ہندوستان
وقف ترمیمی قانون میں ایسا کوئی انتظام نہیں جس سے وقف بورڈ کو مضبوط اور بہتر بنانے میں مدد مل سکے:سید سعادت اللہ حسینی
نئی دہلی، پارلیمنٹ میں حالیہ دنوں میں پاس کئے گئے وقف ترمیمی قانون مسلمانوں بنانے والا قانون قرار دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نےکہا کہ اس قانون میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے جس سے وقف بورڈ کو مضبوط اور بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جماعت اسلامی کے میڈیا ہال میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دعوی کررہی ہے کہ اس نے وقف بورڈ کو بہتر بنانے کے لئے قانون میں ترمیم کی ہے لیکن کس طرح موجودہ قانون سے وقف بورڈ بہتر انداز میں کام کرے گا یہ بتانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے اس قانون کو مسلمانوں کو نشانہ بناکر ان کے حقوق سلب کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون آئین کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک بدعنوانی کا معاملہ ہے تو ہر جگہ بدعنوانی ہے تو ہر شعبے کو کلکٹر کے حوالے کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سزا کم کرنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ سخت سزا دینے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانوں کی شقیں وقف بورڈ کو کمزور کرنے والی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اسے اقلیتی حقوق کے لیے ایک سیاہ باب کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ قانون ملک میں مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔ مرکزی حکومت نے وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرکے اس قانون کو تیار کیا ہے جس سے وقف املاک کے انتظام میں حکومتی مداخلت کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ یہ ایکٹ آئین کے آرٹیکل 14، 25، 26 اور 29 کے خلاف ہے۔ اس بل پر بحث کے دوران پارلیمنٹ میں برسراقتدار پارٹی کی طرف سے کئی گمراہ کن دلائل پیش کیے گئے، کہا گیا کہ وقف بورڈ چیریٹی کمشنر کی طرح ہے جبکہ یہ دعویٰ قطعی غلط ہے۔ اس کی نوعیت کسی چیریٹی کمشنر کی طرح نہیں ہے۔ متعدد ریاستوں میں ہندو اور سکھ اوقاف کے لیے خصوصی قوانین موجود ہیں جس میں ان اوقاف کی دیکھ ریکھ کرنے اور انتظامات سنبھالنے کا مکمل اختیار متعلقہ مذہبی طبقات کے افراد کو حاصل ہے۔ حکومت نے وقف املاک میں بد انتظامی اور قانونی تنازعات کو اس ترمیم کی اصل وجہ بتایا ہے۔ مگر ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس رہنمائی نہیں کی ۔ اس کے بجائے غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے اور حکومت کے نامزد افسران کو اختیارات منتقل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سرکاری حکام اور افسروں کی مداخلت سے بدعنوانی اور بد انتظامی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قانون کو مسلم اداروں کو کمزور کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔
امیر جماعت نے کہا کہ ’’ یہ بل پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت سے پاس ہوا۔ اس کےحق میں 288 ووٹ پڑے جبکہ خلاف میں 232 ووٹ تھے۔ اور راجیہ سبھا میں حمایت میں صرف 128 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 95 ووٹ ڈالے گئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برسراقتدار پارٹی کے پاس لوک سبھا میں ایک بھی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں جو اس بل کے حق میں بول سکتا۔ تاہم اپوزیشن اور دیگر اراکین نے اس کی کھل کر مخالفت کی ۔ ہم اس تفریق پر مبنی قانون کی مخالفت کرنے والی سیاسی پارٹیوں اور ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج میں اپنی مکمل حمایت جاری رکھیں گے اور اس غیر منصفانہ قانون کو ختم کرنے کےلئے تمام قانونی اور جمہوری طریقے اختیار کریں گے۔ جہاں تک سیکولرزم کا دعویٰ کرنے والی پارٹیاں جنہوں نے اس قانون کی حمایت کی ہے، کا سوال ہے، تو ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اس سیاسی موقع پرستی اور دھوکہ دہی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں دوبارہ اقتدار کے لیے منتخب نہ کیے جائیں۔
غزہ کی موجودہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے مسٹر سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ’’ ہم غزہ بالخصوص ’ رفح‘ میں اسرائیلی فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، وہاں محفوظ علاقوں ’’ سیف زون‘ میں خیموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری شہید ہورہے ہیں۔ اسرائیل نے رمضان کے مقدس مہینے میں سحری کے وقت بار بار شہریوں کو نشانہ بنایا ۔ اس نے غزہ کے ایک اسکول پر بھی بمباری کی جہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ اسرائیل بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی غزہ میں قحط کے باعث خوراک ، پانی اور طبی سامان کی شدید قلت کی اطلاع دی جا رہی ہے۔
اس کے باوجود غذائی اجناس کو عوام تک پہنچنے میں اسرائیلی حکومت رخنہ ڈال رہی ہے۔ غزہ میں انسانی تباہی کا یہ عالم ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک 50 ہزار سے زیادہ لوگ شہید اور وہاں کی 7 فیصد آبادی ہلاک یا زخمی ہوچکی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کا مجرم ہے جس کے لیے اسے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔ مگر مغربی ممالک ، امریکہ کی قیادت میں اسرائیل کو جوابدہی سے بچانے کی پوری کوشش کررہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغرب کا انسانی حقوق کی وکالت کرنا محض ایک ڈھونگ ہے۔ آج فلسطین کے لوگ استعماری طاقتوں کے سامنے اپنی بقا، وقار اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند غزہ میں شہری ہلاکتوں پر ہندوستانی وزارت خارجہ کے اظہار تشویش کا خیر مقدم کرتی ہے اور بعض سیاسی رہنماؤں کے فلسطین نواز بیانات کو سراہتی ہے۔ ہم حکومت ہند سے پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی حکومت کو تشدد سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدام کرے اور جنگ بندی کے نفاذ کو یقینی بنانے میں مثبت اور مضبوط رول ادا کرے۔” اس پریس کانفرنس میں نائب امرائے جماعت پروفیسر سلیم انجینئر اور ملک معتصم خان نے بھی صحافیوں سے گفتگو کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
