پاکستان
باہر کے پیسے سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لکھ کر دھمکی دی گئی: وزیراعظم نے خط لہرا دیا
وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ کے جلسہ عام سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ہے اور وہ ثبوت ہے۔
جلسے سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھاکہ اپنی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ کو لالچ دی گئی پیسوں کی آفر کی گئی، ضمیر خریدنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ بکے نہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ مجھے بھی بڑی دیر تک پاکستان کا نظریہ نہیں پتا تھا، 18 سال کی عمر میں باہر گیا، یونیورسٹی باہر پڑھی پھر کرکٹ کھیلتا رہا، جیسے جیسے دین کی سمجھ آنی شروع ہوئی تو ایک چیز میرے ذہن میں آئی، اللہ جو مسلمانوں کو کہتا ہے وہ پاکستان میں نہیں مغرب میں نظر آتا ہے، نظریہ پاکستان مجھے پاکستان میں نہیں مغرب میں نظر آیا۔
’یہ ڈرامہ اس لیے ہو رہا ہے کہ عمران مشرف کی طرح گھٹنے ٹیک کر انہیں این آر او دے دے‘
عمران خان کا کہنا تھاکہ چھوٹا چور نہیں بڑا ڈاکو ملک کو تباہ کرتا ہے، یہ تین چور تیس سال سے ملک کا خون چوس رہے ہیں، ان کے پیسے باہر پڑے ہیں، یہ سارا ڈرامہ ہو رہا ہے کہ عمران مشرف کی طرح گھٹنے ٹیک کر انہیں این آر او دے دے، پہلے دن سے یہ سب کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ جنرل مشرف نے اس قوم پر ظلم کیا ان کے دباؤ میں آکر اور اپنی حکومت بچانے کیلئے ان چوروں کو این آر او دیا، ہم ان کے لیے ہوئے قرضوں کی قسطیں دینے پر بوجھ اٹھا رہے ہیں، حکومت جاتی ہے جائے، جان جاتی ہے جائے، کبھی ان کو معاف نہیں کروں گا۔
عمران خان کا مزید کہنا تھاکہ کورونا میں اپنے ملک کو بند نہیں کیا مجھ پر تنقید ہوئی اور لوگوں نے کہا کہ عمران ملک تباہ کر رہا ہے، سندھ حکومت نے بھی میری بات نہیں مانی لیکن آج ساری دنیا نے تسلیم کیا جو پاکستان نے قدم اٹھائے اس سے اپنی قوم، معیشت اور غریبوں کو بچایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزيشن لوگوں کو خریدنے کیلئے پیسے لگارہی ہے ، دعویٰ کرتاہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ساڑھے تین سال میں کسی حکومت نے ایسی پرفارمنس نہيں دی جو ہم نے دی ہے، ڈیزل کی قیمت دس روپے کم کی ہے، ہماری معیشت کی ترقی پر اپوزيشن دنگ رہ گئی، ہم نے ملکی تاریخ میں سب سے زيادہ ٹیکس اکٹھا کیا، ٹیکسٹائل انڈسٹری ریکارڈ ایکسپورٹ کررہی ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھاکہ مریم بی بی نے جس نے زندگی میں ایک گھنٹہ کام نہيں کیا جبکہ بلاول کو 14 سال میں اردو ہی نہیں بولنی آئی۔
انہوں نے کہا کہ ’آصف زرداری ، بلاول کو لیڈر بنانے کیلئے پہلے تھوڑا بڑا ہونے دینا تھا، بلاول مجھے روز دھمکی دیتاہے، نیب نے مجھے بلایا تو یہ کردوں گا؟ تو بلاول تم کیا کرو گے تو میں رو دوں گا‘۔
عمران خان کا مزید کہنا تھاکہ ن لیگ نے 2013 میں مہنگی سڑکیں بنائیں لیکن 2021 میں سڑکیں 2013 سے 23 کروڑ روپے سستی بنیں، مراد سعید آج آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، این ایچ اے ان کے ماتحت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مراد نے شروع میں بتایا تو میں مانوں نا کہ یہ کیسے ہوگیا، ایک دوست ملنے آیا وہ کہتا ہے کہ میرا ایک بلڈنگ پروجیکٹ ہے وہاں گیا تو ٹھیکیدار کہتا ہےکہ 2021 کے نہیں 2013 کے ریٹ چاہیئیں، پتہ چلا 2013 میں 23 کروڑ روپیہ فی کلو میٹر ان کی سڑک زیادہ مہنگی تھی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے آخر میں پرچی اٹھا کر خطاب کیا اور کہا کہ ہمارے ملک کو پرانے لیڈرز کے کرتوتوں کے وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ملک کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کوشش کی تو فضل الرحمان، نواز شریف ان کی اُس وقت کی پارٹیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج اسی بھٹو کے داماد آصف زرداری اور اس کا نواسہ دونوں کرسی کی لالچ میں اپنے نانا کی قربانی کو بھلا کر اس کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی وکالت کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ باہر سے ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کو متاثر کیا جا رہا ہے، اس سازش کا ہمیں مہینوں سے پتہ ہے، یہ جو آج قاتل اور مقتول اکٹھے ہوگئے ہیں اور ان کو اکٹھے کرنے والوں کا بھی ہمیں پتہ ہے، یہ ذوالفقار علی بھٹو والا ٹائم نہیں وقت بدل چکا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھاکہ قوم بیدار ہے اور ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے، ہم سب سے دوستی کریں گے غلامی نہیں کریں گے، ہمارے ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ملکی مفاد میں لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔
اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شک کر رہا ہے، اسے آف دی ریکارڈ خط دکھا سکتا ہوں، بیرونی سازش کی بہت سی باتیں مناسب وقت پر جلد سامنے لائی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھاکہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ لندن میں بیٹھا ہوا کس کے ساتھ ملتا ہے؟ پاکستان میں بیٹھے ہوئے کردار کس کے کہنے پر چل رہے ہیں؟ ہمارے پاس جو ثبوت ہیں، ہر چیز کو ظاہر کر رہا ہوں، اس سے زیادہ تفصیل میں بات نہیں کررہا کہ میری کوشش ہوتی ہے ملک کے مفادات کی بات کی جائے، کوئی ایسی بات نہ کردوں ملک کو نقصان پہنچے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ جب ملکی پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوگی تو قوم دیکھے گی، جو ہماری طرف سے اس طرف ووٹ ڈالنے جائے گا اس کو قوم نے کبھی معاف نہیں کرنا، آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ مستعفی ہوجائیں۔
ان کا کہنا تھاکہ ہمارے ارکان واپس نہیں آئیں گے، ن لیگ اور پی پی کے ارکان قومی اسمبلی کے بھی ضمیر جاگ جائیں گے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم کے جلسے سے قبل حکومتی اتحادی جماعت جمہوری وطن پارٹی نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مظاہرے سے قبل اسلام آباد کی سڑکیں سیل
اسلام آباد، پاکستان میں انتظامیہ نے جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مجوزہ مظاہرے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونے والی اہم سڑکوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے بدھ کو بتایا کہ اسلام آباد-پشاور موٹروے، اسلام آباد-ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے اور گرینڈ ٹرنک روڈ کو بدھ کی شام سے متعدد مقامات پر بند کیا جائے گا۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسی کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔
پاکستانی مقامی میڈیا کے مطابق، سڑکوں کی بندش غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور اس کا مقصد عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کو 27 ستمبر کو دارالحکومت کی جانب مارچ کرنے سے روکنا ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں قصوروار قرار دیا گیا تھا، تاہم ان کی پارٹی نے ان مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مقدمات میں بعد میں اپیل کے دوران سزائیں معطل یا فیصلے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
عمران خان کی صحت، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی آنکھ کے علاج کے لیے کئی ماہ سے ماہر طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی نے ان کی رہائی کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔
مجوزہ مارچ میں شرکا کی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تقریباً 1,150 کلومیٹر اور لاہور سے تقریباً 270 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق، حکام نے دارالحکومت اور شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا سے آنے والے اہم راستے اٹک پل پر تقریباً 2,000 مال بردار کنٹینر تعینات کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان ایک اور اہم راستے ہارون پل پر بھی کنٹینر اور ریت کی بوریاں رکھی گئی ہیں۔ ضلع اٹک میں تقریباً 30,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو پی ٹی آئی کو مظاہرے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا اور پارٹی کو مظاہرے سے قبل اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
دریں اثنا، ایک اور اپوزیشن جماعت جماعت اسلامی نے ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف اتوار کو کراچی سے اسلام آباد کے لیے اپنا مارچ شروع کیا تھا۔ پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 100 پاکستانی روپے سے زائد کا لیوی واپس نہیں لیتی تو یہ تحریک حکومت ہٹانے کی مہم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے شہر ملتان پہنچنے کے بعد نعیم الرحمن نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مارچ ملتوی کیا جائے گا۔ اس معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی مجوزہ ہے۔
اسی دوران پولیس نے اتوار کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے امن عامہ سے متعلق قانون کے تحت گرفتار کر لیا۔ ان کی دو دیگر بہنوں، عظمیٰ خان اور نورین نیازی سمیت کئی دیگر رشتہ داروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سنگین ایندھن قلت کی صورت میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت 1000 پاکستانی روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا اندیشہ
اسلام آباد، پاکستان میں پٹرول کی قیمت سنگین ایندھن قلت کی صورت میں 1000 پاکستانی روپے (3.61 امریکی ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے اتوار کو یہ بات کہی۔ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ملکی مارکیٹ پر دباؤ برقرار ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت حالیہ درمیانی مارکیٹ شرح تقریباً 277.2 پاکستانی روپے فی ایک ڈالر کی بنیاد پر یہ حساب کیا گیا ہے۔
وزیر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں اس وقت پٹرول تقریباً 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر جبکہ ڈیزل تقریباً 424 پاکستانی روپے (1.53 ڈالر) فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
ملک نے کہا کہ پٹرول کی قیمت پہلے ہی تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہے اور خبردار کیا کہ اگر سپلائی مزید محدود ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ہوا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
28 فروری کو تنازع شروع ہونے کے وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 258.17 پاکستانی روپے (0.93 ڈالر) فی لیٹر تھی۔ اس کے بعد قیمت میں تقریباً 131 پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 51 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کے انجن والی کاریں استعمال کرنے والوں کے لیے سبسڈی اسکیم شروع کی ہے۔
اس پروگرام کے تحت اہل صارفین کو فی لیٹر 100 پاکستانی روپے (0.36 ڈالر) تک کی سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ ہر رجسٹرڈ مستحق کو ماہانہ چار ٹوکن دیے جانے ہیں اور ہر ٹوکن کے ساتھ 500 پاکستانی روپے (1.80 ڈالر) کی سبسڈی منسلک ہے۔
حکومت کے مطابق، اس اسکیم کے لیے 17.5 لاکھ سے زیادہ افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
تقریباً 15 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 6.80 لاکھ سے زیادہ استعمال بھی کیے جا چکے ہیں۔
حکومت مقامی سطح پر تیل کی پیداوار بڑھانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ملک نے کہا کہ تیل کے کنوؤں پر کام شروع ہو چکا ہے اور مقامی طور پر پیدا ہونے والا خام تیل ممکنہ طور پر اکتوبر تک دستیاب ہو سکتا ہے۔
تنازع شروع ہونے کے فوراً بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا تھا۔ یکم مارچ کو پٹرول کی قیمت 266.17 پاکستانی روپے (0.96 ڈالر) فی لیٹر تھی، جو 7 مارچ تک بڑھ کر 321.17 پاکستانی روپے (1.16 ڈالر) ہو گئی۔
سب سے بڑا اضافہ اپریل کے اوائل میں ہوا۔ حکومت کی جانب سے قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ کیے جانے کے بعد 3 اپریل کو پٹرول کی قیمت 458.41 پاکستانی روپے (1.65 ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ گئی۔بعد میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پٹرول کی قیمت بھی کم ہوئی اور 20 جون کو یہ 299.50 پاکستانی روپے (1.08 ڈالر) فی لیٹر تک آ گئی۔ 19 ستمبر تک پٹرول کی موجودہ قیمت 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کہا کہ قیمتوں میں تازہ ترین ردوبدل عالمی مارکیٹ کی قیمتوں، پریمیم اور قیمتوں کے تعین کے دیگر عوامل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
پاکستان عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے خاص طور پر متاثر ہوتا ہے کیونکہ وہ درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔
مالی سال 2025-26 میں، جو جولائی 2025 سے جون 2026 تک جاری رہا، پاکستان نے موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول کی 53.5 لاکھ ٹن مقدار درآمد کی۔
اسی مدت کے دوران ملکی ریفائنریوں نے تقریباً 26.3 لاکھ ٹن پٹرول فراہم کیا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تقریباً 76.8 لاکھ ٹن پٹرول فروخت کیا۔
درآمدات آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی پٹرول فروخت کا تقریباً 69.7 فیصد تھیں۔ تاہم، یہ اعداد و شمار سپلائی چین کے مختلف مراحل پر ناپے گئے ہیں اور انہیں مجموعی سپلائی کی 100 فیصد تقسیم تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سابق وزیر اعظم عمران خان کی تین بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی تین بہنیں گرفتار کر لی گئیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی کے ترجمان زلفی بخاری نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ پنجاب پولیس نے علیم خان کے گھر پر چھاپہ مارا اور عمران خان کی دو اور بہنوں کو بھی حراست میں لیا، نیز ان کے بھتیجوں اور ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات کے شیخ وقاص اکرم نے اے ایف پی کو بتایا کہ خان صاحب کی بہنیں اور بچے حراست میں لیے گئے تھے تاہم بچوں کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
اکرم نے مزید کہا کہ تینوں خواتین کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے تین بہنوں کو پنجاب کے عوامی نظم و نسق کے قوانین کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔
تحریکِ انصاف نے 27 ستمبر کو ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اتوار کو کہا کہ احتجاج کی کال غیر قانونی ہے اور انہوں نے وارننگ دی کہ ‘ہم انہیں راستے بند کرنے اور عوام کی زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے’۔
عمران خان، جو 2023 سے جیل میں ہیں، کو بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں اپنی اہلیہ کےہمراہ 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جنہیں دونوں نے مسترد کیا ہے۔
73 سالہ سابق وزیرِ اعظم، جو ایک سابق کرکٹ اسٹار بھی ہیں، 2018 سے 2022 تک عہدے پر رہے اور انہیں حکومت اور ملک کی طاقتور فوج کے درمیان کشیدگی کے باعث بھڑکنے والے سیاسی بحران کے دوران کیے گئے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا7 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا7 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
