جموں و کشمیر
پہلگام سانحہ :جموں وکشمیرکی اسمبلی میں مذمتی اورتعزیتی قراردادبااتفاق رائے منظور،ایوان میں2منٹ کی خاموشی
امن اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کا عہد
وحشیانہ حملے کی مذمت ، صدمے اورغم وغصے کااظہار،مہلوکین کوخراج عقیدت پیش، مذموم عزائم کو شکست دینے کاعزم
بیرون ریاستوں میں کشمیری طلبہ اوردیگرشہریوں کی ہراسانی کے واقعات کوروکنے کیلئے تمام ضروری اقدامات پرزور
سری نگر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں پہلگام میں وحشیانہ دہشت گردانہ حملے پر صدمے اور غم کا اظہار کیا گیا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے اور ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے مذموم عزائم کو شکست دینے کےلئے عزم کےساتھ لڑنے کا عزم کیا۔یہ قرارداد نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دوران پیش کی جس کا آغاز ارکان نے گزشتہ ہفتے پہلگام سانحہ میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے2 منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے ساتھ کیا۔جے کے این ایس کے مطابق لیفٹنٹ گورنرکی جانب سے طلب کردہ جموں وکشمیر اسمبلی کاخصوصی اجلاس پیرکی صبح ساڑھے 10بجے اسمبلی کمپلیکس جموںمیں شروع ہوا۔جیسے ہی ایوان میںخصوصی اجلاس شروع ہوا، اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے معصوم سیاحوں کے قتل کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان خاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ اسپیکر نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے پہلگام حملے کیخلاف قراردادایوان میں پیش کی ۔قرارداد میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اپنے تمام شہریوں کے لیے امن، ترقی اور جامع خوشحالی کے ماحول کو فروغ دینے اور قوم اور جموں و کشمیر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ترقی کو متاثر کرنے والوں کے مذموم عزائم کو پوری طرح ناکام بنانے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے۔نائب وزیر اعلیٰ نے قراردادکامتن پڑھتے ہوئے کہاکہیہ ایوان22 اپریل کو پہلگام میں معصوم شہریوں پر کیے گئے وحشیانہ اور غیر انسانی حملے پر اپنے گہرے صدمے اور غم کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان واضح طور پر اس گھناو نے، بزدلانہ فعل کی مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نائب وزیراعلیٰ نے شہید عادل حسین کےساتھ بھی اظہار یکجہتی کیا جو سیاحوں کو بچاتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ قراردادمیں پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے، سریندرچودھری نے کہاکہ اس طرح کی دہشت گردی کی کارروائیاں کشمیریت کی اخلاقیات، ہمارے آئین میں درج اقدار، اور اتحاد، امن اور ہم آہنگی کے جذبے پر براہ راست حملہ ہیں جو جموں و کشمیر اور ہماری قوم کی ایک طویل خصوصیت ہے۔قراردادمیں کہا گیا کہ یہ ایوان متاثرین اور ان کے اہل خانہ کےساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے کہاکہ ہم ان لوگوں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور ان کے غم میں شریک ہونے اور ان کی ضرورت کی گھڑی میں ان کی مدد کرنے کے اپنے اجتماعی عزم کی تصدیق کرتے ہیں۔قرارداد میں پونی رائیڈ آپریٹر سید عادل حسین شاہ کی عظیم قربانی کا ذکر کیا گیا جس نے سیاحوں کو دہشت گردی کے حملے سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی ہمت اور بے لوثی کشمیر کی حقیقی روح کی عکاسی کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار تحریک کا کام کرے گی۔ قراردادمیں کہاگیاکہ یہ ایوان کشمیر اور جموں کے لوگوں کے حملے کے بعد اتحاد، ہمدردی اور لچک کے غیر معمولی مظاہرے کی ستائش کرتا ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ قصبوں اور دیہاتوں میں پرامن مظاہرے، اور سیاحوں کے لیے اخلاقی اور مادی حمایت کا بے ساختہ اظہار، امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قانون کی حکمرانی کے لیے لوگوں کی ثابت قدمی کی تصدیق کرتا ہے۔قراردادمیں مزید کہاگیاکہ یہ ایوان اس حملے کے متاثرین کو چن چن کر نشانہ بنانے کے پیچھے مذموم عزائم کو ذہن میں رکھتا ہے۔ یہ معاشرے کے تمام طبقوں اور خاص طور پر میڈیا سے اپیل کرتا ہے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ طور پر جذبات کو ہوا دے کر اس مذموم سازش کا شکار نہ ہوں۔قراردادمیں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کشمیری طلباءاور وہاں مقیم یا سفر کرنے والے شہریوں کی حفاظت، وقار اور بہبود کو یقینی بنائیں اور ان کو ہراساں کرنے، امتیازی سلوک یا دھمکیوں کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی اور کمیونٹی رہنماو ¿ں، نوجوانوں کی تنظیموں، سول سوسائٹی کے گروپوں اور ملک بھر کے میڈیا ہاو ¿سز سے پرامن رہنے، تشدد اور تفرقہ انگیز بیان بازی کو مسترد کرنے اور امن، اتحاد اور آئینی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔بعداذاں ایوان میں قرارداد بااتفاق رائے منظور کی گئی ۔
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
