمیر کروایا۔ جس شہر میں آج جابجا کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں، مہتا کے دور میں اس شہر کی سڑکیں دن میں دو بار دھلوائی جاتی تھیں۔ اسی وجہ سے اس وقت کراچی کو مشرق کا سب سے صاف شہر تصور کیا جاتا تھا۔ کراچی میں واقع جمشید کوارٹرز آج بھی جمشید مہتا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
سفارت کار
جمشید مارکرجو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سفارتکار رہے تھے، پارسی برادری کا ایک جگمگاتا نام ہیں۔ جمشید مارکر کو ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور تقریباﹰ ایک درجن سے زیادہ ممالک میں سفارت کار رہنے پر ان کا نام گینس ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل ہے۔
پارسی قانون دان
پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے جسٹس دراب پٹیل چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بھی رہے۔ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے بانی بھی تھے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے لیے پھانسی کی سزا کی مخالفت کی تھی اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے بھی انکار کیا تھا۔ اس کے علاوہ رستم سہراب جی سدھوا، اردشیر کاوسجی اور جمی انجینئر بھی پارسی برادری ہی سے تعلق رکھنے والے بڑے نام ہیں۔ ماما پارسی اسکول، ڈی جے سائنس کالج اور انکل سریا ہسپتال بھی پارسی برادری کی طرف سے بنائے گئے تھے۔ پاکستان کی مایہ ناز انجینئرنگ یونیورسٹی این ای ڈی بھی ایک پارسی نادر شاہ ادلجی دنشاہ کے نام پر ہے۔
پارسیوں کی پاکستان میں کم ہوتی ہوئی تعداد
پاکستان میں فرقہ وارانہ خونریزی اقلیتی مذاہب کے باشندوں میں شدید تشویش کا باعث بنی۔ سیاسی عدم استحکام، طالبان کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات نے صاحب حیثیت اقلیتی باشندوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ملک چھوڑنے والوں میں نوجوان طبقے کی تعداد زیادہ ہے۔ ایک پاکستانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1941ء میں پارسیوں کی تعداد ایک لاکھ 14 ہزار تھی۔ پاکستانی زرتشتی بانو مَندآل کے مطابق 1995ء میں یہ تعداد 2,831 رہ گئی۔ پھر 2012 میں یہی تعداد مزید کم ہو کر 1,675 رہ گئی تھی۔
بیرام دنشا آواری نے اس تناظر میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”نوجوانوں کے بیرون ملک جانے کی بڑی وجہ تعلیم کا حصول تو یقیناﹰ ہے مگر پچھلے کچھ سالوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی ہے۔ اس کی دوسری بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں قانون کی پاسداری کا فقدان بھی ہے۔ قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس کے باعث اقلیتی برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے مقابلے میں اب کینیڈا اور امریکا میں پارسیوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘‘
روشن خورشید برہوچہ کے بقول پارسی دوسرے ملک ہجرت نہیں کر رہے بلکہ نئی نسل تعلیم کے حصول کے لیے باہر جا رہی ہے۔ ہوا بازی کی صنعت سے تعلق رکھنے والی نتاشا ماولوالا کا کہنا ہے، ”اگرچہ پاکستان میں بھی معیاری تعلیمی ادارے موجود ہیں لیکن اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ملک سے باہر جانا بھی ناگزیر ہے۔‘‘ کم ہوتی ہوئی تعداد کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پارسی لڑکیاں اپنی برادری سے باہر شادی نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح کوئی دوسرا بھی اپنا مذہب تبدیل کر کے زرتشتی نہیں بن سکتا۔ پارسی برادری میں شرح پیدائش کا کم ہونا بھی اس آبادی میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ ان تمام وجوہات نے پاکستان میں مقیم پارسی برادری کو بہت حد تک تنہا کر دیا ہے۔ نتاشا ماولوالا کہتی ہیں، ”میں بچپن میں اپنے مذہبی تہواروں پر جوش و خروش سے تیاریاں کیا کرتی تھی اور پوری برادری میں خوب گہما گہمی ہوتی تھی۔ اب لیکن یہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔‘‘
کراچی کے رہائشی ارشیش ایرانی جو پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہم اکیلاپن تو محسوس کرتے ہیں لیکن اس بات کا اطمینان بھی ہے کہ ہماری اولاد بیرون ملک اپنی زندگی سے مطمئن، خوش اور کامیاب ہے۔‘‘ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہرسال اپنے بچوں سے ملنے بیرون ملک جاتے ہیں۔ پاکستان میں پارسیوں کے مستقبل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بیرام آواری پُرامید نظر آئے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،”نوجوان پارسی ملک واپس آ کر اپنے معاشرے کے لیے کچھ مثبت کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ پارسی فلاحی کاموں میں ہمیشہ آگے رہے ہیں، اسی طرح پارسی نوجوان بھی اپنے ملک واپس آکر اسی روایت کو زندہ رکھیں گے۔ پارسی بھی پاکستان کے اتنے ہی وفادار ہیں جتنا کوئی اور پاکستانی، اسی لیے عمر رسیدہ پارسی پاکستان کو ہی اپنا گھر تصور کرتے ہیں اور یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔‘‘
زرتشتی عقائد
زرتشتی مذہب کی مقدس کتاب کا نام اوستہ ہے۔ زرتشتی عقائد کے مطابق ہر چیز کا خالق ایک خدا آہورا مذدا ہے اور زرتشتی دن میں پانچ بار اس کی عبادت کرتے ہیں۔ روشن خورشید برہوچہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس کی بنیاد تین اصولوں پر ہے، نیک اعمال، اچھی سوچ اور خوش گفتاری۔ نو سے بارہ سال تک کے بچوں کو زرتشتی مذہب میں باقاعدہ طور پر شامل کیا جاتا ہے، جسے نوجوت کہتے ہیں۔ عنایت گزدار کی کتاب’زرتشتیوں کے لیے اے بی سی‘ کے مطابق خدا نے انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اچھائی اور برائی کے راستے میں تمیز کر سکے۔
زرتشتی عقیدے میں موت کے بعد صدقے کے آخری عمل کے طور پر جسم کو پرندوں کی خوراک بننے دیا جاتا ہے تاکہ مردہ انسانی جسم پانی ہوا اور زمین کو ناپاک نا کرے۔ تاہم اس عقیدے کے مطابق سب انسان برابر ہیں اور موت کے بعد ان کے اعمال ہی ان کے کام آئیں گے۔ اس لیے پارسی برادری میں فلاحی کاموں کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ یہ برادری معاشی طور پر کمزور پارسی خاندانوں کی بھی ہر ممکن مدد کرتی ہے۔(قومی آواز)
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoکانگریس نے ایس آئی آر پر امت شاہ سے تین سوالوں کا جواب مانگا
