ہندوستان
کل جماعتی میٹنگ میں حکومت کو غیر مشروط مکمل حمایت ملی
نئی دہلی، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے منگل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے گھناؤنے اور وحشیانہ دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اور مجرموں کو سزا دینے کے لیے کسی بھی کارروائی کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
پارلیمنٹ لائبریری بلڈنگ میں شام کو دو گھنٹے کی میٹنگ کی صدارت لوک سبھا میں ایوان کے ڈپٹی لیڈر اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کی۔ جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو، بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر اور صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر جگت پرکاش نڈا، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، تیلگو دیشم پارٹی کے لاو سری کرشنا، شیو سینا کے شری کانت شندے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی سپریا سولے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے پرفل پٹیل، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی، بیجو جنتا دل کے سسمیت پاترا،راشٹریہ جنتا دل کے پریم چند گپتا، عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ، دراوڑ منیترا کزگم کے تروچی سیوا، ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے اور سماج وادی پارٹی کے پروفیسر۔ رام گوپال یادو شامل ہوئے۔
کل جماعتی میٹنگ کے بعد، مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا، “میٹنگ بہت اچھی رہی اور درحقیقت، تمام سیاسی رہنماؤں نے اتفاق رائے سے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی امور (سی سی ایس) کی طرف سے پاکستان کے حوالے سے کی گئی کارروائی کی حمایت کی۔
حکومت نے میٹنگ میں واضح کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور حکومت کی ہمارے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس رہے گی۔ تمام لیڈروں نے حکومتی کی طرف سے کئے جارہے تمام کاموں اور مستقبل میں کئے جانے والے تمام کاموں کے لئے حکومت کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔”
مسٹر رجیجو نے کہا، “وزیر دفاع نے پہلگام کے واقعہ اور سی سی ایس میٹنگ میں حکومت ہند کی طرف سے کی گئی کارروائی کے بارے میں آگاہ کیا۔ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں ہر کوئی پریشان ہے، اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، حکومت ہند نے بھی آج مزید سخت کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔”
مسٹر رجیجو نے کہا، “سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑنا چاہئے۔ ہندوستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور کرتا رہے گا۔ حکومت کی طرف سے کل جماعتی میٹنگ میں اس پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وزارت داخلہ کے عہدیداروں نے اس واقعہ کے بارے میں معلومات فراہم کیں، واقعہ کیسے ہوا اور کہاں کہاں چوک ہوئی۔ تمام جماعتوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے یہ پیغام دیا ہے اور تمام جماعتوں کے لیڈران نے ایک آواز میں کہا ہے کہ حکومت جو بھی قدم اٹھائے گی، ہم اس کی حمایت کریں گے۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے نامہ نگاروں کو بتایا، “وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے میٹنگ کی صدارت کی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی وہاں تھے۔ تمام جماعتوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ ہم نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن برقرار رکھنے کے لیے تمام کوششیں کی جانی چاہئیں۔”
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ “سب نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ اپوزیشن نے کسی بھی کارروائی میں حکومت کی مکمل حمایت کی ہے۔”
عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ نے کہا، “پورا ملک غصے میں ہے، غمزدہ ہے اور ملک چاہتا ہے کہ مرکزی حکومت دہشت گردوں کو ان کی زبان میں منہ توڑ جواب دے، جس طرح انہوں نے بے گناہ لوگوں کو مارا ہے، ان کے کیمپوں کو تباہ کیا جائے اور پاکستان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ یہ واقعہ 22 اپریل کو ہوا تھا، اس جگہ کو سیکورٹی ایجنسیوں کی معلومات فراہم کئے بغیر 20 اپریل کو کھولا گیاتھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ جوابدہی طے کرنے کی ضرورت ہے اورکارروائی کی جانی چاہیے کہ سیکورٹی میں کوتاہی کیوں ہوئی
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سدیپ بندوپادھیائے نے کہا، “سیکیورٹی لیپس پر بات ہوئی، ہم نے حکومت کو یقین دلایا کہ وہ ملک کے مفاد میں جو بھی فیصلہ کرے گی تمام سیاسی پارٹیاں اس کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔”
بی جے ڈی ایم پی سسمیت پاترا نے کہا، “بی جے ڈی نے اس آل پارٹی میٹنگ میں اپنے خیالات کی نمائندگی کی۔ ہم حکومت سے اس بہیمانہ حملے کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ بیجو جنتا پارٹی نے ملک کی قومی سلامتی سے متعلق تمام کوششوں میں حکومت کے ساتھ اپنے مکمل تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا۔۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا، “مرکزی حکومت اس ملک کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے جو دہشت گرد گروپوں کو پناہ دیتا ہے۔ بین الاقوامی قانون بھی ہمیں اپنے دفاع میں پاکستان کے خلاف فضائی اور بحری ناکہ بندی کرنے اور ہتھیاروں کی فروخت پر پاکستان پرپابندی لگانے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ بیسرن گھاس کے میدان میں سی آر پی ایف کو کیوں تعینات نہیں کیا گیا؟ فوری ردعمل کی ٹیم کو وہاں پہنچنے میں کیوں ایک گھنٹہ لگا اور انہوں نے لوگوں کو ان کا مذہب پوچھ کر گولی مار دی۔”
مسٹر اویسی نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں اور کشمیری طلباء کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے جس طرح لوگوں سے ان کا مذہب پوچھ کر قتل کیا میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ سندھ طاس معاہدہ معطل ہوا لیکن ہم پانی کہاں رکھیں گے ہم مرکزی حکومت کے فیصلے کی حمایت کریں گے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے۔
سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو نے بھی حکومت کے کسی بھی اقدام کی حمایت کا اعلان کیا اور سوشل میڈیا پر تفرقہ انگیز پیغامات اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف پروپیگنڈے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
