تازہ ترین
عمران خان نے اپنے خلاف مقدمات کو’سیاسی محرکات’ پرمبنی قراردے کرمسترد کردیا
پاکستان کے سابق وزیراعظم اورتحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے العربیہ کوایک خصوصی انٹرویو میں اپنے خلاف دائرمقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی الزامات قرار دیتے ہوئے مستردکردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد انھیں انتخابی دوڑ سے باہر رکھنا ہے۔
انھوں نے کہا:’’یہ سب سیاسی محرکات پر مبنی مقدمات ہیں تاکہ مجھے انتخابی دوڑ سے باہر رکھا جا سکے‘‘۔انھوں نے پنجاب اورخیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ (حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں) فکرمند ہیں کہ اگرہم 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں جاتے ہیں تو وہ ہار جائیں گے۔
ان کے اس انٹرویو کی اشاعت کے دوران میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے صوبہ پنجاب میں 30 اپریل کوہونے والے انتخابات 8 اکتوبرتک ملتوی کردیے ہیں۔عمران خان اوران کی جماعت کے قائدین نے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے اوراس کو الیکشن کمیشن کی آئین شکنی کے مترادف قراردیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ وہ عدالت کی سماعتوں میں شرکت سے بچنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔تاہم ، انھوں نے واضح کیا کہ جب وہ پیش نہیں ہوئے تو یہ عمل یا تونومبرمیں ان کے خلاف قاتلانہ حملے میں لگنے والی چوٹوں یا پھر سکیورٹی خطرات کی وجہ سے تھا۔
عمران خان پنجاب کے شہروزیرآباد میں ایک ریلی میں زخمی ہونے کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہونے تک چارماہ تک گھرمیں بند رہے ہیں۔انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ ’’اس کے بعد سے … میں ایک کے علاوہ ہرعدالت میں پیشی پر گیا ہوں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عدالت غیرمحفوظ تھی‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ حکومت خود کہتی ہے کہ عمران کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، لیکن وہ انھیں تحفظ مہیّانھیں کرے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب اسلام آباد میں عدالت کی سماعت دوسری جگہ ،جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل ہوئی تو وہ وہاں گئے اور خود کو پیش کیا۔عمران خان نے اپنے اس الزام کا اعادہ کیا کہ حکومت انھیں مارنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انھوں نے اپنی ٹانگ میں گولی لگنے کا الزام وزیر اعظم شہبازشریف، وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خان اور پاک فوج کے میجرجنرل فیصل نصیر پرعاید کیا کہ وہ آئی ایس آئی کے لیے کام کررہے ہیں۔میاں شہباز شریف کی حکومت نے ان الزامات کو ‘جھوٹ کا پلندا’ قرار دے کرمسترد کر دیا تھا۔
’’وہ کَہ رہے ہیں کہ کسی غیرملکی ایجنسی کی وجہ سے میری جان کو خطرہ لاحق ہے۔میں جانتا ہوں کہ یہ کوئی غیرملکی ایجنسی نہیں ہے،یہ خود حکومت ہے جو مجھے مارنے کی کوشش کر رہی ہے‘‘۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا۔
وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر رہتے ہوئے غیر قانونی طور پرسرکاری تحائف فروخت کرنے کے الزامات کے بارے میں عمران خان نے اس بات کا اعادہ کیاکہ ’’وہ بے قصورہیں۔یہ ملک مجھے 50 سال سے جانتا ہے۔ میں نے ان 50 برسوں میں کبھی قانون نہیں توڑا‘‘۔
گذشتہ سال اپریل میں پارلیمان میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے محروم ہونے والے عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات سمیت متعدد مقدمات وزیراعظم شہبازشریف کی حکومت کے ایماء پر درج کیے گئے ہیں اور یہ انھیں بدنام کرنے کی سازش ہیں۔
انھوں نے گذشتہ ہفتہ کے روز پولیس کے زمان پارک لاہور میں واقع ان کے گھر پردھاوا بولنے کے حالیہ اقدام کی مذمت کی اورکہا کہ ملک نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کیونکہ ان کی اہلیہ وہاں اکیلی تھیں اور وہ خود عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کا حصہ بننے کے لیے اسلام آباد جارہے تھے۔
پولیس نے پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں عمران خان کی رہائش گاہ پردھاوا بول دیا تھا اوران کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کے گولے پھینکے تھے۔ان کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران میں 61 افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
عمران خان نے وضاحت کی کہ پولیس انھیں گرفتار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ انھوں نے ضمانتی مچلکے جمع کرائے تھے کہ وہ 18 مارچ کو طے شدہ وقت کے مطابق عدالت کی سماعت میں شرکت کریں گے ۔
انھوں نے بتایا کہ ’’اگرآپ پولیس کو ضمانتی مچلکے دیتے ہیں کہ آپ مقررہ تاریخ پرعدالت میں حاضر ہوں گے توپولیس آپ کو گرفتار نہیں کر سکتی۔میرے حامی گھرکے باہرمیرادفاع کرنے کے لیے آئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ قانونی نہیں ہے۔یہ اغوا تھا۔وہ مجھےاغوا کرنے کے لیےآرہے تھے،گرفتار کرنے کے لیے نہیں‘‘۔
یہ پوچھے جانے پر کہ ملک کے حالات کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟عمران خان نے کہا کہ ایسا کرنے کا واحد طریقہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو پاکستان کی تنظیم نو اور ہماری معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے درکار مشکل فیصلے کرے۔ اس سے نکلنے کا واحد راستہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں۔کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔آپ جو بھی کریں گے، سیاسی عدم استحکام برقراررہے گااور اس کا مطلب ہے کہ معیشت ڈوبتی رہے گی‘‘۔
انھوں نے 2018 میں منعقدہ انتخابات کے بعد تشکیل پانےوالی اپنی حکومت کے کاموں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ کووِڈ 19 کے باوجود اس نے معیشت کو تیز کیا ہے۔انھوں نے اپریل 2022 میں اقتدار سے اپنی بے دخلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’پھراس سازش نے ہماری حکومت کو ہٹا دیا،اور اس کے بعد سے، پاکستان کی معیشت زوال کی طرف جا رہی ہے۔
اس سوال پرکہ کیا انھیں سیاست کے میدان میں آنے پر افسوس ہے؟سابق کرکٹ اسٹار سے سیاست داں بننے والے عمران خان نے کہاکہ ’’میرے نزدیک سیاست کیریئر نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔میں نے اپنے ملک، انصاف اورقانون کی حکمرانی کے لیے سیاست میں قدم رکھا۔ یہی وہ نظریات تھے جن کے ساتھ میں 26 سال پہلے سیاست میں آیا تھا، اور میں اب بھی اسی راستے پرچل رہا ہوں‘‘۔
دنیا
سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
ٹورنٹو، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی محترمہ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندستان-کینیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر کینیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کینیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔
اجلاس میں کینیڈا اور ہندستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ہندستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ 2 اور نجی بازار فنڈ 2 کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
محترمہ سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، 4 آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ 2018 کے 11.18 فیصد سے کم ہوکر مارچ 2025 میں 2.31 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کینیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
