جموں و کشمیر
کشمیر میں آگ کی دو الگ الگ وار داتوں میں زائد از ایک درجن دکانوں کو نقصان
سری نگر، وادی کشمیر میں دوران شب آگ کی دو الگ الگ وار داتوں میں زائد از ایک درجن دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔گرمائی دارلحکومت سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں آگ کی ایک شبانہ وار دات میں کم سے کم 6 دکانوں کو نقصان پہنچا۔
محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب قریب ڈھائی بجے لگنے والی آگ کی ایک واردات میں 6 دکانوں کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا: ‘یہ بیس پر مشتمل دکانوں کی لائن ہے جس میں سے 6 دکانوں کو آگ سے نقصان پہنچا’۔ان کا کہنا تھا کہ اطلاع موصول ہوتے ہی ہماری چار گاڑیاں جائے واردات پر پہنچی اور آگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا۔
تاہم آگ کی اس وار دات میں کسی قسم کے کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے نیز آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جا رہی ہے۔ادھر وسطی ضلع گاندربل کے قصبہ کنگن کے مین مارکیٹ میں دوران شب آگ کی ایک واردات میں ایک شاپنگ کمپلیکس کے کم سے کم 7 دکان خاکستر ہوگئے۔
متعلقہ حکام نے بتایا کہ کنگن کے مین مارکیٹ میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب ایک شاپنگ کمپلیکس میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں اس کے 7 دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ اطلاع موصول ہوتے ہی ہماری گاڑیاں اور عملہ جائے وار دات پر پہنچ گئے اور آگ کو قابو میں کر لیا۔ان کا کہنا تھا کہ آگ کی اس واردات میں کپڑوں کے دو دکانوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔تاہم اس وار دات میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
بتادیں کہ وادی کشمیر میں حالیہ دنوں میں آگ لگنے کی وار داتوں میں اضافہ درج ہو رہا ہے جو لوگوں کے لئے فکر مندی کا باعث بن گیا ہے۔محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کشمیر کے مطابق وادی کشمیر میں موسم سرما کے دوران آگ کی وارداتوں میں اضافہ درج ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس دوران گرمی کے لئے الیکٹرک یا گیس پر چلنے والے آلات کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ محکمے کی طرف سے جاری ایڈوائزری پرعمل پیرا ہونے سے آگ کی وار داتوں میں کمی کی جاسکتی ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر بینک کی توجہ کا رخ بدل گیا ہے، کشمیر میں بینک کی کریڈٹ گروتھ صرف 9 فیصد، باہر 30 فیصد: الطاف بخاری
سری نگر، اپنی پارٹی کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر خزانہ الطاف بخاری نے پیر کے روز جموں و کشمیر بینک کی انتظامیہ کی توجہ کے رخ میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بینک کی کریڈٹ گروتھ کشمیر میں صرف 9 فیصد ہے، جبکہ جموں و کشمیر سے باہر یہ 30 فیصد ہے۔
بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر بینک ’’تاج کا نگینہ‘‘ ہے اور خطے کی اقتصادی ترقی میں اس کا اہم کردار ہے۔
سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’سابق وزیر خزانہ کی حیثیت سے مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر بینک کی کریڈٹ گروتھ کشمیر میں 9 فیصد جبکہ ملک کے باقی حصوں میں 30 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں بینک نے یہاں اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں قرض دینے کی سرگرمی محدود کی جارہی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں کریڈٹ گروتھ میں اضافہ ہورہا ہے۔
بخاری نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے تشویش کا معاملہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب یہ بینک جموں و کشمیر حکومت کی اکثریتی ملکیت والا مالیاتی ادارہ ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر سے باہر دیے جانے والے قرضوں میں نان پرفارمنگ اثاثے (این پی اے) خطے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دوسری جگہوں پر قرضوں میں توسیع ہورہی ہے تو جموں و کشمیر میں قرض دینے کا عمل کیوں کم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’کشمیر میں قرض دینے کو کم اور باہر قرض دینے کو زیادہ کیوں کیا جارہا ہے؟ یہ ہمارے لیے تشویش کا معاملہ ہے۔‘‘
بخاری نے بینک میں بھرتی کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی مبینہ تجویز پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسے ادارے میں مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے جس کی اکثریتی ملکیت جموں و کشمیر حکومت کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینک نے تاریخی طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں کو روزگار فراہم کیا ہے اور مقامی ملازمین کا اس ادارے کے ساتھ جذباتی تعلق بھی ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں میڈیکل انٹرنز کا احتجاج، وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر کام معطل
سری نگر، کشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں ایم بی بی ایس انٹرن ڈاکٹروں نے پیر کے روز احتجاج کیا اور کام معطل کردیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے ماہانہ وظیفے میں اضافہ کیا جائے، جو ان کے مطابق گزشتہ سات برس سے تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔
سری نگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں احتجاج کرنے والے میڈیکل انٹرنز نے بتایا کہ انہیں فی الحال تقریباً 12,300 روپے ماہانہ وظیفہ مل رہا ہے اور وہ اسے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ایک احتجاجی انٹرن نے کہاکہ ’’آج ہم اس لیے احتجاج کررہے ہیں کیونکہ گزشتہ سات برس سے ہمارے وظیفے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ یہ تقریباً 12,300 روپے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسے بڑھا کر 30,000 روپے کیا جائے۔‘‘
انٹرنز نے کہا کہ وہ اسپتالوں میں طویل اوقات تک، اکثر دن رات، کام کرتے ہیں اور کم وظیفے کے باوجود مریضوں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک اور انٹرن نے کہاکہ ’’ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں وظیفہ بڑھا کر تقریباً 25,000 روپے یا اس سے زیادہ کردیا گیا ہے۔ اڈیشہ میں یہ 44,000 روپے جبکہ مغربی بنگال میں 43,000 روپے ہے۔ حال ہی میں اتر پردیش میں احتجاج کے بعد وظیفہ بڑھا کر تقریباً 26,000 روپے کردیا گیا۔ تو یہاں ایسا کیوں نہیں ہورہا؟‘‘
ایک اور احتجاجی ڈاکٹر نے کہا کہ انٹرنز ’’اسپتال کی ریڑھ کی ہڈی‘‘ ہیں اور سوال اٹھایا کہ ان کی خدمات کو یکساں اہمیت کیوں نہیں دی جارہی ہے۔
انٹرن نے کہاکہ ’’ہم دن رات اسپتال میں گزارتے ہیں اور مریضوں کی جان بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
ہم نے کئی مرتبہ حکومت سے رجوع کیا اور لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت سے ملاقات سمیت ہر ممکن کوشش کی، لیکن ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘‘
جموں و کشمیر کی وزیر صحت سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی وظیفے میں اضافے کا عمل شروع کردیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم نے فائل پر کارروائی مکمل کرلی ہے۔ مالی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے فائل محکمہ خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔ اس پر کارروائی جاری ہے۔‘‘
ایتو نے انٹرنز کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے پیش نظر وظیفے میں اضافہ ضروری ہے، تاہم انہوں نے ہڑتال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوسکتی ہے۔
یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
جموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
جموں، یہاں شہر کے مضافاتی علاقے بشناہ میں رنگ روڈ پر پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور سے گلا کٹ جانے کے باعث ایک سابق فوجی شدید زخمی ہوگیا اور بعد میں اس کی موت ہوگئی۔
پولیس نے بتایا کہ آر ایس پورہ کے دیوان گڑھ کے رہنے والے ریٹائرڈ فوجی لکھویندر سنگھ بشناہ علاقے کے قریب دو پہیہ گاڑی پر سفر کررہے تھے، اسی دوران ممنوعہ چینی ’مانجھا‘ ڈور سے ان کے گلے پر گہرا زخم آگیا۔
پولیس کے مطابق انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں انتظامیہ نے چینی ’مانجھا‘ یعنی نائلون سے بنی پتنگ اڑانے والی ڈور کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کی غیر قانونی فروخت کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی رہی ہے۔
یواین آئی۔ ظا
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا7 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان6 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
ہندوستان6 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا5 days agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
ہندوستان4 days agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
جموں و کشمیر7 days agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
ہندوستان5 days agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا6 days agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
