پاکستان
پارسی: صدیوں کے سفر میں فراموش کر دی گئی مذہبی برادری
ماضی میں پارسی برادری کراچی کی رونق ہوا کرتی تھی۔ پھر مذہبی عدم برداشت نے کراچی سے اس کی یہ رونق چھین لی۔ پارسی آبادی کی خدمات و کارنامے کراچی کے ماضی اور حال کی زینت میں ہمیشہ اضافے کا باعث بنے۔
پچھلی کچھ دہائیوں سے پاکستان میں آباد پارسیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے محرکات میں بنیادی طور پر ملک میں امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور نوکری کے بہتر مواقع کا فقدان بھی شامل ہے۔ پارسی برادری میں شرح تعلیم سو فیصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارسیوں کی کارکردگی پاکستان کی دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں ہر شعبے میں نمایاں ہے۔
پارسیوں کا زرتشتی عقیدہ عالمی تاریخ کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مذہب بدھ مت، یہودیت، مسیحیت اور اسلام سے کہیں زیادہ پرانا ہے۔ کراچی شہر میں واقع بہت سی تعمیرات اب بھی پارسیوں کی خدمات کا پتا دیتی ہیں۔ اس شہر میں زرتشتیوں کی عبادت گاہ دارمیر 1848ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کا فن تعمیر آج بھی اس کے تابناک ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں اب پارسیوں کا ہجوم دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس لیے کہ مقامی زرتشتیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے۔ تاہم یہ برادری آج بھی پہلے کی طرح متحد ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں پارسیوں سے متعلق غلط فہمیوں نے انہیں سماجی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ معاشرے نے پارسی برادری کی خدمات کو تو فراموش کر دیا لیکن پارسیوں کے قائم کردہ فلاحی اور تعلیمی ادارے آج بھی بلا تفریق سب کو یکساں امداد اور تعلیم دے رہے ہیں۔
تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت کراچی میں غیر مسلم آبادی کا تناسب بھی بہت زیادہ تھا۔ اس میں پارسی برادری بھی ایک بڑا نام تھا۔ تعلیم، کاروبار، سیاست یا سماجی خدمت، پارسی برادری کسی سے پیچھے نہیں تھی۔ اگرچہ قدیم زرتشتی ایران سے تعلق رکھتے تھے تاہم وہ برصغیر کی ثقافت میں اس طرح گھل مل گئے کہ پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔
اب لیکن پورے پاکستان میں ان کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ روشن خورشید برہوچہ نیشنل کمیشن فار مائنوریٹی رائٹس کی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کراچی میں پارسیوں کی تعداد تقریباً 1100 ہے۔ کوئٹہ، راولپنڈی اور ملتان میں نو خاندان اور لاہور میں دس خاندان آباد ہیں۔‘‘
پارسی برادری کی خدمات
تعداد میں کم لیکن تعلیم اور کاروبار میں کامیاب اس برادری نے پاکستان کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیرام دنشا آواری پاکستان کی ایک مایہ ناز کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ آواری بیچ لگژری ہوٹل اور آواری ہوٹل کے مالک ہیں۔ آواری گروپ پاکستان کی تاریخ کا پہلا گروپ تھا جس نے بیرون ملک بھی ہوٹل بزنس کامیابی سے چلایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرام دنشا آواری نے صرف کاروباری دنیا میں ہی کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ وہ دو بار سن 1978 اور سن 1982 کے ایشین گیمز میں کشتی رانی کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ بھی جیت چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ گوشپی آواری نے 1982ء میں بیرام دنشا آواری کے ہمراہ سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں، جنہوں نے کسی بین الاقوامی مقابلے میں سونے کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔
بانی کراچی
کراچی کی تاریخ جمشید نسروانجی مہتا کے ذکر کے بغیر ہمیشہ نامکمل ہی ہو گی۔ جمشید نسروانجی مہتا کو بانی کراچی بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں کراچی کا پہلا میئر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ جمشید مہتا کی محنت ہی تھی کہ جس نے چھوٹے سے شہر کراچی میں سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی اور فلاحی ادارے اور پارک تعمیر کروائے، یہاں تک کہ شجرکاری بھی کروائی اور جانوروں کے لیے پینے کے پانی کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا اور ان کے لیے ایک ہسپتال بھی تعمیر کروایا۔ جس شہر میں آج جابجا کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں، مہتا کے دور میں اس شہر کی سڑکیں دن میں دو بار دھلوائی جاتی تھیں۔ اسی وجہ سے اس وقت کراچی کو مشرق کا سب سے صاف شہر تصور کیا جاتا تھا۔ کراچی میں واقع جمشید کوارٹرز آج بھی جمشید مہتا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
سفارت کار
جمشید مارکرجو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سفارتکار رہے تھے، پارسی برادری کا ایک جگمگاتا نام ہیں۔ جمشید مارکر کو ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور تقریباﹰ ایک درجن سے زیادہ ممالک میں سفارت کار رہنے پر ان کا نام گینس ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل ہے۔
پارسی قانون دان
پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے جسٹس دراب پٹیل چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بھی رہے۔ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے بانی بھی تھے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے لیے پھانسی کی سزا کی مخالفت کی تھی اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے بھی انکار کیا تھا۔ اس کے علاوہ رستم سہراب جی سدھوا، اردشیر کاوسجی اور جمی انجینئر بھی پارسی برادری ہی سے تعلق رکھنے والے بڑے نام ہیں۔ ماما پارسی اسکول، ڈی جے سائنس کالج اور انکل سریا ہسپتال بھی پارسی برادری کی طرف سے بنائے گئے تھے۔ پاکستان کی مایہ ناز انجینئرنگ یونیورسٹی این ای ڈی بھی ایک پارسی نادر شاہ ادلجی دنشاہ کے نام پر ہے۔
پارسیوں کی پاکستان میں کم ہوتی ہوئی تعداد
پاکستان میں فرقہ وارانہ خونریزی اقلیتی مذاہب کے باشندوں میں شدید تشویش کا باعث بنی۔ سیاسی عدم استحکام، طالبان کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات نے صاحب حیثیت اقلیتی باشندوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ملک چھوڑنے والوں میں نوجوان طبقے کی تعداد زیادہ ہے۔ ایک پاکستانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1941ء میں پارسیوں کی تعداد ایک لاکھ 14 ہزار تھی۔ پاکستانی زرتشتی بانو مَندآل کے مطابق 1995ء میں یہ تعداد 2,831 رہ گئی۔ پھر 2012 میں یہی تعداد مزید کم ہو کر 1,675 رہ گئی تھی۔
بیرام دنشا آواری نے اس تناظر میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”نوجوانوں کے بیرون ملک جانے کی بڑی وجہ تعلیم کا حصول تو یقیناﹰ ہے مگر پچھلے کچھ سالوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی ہے۔ اس کی دوسری بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں قانون کی پاسداری کا فقدان بھی ہے۔ قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس کے باعث اقلیتی برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے مقابلے میں اب کینیڈا اور امریکا میں پارسیوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘‘
روشن خورشید برہوچہ کے بقول پارسی دوسرے ملک ہجرت نہیں کر رہے بلکہ نئی نسل تعلیم کے حصول کے لیے باہر جا رہی ہے۔ ہوا بازی کی صنعت سے تعلق رکھنے والی نتاشا ماولوالا کا کہنا ہے، ”اگرچہ پاکستان میں بھی معیاری تعلیمی ادارے موجود ہیں لیکن اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ملک سے باہر جانا بھی ناگزیر ہے۔‘‘ کم ہوتی ہوئی تعداد کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پارسی لڑکیاں اپنی برادری سے باہر شادی نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح کوئی دوسرا بھی اپنا مذہب تبدیل کر کے زرتشتی نہیں بن سکتا۔ پارسی برادری میں شرح پیدائش کا کم ہونا بھی اس آبادی میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ ان تمام وجوہات نے پاکستان میں مقیم پارسی برادری کو بہت حد تک تنہا کر دیا ہے۔ نتاشا ماولوالا کہتی ہیں، ”میں بچپن میں اپنے مذہبی تہواروں پر جوش و خروش سے تیاریاں کیا کرتی تھی اور پوری برادری میں خوب گہما گہمی ہوتی تھی۔ اب لیکن یہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔‘‘
کراچی کے رہائشی ارشیش ایرانی جو پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہم اکیلاپن تو محسوس کرتے ہیں لیکن اس بات کا اطمینان بھی ہے کہ ہماری اولاد بیرون ملک اپنی زندگی سے مطمئن، خوش اور کامیاب ہے۔‘‘ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہرسال اپنے بچوں سے ملنے بیرون ملک جاتے ہیں۔ پاکستان میں پارسیوں کے مستقبل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بیرام آواری پُرامید نظر آئے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،”نوجوان پارسی ملک واپس آ کر اپنے معاشرے کے لیے کچھ مثبت کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ پارسی فلاحی کاموں میں ہمیشہ آگے رہے ہیں، اسی طرح پارسی نوجوان بھی اپنے ملک واپس آکر اسی روایت کو زندہ رکھیں گے۔ پارسی بھی پاکستان کے اتنے ہی وفادار ہیں جتنا کوئی اور پاکستانی، اسی لیے عمر رسیدہ پارسی پاکستان کو ہی اپنا گھر تصور کرتے ہیں اور یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔‘‘
زرتشتی عقائد
زرتشتی مذہب کی مقدس کتاب کا نام اوستہ ہے۔ زرتشتی عقائد کے مطابق ہر چیز کا خالق ایک خدا آہورا مذدا ہے اور زرتشتی دن میں پانچ بار اس کی عبادت کرتے ہیں۔ روشن خورشید برہوچہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس کی بنیاد تین اصولوں پر ہے، نیک اعمال، اچھی سوچ اور خوش گفتاری۔ نو سے بارہ سال تک کے بچوں کو زرتشتی مذہب میں باقاعدہ طور پر شامل کیا جاتا ہے، جسے نوجوت کہتے ہیں۔ عنایت گزدار کی کتاب’زرتشتیوں کے لیے اے بی سی‘ کے مطابق خدا نے انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اچھائی اور برائی کے راستے میں تمیز کر سکے۔
زرتشتی عقیدے میں موت کے بعد صدقے کے آخری عمل کے طور پر جسم کو پرندوں کی خوراک بننے دیا جاتا ہے تاکہ مردہ انسانی جسم پانی ہوا اور زمین کو ناپاک نا کرے۔ تاہم اس عقیدے کے مطابق سب انسان برابر ہیں اور موت کے بعد ان کے اعمال ہی ان کے کام آئیں گے۔ اس لیے پارسی برادری میں فلاحی کاموں کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ یہ برادری معاشی طور پر کمزور پارسی خاندانوں کی بھی ہر ممکن مدد کرتی ہے۔(قومی آواز)
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
