جموں و کشمیر
مختلف ریاستوں میں بغرض تعلیم،تجارت اور ملازمت مقیم کشمیریوں کی ہراسانیوں کے واقعات
وادی بھرمیں تشویش کی لہر،والدین اوررشتہ دارفکرمند
ریذیڈنٹ کمیشن نئی دہلی میں ہیلپ لائن قائم ،فوری مدداورتعاون کیلئے رابطہ نمبرات بھی جاری
سری نگر: جے کے این ایس : جموں وکشمیر سے باہر بغرض تعلیم ،تجارت اور ملازمت کشمیری نوجوانوں پر ہورہے مبینہ حملوں ،ہراسانی اوردھمکیوں کے واقعات سے کشمیر وادی میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ بیرون ریاستوںمیں مقیم کشمیری طلباءوطالبات اور دیگر افراد کے والدین اور رشتہ دار اپنے عزیزوںکی سلامتی کو لیکر سخت فکر مندہوگئے ہیں۔اس دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ایسے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے مختلف متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کیساتھ رابطہ کرکے اُنھیں کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل کی ۔اس دوران جموں و کشمیر حکومت نئی دہلی نے ملک بھر میں زیر تعلیم جموں و کشمیر کے طلبہ کیلئے ریذیڈنٹ کمیشن نئی دہلی میں ہیلپ لائن قائم کی ہے ،اور رابطہ نمبرات بھی جاری کئے ہیں ،جن پرکشمیری طلبہ اوردیگر لوگ مدد اور تعاون رابطہ کرسکتے ہیں۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق پہلگام دہشت گردانہ حملے میں 25سیاحوںکی ہلاکت اوردیگرکئی سیاحوںکے زخمی ہوجانے کے بعد ملک بھرمیں پھیلی غم وغصے کی لہر کے بعد مختلف ریاستوںمیں شدت پسند ہندﺅ تنظیموں سے وابستہ کارکنوںنے کشمیری طلبہ اوردیگرافراد کی ہراسانی شروع کردی ۔سوشل میڈیا پر شیئرکی گئی تصاویر میں دیکھاجاسکتا ہے کہ ملک کی کئی ریاستوںمیں زیرتعلیم کشمیری طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ،اُنھیں دھمکیاں دی جارہی ہیں اور اُنھیں ہوسٹل اور کرایہ کمرے خالی کرکے واپس کشمیر جانے کوکہا جارہاہے ۔ایسے کچھ واقعات کی اطلاعات ہریانہ ،چندی گڑھ اور دیگر کچھ ریاستوں کیساتھ ساتھ جموں سے بھی مل رہی ہیں ،جہاں کشمیریوںکو ماراپیٹاگیا ،ہراساں اور خوفزدہ کیاگیا اور اُنھیں دھمکیاں بھی دی گئیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سرینگر سے تعلق رکھنے والی خاتون حلیمہ کا 20سالہ فرزند، زبیر، چندی گڑھ کی ایک یونیورسٹی میں انجینئرنگ کا طالب علم ہے۔ حلیمہ کا کہنا ہے کہ ان انہوں نے آج صبح اپنے فرزند سے فون پر بات کی جس نے ان سے کہاکہ کالج ہاسٹل میں کچھ کشمیری طلبہ پر حملہ ہوا ہے، اور اب ہاسٹل خالی کرنے کو کہا جا رہا ہے۔حلیمہ کا کہنا ہے کہ میں وزیر داخلہ امیت شاہ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کرتی ہوں کہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔زبیر، ا ±ن درجنوں کشمیری طلبہ میں شامل ہے جنہیں پہلگام حملے کے بعد مختلف ریاستوں میں ہراسانی، دھمکیوں، حملوں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے کہ پہلگام حملے میں26 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد جہاں کشمیر بھر میں احتجاج کیا گیا وہیں بیروں ریاستوں میں کشمیری طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ناصر کھوہامی کے مطابق منگل کی رات سے مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ پر غصے اور تشدد کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چنڈی گڑھ کے ڈیرا بسی نامی علاقے کے ہاسٹل میں مقیم کشمیری طلبہ پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، ایک طالب علم شدید زخمی ہوا اور پولیس تاخیر سے پہنچی۔ یہ روداد کشمیری طلبہ نے دیر رات گئے ایک ویڈیو میں بیان کی جس کو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی شیئر کیا۔ شمالی ہندوستان کے کئی شہروں سے اسی طرح کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ وائرل ویڈیوز میں کشمیری طلبہ ان پر ڈھائے جا رہے ظلم کی داستان بیان کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ہماچل پردیش کے کنگرہ میں کشمیری طلبہ کو ’دہشت گرد‘ کہہ کر ان کے کمروں کے دروازے توڑے گئے۔ اترکھنڈ میں’ہندو رکشا دل‘ نے کشمیری مسلم طلبہ کو صبح 10 بجے تک ریاست چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ اتر پردیش سے بھی ایسی ہی اطلاعات ہیں کہ کشمیری کرایہ داروں کو نکالنے کو کہا جا رہا ہے۔ادھرکشمیری طلبہ اور دیگر لوگوں پر بڑھتے حملوں سے پریشان والدین اور بیرون ریاستوںمیں بغرض تعلیم ،تجارت اور ملازمت کشمیری نوجوانوں اور دیگرافراد کے والدین اوررشتہ داروںنے جموں وکشمیرکی حکومت پر زوردیاہے کہ وہ مختلف ریاستوںمیں مقیم کشمیریوںکی حفاطت اور تھفظ کو یقینی بنانے کیلئے فی الوقت اُ ن کی بحفاظت واپسی کیلئے فوری اقدامات اُٹھائے ۔ایسے واقعات منظرعام پرآنے کے بعد ریزیڈنٹ کمیشن، جموں و کشمیر حکومت نئی دہلی نے ملک بھر میں زیر تعلیم جموں و کشمیر کے طلبہ اوردیگرافرادکیلئے ایک ہیلپ لائن قائم کی ہے۔ریذیڈنٹ کمیشن نئی دہلی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلباء، جو مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم ہیں، کسی بھی مد یاتعاون کیلئے جموں و کشمیر ریذیڈنٹ کمیشن، نئی دہلی کے درج ذیل ٹیلی فون نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ ہیلو جے کے موبائل نمبر:7303620090،منیجر جے کے ہاو
س، چانکیہ پوری:9682389265، منیجر جے کے ہاو ¿س، 5پرتھویراج روڈ:9419158581، ریذیڈنٹ کمیشن جے اینڈ کے حکومت، نئی دہلی:01124611108، 01124611157 ،01126112021 اور01126112022۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ نمبرات کسی بھی قسم کی مدد کے لیے 24/7یعنی چوبیسوں گھنٹے فعال رہیں گے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
