جموں و کشمیر
مشکل ترین وقت میں عوام نے کشمیریت اورمہمان نوازی کی شمع کو فروزاں رکھا:وزیراعلیٰ عمرعبداللہ
صرف بندوق یاسیکورٹی فورسزکی وجہ سے نہیں بلکہ عوامی تعاون سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن
ریاستی درجہ کیلئے سیاست کایہ صحیح وقت نہیں
سری نگر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف عوام کی جنگ کو مضبوط بنائے گی کیونکہ اسے عوام کے تعاون سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔تاہم عمرعبداللہ نے خبردار کیا کہ حکومت کو کسی بھی ایسے قدم سے گریز کرنا چاہیے جس سے عوام کو الگ کر دیا جائے۔جے کے این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کےلئے اسمبلی کے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر بحث سمیٹتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی تب ختم ہو جائے گی جب لوگ ہمارے ساتھ ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کےخلاف لوگوں کے غم و غصے کو دیکھتے ہوئے، یہ اس کے خاتمے کا آغاز ہے اگر ہم مناسب اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے لوگوں کو الگ کر دیا جائے۔جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ ہم بندوق سے دہشت گرد کو قابو نہیں کر سکتے لیکن اگر لوگ ہمارے ساتھ ہوں تو ہم دہشت گردی کو ختم کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے۔جموں و کشمیر میں بے مثال اور بے ساختہ مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سری نگر کی جامع مسجد میں پہلی بار نماز جمعہ سے قبل دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ ہم اس کا مطلب سمجھ سکتے ہیں۔ ہم اس تبدیلی کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔عمر عبداللہ نے جموں کشمیر اسمبلی میں پہلگام حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ہلاک شدہ سیاحوں کے اہل خانہ کےساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مقامی گھوڑے بان سید عادل حسین شاہ کی بہادری کی تعریف کی وہیں انہوں نے کہا کہ یہ وقت سیاست کرنے یا مرکزی حکومت سے ریاستی درجہ کی بحالی کےلئے زور دینے کا مناسب وقت نہیں نہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ وقت سیاست کرنے یا حکومت ہند سے ریاستی درجہ مانگنے کا نہیں ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ایسے وقت میں اگر میں ریاستی درجہ مانگوں تو یہ میرے لئے بددعا ہوگی۔انہوںنے کہاکہ ریاستی درجہ مانگنے کے اور بھی مواقع آئیں گے، لیکن یہ وقت صرف دہشت گردی کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا ہے۔
عمر عبداللہ نے اسمبلی اراکین کو میزیں بجانے سے بھی منع کیا۔عمرعبداللہ نے کہاکہ36 سالوں میں پہلی بار میں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا،میرے نام پر نہیں، وہ اپنے طور پر نکلے، کسی سیاسی جماعت نے انہیں منظم نہیں کیا، کسی حکومتی حکم نے انہیں طلب نہیں کیا، وہ موم بتیاں جلائے، بینرز اٹھائے اور مجرموں کو یہ بتانے کے لیے سڑکوں پر خاموشی سے چلتے رہے۔وزیراعلیٰ نے حملے کی رات پولیس کنٹرول روم کا دورہ کرنے کا ذکر کیا، جہاں26 شہریوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس غمزدہ خاندانوں کو پیش کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ عمرعبداللہ نے مختصر توقف کرتے ہوئے پوچھاکہ ان خاندانوں کا کیا قصور تھا؟،کہ وہ یہاں پہلی بار سکون پانے کے لیے آئے تھے؟ اور زندگی نے انھیں اتنی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
عمرعبداللہ نے گزشتہ3 دہائیوں کے دوران کشمیر کی بھاری قیمت کے بارے میں بات کی۔انہوںنے کہاکہ اکتوبر2001 میں اسی اسمبلی کمپلیکس پر ہونے والے حملے میں ہم نے لوگوں کو کھو دیا تھا۔ کیمپوں پر حملے کئے گئے تھے۔ پنڈتوں کی بستیوں، سکھ کالونیوں میں ، کسی کو بھی نہیں بخشا گیا تھا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے سوچا کہ وہ دن اب ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن 22 اپریل کے حملے نے ڈراو ¿نا خواب دوبارہ بنا دیا۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ خونریزی کے درمیان بھی امید کی کرن نظر آئی،پہلی بار، کشمیریوں نے معقولیت، جواز یا خاموشی اختیار نہیں کی، انہوں نے بلند آواز اور واضح الفاظ میں مذمت کی۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی صرف بندوقوں یا سیکورٹی فورسز کی وجہ سے ختم نہیں ہوگی، یہ تب ہی ختم ہوگی جب لوگ ہمارے ساتھ چلیں گے اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے پاس آنا شروع ہو گئے ہیں۔عمرعبداللہ نے بتایا کہ شاید سب سے زیادہ علامتی لمحہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد سے آیا تھا۔ نماز جمعہ سے پہلے، مسجد، ایک ایسی جگہ جو اکثر شعلہ بیان سیاسی خطبوں سے منسلک ہوتی ہے، خاموش ہوگئی۔ نمازیوں نے متاثرین کی یاد میں 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی۔انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ مکمل ریاست کےلئے جدوجہد جاری رہے گی لیکن اس بات پر زور دیا کہ آج کا دن سیاسی مطالبات کا دن نہیں ہے۔ آج، کوئی سیاست نہیں، کوئی کاروباری اصول نہیں، ریاست کا کوئی مطالبہ نہیں، صرف ایک چیز: حملے کی دلی مذمت اور خاندانوں کےساتھ اظہار یکجہتی۔وزیراعلیٰ نے حملے کے دن سے بہادری اور انسانیت کی غیر معمولی داستانیں سنائیں۔ایک نوجوان لڑکے نے ایک سیاح خاندان کو آگ کی زد میں چھوڑنے سے انکار کر دیا، باپ سے کہاکہ اس سے پہلے کہ کوئی آپ کی بیوی اور بچے تک پہنچ جائے، وہ میرے پاس سے گزر جائیں۔ ڈل جھیل میں کشتی والوں نے سیاحوں کو مفت پھل پیش کیے، ٹیکسی ڈرائیوروں اور ہوٹل مالکان نے تشدد سے بھاگنے والے زائرین کے لیے اپنے گھر کھول دئیے، کسی بھی قسم کی ادائیگی سے انکار کیا۔ یہ کشمیرکی مہمان نوازی ہے، یہ ہمارے جذبے پر فخر ہے۔
انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حملے کے فوری بعد کچھ کشمیریوں کو ملک کے کچھ حصوں میں ہراساں کرنے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ریاستی حکومتوں اور پولیس فورسز کی تعریف کی جنہوں نے کشیدگی کو روکنے کےلئے تیزی سے کام کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے اہم شہروں میں وقف ہیلپ لائن نمبر اور نوڈل افسران قائم کرنے کے اقدامات شروع کیے ہیں تاکہ خطرات کا سامنا کرنے والے کشمیری فوری مدد حاصل کر سکیں۔انہوں نے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں کو بھی متنبہ کیا کہ وہ غلط بیانی اور جعلی خبریں پھیلائیں جو کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اپنی شرارتیں بند کرو۔انہوںنے کہاکہ جب آپ جھوٹ پھیلاتے ہیں، تو آپ حقیقی متاثرین کو مزید تکلیف پہنچاتے ہیں، ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
