تازہ ترین
8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم
عاصم محی الدین
آٹھ فروری کو پاکستان میں جنرل الیکشن منعقد کے گے۔ جس میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے مسلم لیگ نواز کو کامیاب قرار دیا گیا جس نے آخری نتائج آنے تک محض 75 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے ابھی تک 91 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ یہ چناؤ پاکستان میں کافی کنٹرووتشل رہے اور پاکستان کے ساتھ ساتھ تمام دنیا کے ممالک اور میڈیا نے اسے جعلی انتخابات قرار دیا۔ پاکستان کے لوگوں اور بین لاقوامی میڈیا کے مطابق اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 804 یعنی عمران خان نے دو تہائی سے زیادہ اکسریت حاصل کی جبکہ نواز شریف کی مسلم لیگ جسے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرکے جتانے کی کوشش کی گی۔
تاہم نہ یہ منڈیٹ کی چوری پاکستان کے لوگ تسلیم کرنے کے لے تیار ے اور نہ ہی د نیا کا کوئی ملک۔
یہاں تک کہ امریکہ میں جو بایڈن کو بتایا گیا کہ جب تک نہ پاکستان کے الیکشن پراسس پر لگاے گے الزام کلیر ہو جاتے ے تب تک کسی بھی بننے والی حکومت کو تسلیم نہ کیاجائے ۔
دراصل یہ الیکشن عمران خان جسے لوگوں کی حمایت حاصل ے اور پاکستان کی فوج کے درمیان تھا جس میں عمران خان نے فوج کو بری طرح سے شکست دے دی اور اب راولپنڈی میں مزید سازشے کی جارہی ے کہ عمران خان کو اقتدار سے باہر کیسے رکھا جاے۔ مبصرین اس فوج کی سازش اور چناؤ میں ہونے والی دھاندلی کو 1971 کے ہونے والے الیکشنز کے ساتھ جھوڈ رہے ے جب پاکستان کی فوج نے بنگالیوں پر ظلم کی انتہا کردی اور پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔
میں 1971 کے واقعات آپکے سامنے رکھتا ہوجسے آپ اندازہ لگا سکتے ے کہ 1971 اور 2024 کے الیکشنز میں کیا یکسانیت ے اور کس طرح سے پاکستان کی فوج نے اپنا ملک توڈدیا۔
علحیدہ ملک بننے کے بعد 1970 میں پہلی بار پاکستان میں جنرل الیکشنز کراےگے۔ اس الیکشن میں دو سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ تھا۔ ایک طرف سے مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ جس کے ساتھ پورا ایسٹ پاکستان تھا وہی دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی جس کی سربراہی ذولفقار علی بھٹو کررہےتھے ۔ الیکشنز کا نتیجہ جب سامنے آیا عوامی لیگ نے 167 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ ذولفقار علی بھٹو کو محض 86نشستے اس الیکشن میں حاصل ہوئی۔ بنگالی لیڈر کی اس شاندار کامیابی پر پورے ویسٹ پاکستان میں ماتم چھاگیا اور فوج کو ان کہ یہ جیت بلکل ہضم نہیں ہوئی ۔
فوج نے پاکستان کے الیٹ سیاست دانوں کے ساتھ مل کر یہ طے کرلیا کہ بنگالیوں کے ہاتھوں میں اقتدار نہیں دیا جاسکتا۔ صادق سالک جو ایک فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دانشور تھے نے اپنی کتاب میں ایک فوجی افسر کو کوٹ کرتے ہوے لکھا
Don’t worry we will not allow these black bastards to rule over us.
ویسٹ پاکستان کے لوگ خصوصاً پنجابی جن کی اکثریت اور دبدبہ فوج میں تھا بنگالیوں کو کم ضرف سھمجا کرتے تھے۔
جس طرح سے آج پاکستان کی فوج عمران خان کو اقتدار سے دور رکھنا چاہتی ے اسی طرح اس وقت مجیب الرحمٰن جو عمران خان کی طرح سلاخوں کے پھیچے تھا کو اقدار نہیں دیا گیا اس کے باوجود پاکستان کے چالیس فیصد ووٹ انہوں نے حاصل کے جبکہ بھٹو کو صرف اٹھارہ فیصد ووٹ ملے تھے۔
نیشنل اسمبلی کا اجلاس مارچ میں ڈھاکا میں ہونے جارہا تھا اور لوگوں سے ریجیکشن پانے کے باوجود بھٹو بھی نواز شریف کی طرح پاور میں آنا چاہتے تھے اور موقعے کا فایدہ اٹھا کر انہوں نے فوج کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ فوج کی حمایت ملنے کے بعد بھٹو کے تیور بدلنے لگے اور تمام ان منتخب امیدوارو کو دھمکی دی کہ وہ ڈاکھہ میں ہونے والے اجلاس میں حصہ نہ لے۔
یہ رساکشی ایک بہت بڈے سیاسی افراتفری میں تبدیل ہونے جارہی تھی۔ وہی دوسری جانب پاکستان کی فوج نے ملک میں ایک بڈا پروپگنڈا کھڈا کیا اور کہا کہ ایسٹ پاکستان میں بنگالی لوگوں کی مزاہمت کے پھیچے بھارت ے جبکہ اس مزاحمت کی وجہ سے پاکستان اندرونی معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی کو بھی خطرہ ے۔ اور اس کے ساتھ ہی ایسٹ پاکستان میں 15 مارچ کو آپریشن سرچ لایٹ لانچ کیا گیا۔
آپریشن کے دوران پاکستان کی فوج نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف درندگی کی سارے حدہے پار کر دی اور انسانی حقوق کی یہ شدید پامالیوں کی گونج پوری دنیا کے سفارتکاروں تک ڈاکہ میں مقیم پہنچنے لگی۔ امریکہ کے سفارتکاروں نے اس شدید بربریت کو اپنے حکام تک پہانچا دیا اور زور دیا کہ پاکستان کی فوج کو اب روک دیا جاے۔ پاکستان کی بربریت کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے بچے، خواتین کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے طلباء تھے۔
جس طرح سے آج پاکستان میں ہونے والے جعلی انتخابات کو لیکر امریکہ کے کی سارے ادارے اپنے صدر جو بائیڈن کو وارن کررہے ے اسی طرح اس وقت کے صدر ریچیرڈ نکسن کو بھی بیشتر اداروں نے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج کو ایسٹ پاکستان میں عام لوگوں کی قتل و غارت کرنے سے روک دیا جاے۔
لیکن پاکستان کی فوج نے سویت یونین، جس میں بھارت بھی شامل تھا کے خلاف بھڈتے اثر و رسوخ کے خلاف امریکہ کا کیمپ جوائن کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف امریکہ نے اس قتل و غارت کے خلاف آنکھے بند کی بلکہ پاکستان کی فوج کو سپورٹ بھی کیا۔
اس کے بعد صدر نیکسن نے اپنے تمام اداروں کو ایک آفیشل کمینیکیشن جاری کیا جس میں انہوں نے لکھا ۔ To all hands: Don’t squeeze Yahya at this time.
پاکستان کے سفارتکار آگاہ ہلالی نے اس آپریشن سرچ لایٹ کو جواز بنا کر امریکہ میں کہا کہ پاکستان کے لے ایک بہت بڈی مصیبت آگی تھی جس کی وجہ سے ان لوگوں کو مارنا ضروری تھا تاکہ ملک کو ٹوٹنے سے بچایا جاسکے۔
اس آپریشن سرچ لایٹ میں پاکستان کی فوج نے ہزاروں کی تعداد میں عام لوگوں کو ایسٹ پاکستان میں قتل عام کیا اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی گی۔
دوسری جانب ذولفقار علی بھٹو نے بلکل اس درندگی کو نظر انداز کرتے ہوے پاکستانی فوج کی کاروائی کا جواز ٹھہرایا ۔ اقوام متحدہ میں اسی سال کے آخر میں بھارت کی طرف سے پاکستان کی ایسٹیرن ونگ کی فوجی تنصیبات پر اٹیک کرنے کو وجہ بناتے ہوے انہوں نے جارحانہ طریقے سے تقریر کی۔ کھچہ کاغزات کو پھاڈتےہوے بھٹو نے اس اٹیک کو بھارتی جارحیت قرار دے دیا اور اجلاس سے باہر چلے گے۔
اس تقریر کے بعد پاکستان میں بھٹو نے اپنی جگہ بنا لی اور اکثر لوگ ان کی اصلیت بھول گے۔ پاکستان کی فوج نے بھی اسے اس جارحانہ بیان کے لے سراہا اور اس طرح سے جمہوری میدان میں شکست زدہ بھٹو اب پاکستان کا نیشنل لیڈربن گیا۔
وہا دوسری جانب بھارت کے سامنے ایسٹ پاکستان میں 16 دسمبر کو پاکستان کی فوج نے ہتھیار ڈال دے۔ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد اب تک یہ کسی بھی فوج کا سب سے بڈا سرینڈر مانا جاتا ے جس میں 91000 فوجیوں نے اپنے ہتھیار ڈال دے۔ اور اس طرح سے بنگلہ دیش وجود میں آگیا۔
اب اگر موجود ہ صورتحال کو دھیکینگے تو آپ سمجھ جاینگے کہ حالات میں کوئی بدلاؤ نہیں آچکا ے اور جس طرح سے ایک سب سے بڈے جمہوری لیڈر مجیب الرحمٰن کو پاکستان کی فوج نے دیوار کے ساتھ لگایا اسی طرح عمران خان کو بھی سیاسی نقشے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ے۔ لیکن مجیب الرحمٰن کی قبولیت صرف بنگالیوں کے دلوں میں تھی جبکہ عمران خان ابھی تک پاکستان کی سیاست کا واحد لیڈر ے جس نے تمام پنجابی ، پختون، سندھی اور بلوچ کو ایک ہی صف میں فوج کے خلاف کھڈا کردیا ے جسے ایسا لگ رہا ے کہ پاکستان کی فوج کو ہار ماننے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا ے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا5 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا5 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
ہندوستان6 days agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
