جموں و کشمیر
دہشت گردی کوئی درپردہ جنگ نہیں ہے بلکہ پاکستان کی منظم جنگی حکمت عملی کا حصہ
پڑوسی ملک باربارکی شکست کو کبھی نہیں بھولے گا
ہم کسی کےساتھ دشمنی نہیں چاہتے،ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں:وزیر اعظم نریندر مودی
سری نگر :جے کے این ایس : وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ پاکستان کی طرف سے مشق کی جانے والی دہشت گردی پراکسی جنگ نہیں ہے بلکہ جان بوجھ کر ایک جنگی حکمت عملی ہے اور ہندوستان اس کے مطابق جواب دے گا۔امن کے تئیں ہندوستان کے عزم کو دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کسی کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتے۔ ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارا مقصد ترقی کرنا ہے تاکہ ہم دنیا کی بہتری میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور اس کےلئے ہم تمام ہندوستانیوں کے لئے لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزیراعظم مودی نے گجرات حکومت کے شہری ترقیاتی پروگرام میں آپریشن سندور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے ذریعے جنگ میں ملوث ہے۔گاندھی نگر کے مہاتما مندر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہم اسے پراکسی وار نہیں کہہ سکتے کیونکہ 6 مئی کی رات (پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپوں پر ہندوستانی حملوں میں) مارے جانے والوں کو پاکستان میں سرکاری اعزازات سے نوازا گیا، ان کے تابوتوں پر پاکستانی پرچم لپیٹے گئے، اور ان کی فوج نے انہیں سلامی دی۔انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردانہ سرگرمیاں صرف پراکسی وار نہیں ہیں بلکہ ان کی طرف سے ایک دانستہ جنگی حکمت عملی ہے۔وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ اگر وہ جنگ میں ملوث ہوتے ہیں تو جواب اسی کے مطابق دیا جائے گا۔مودی نے کہا کہ جب بھی ہندوستان اور پاکستان کی جنگ ہوئی، ہندوستانی مسلح افواج نے پاکستان کو اس طرح شکست دی کہ پڑوسی ملک کبھی نہیں بھولے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ وہ بھارت کے خلاف براہ راست جنگ کبھی نہیں جیت سکتے،پاکستان نے درپردہ جنگ کا رخ کیا، اس کے بجائے دہشت گردوں کو فوجی تربیت اور مدد فراہم کی۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جسم چاہے کتنا ہی مضبوط یا صحت مند کیوں نہ ہو، ایک کانٹا بھی مسلسل درد کا باعث بن سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کانٹے کو ہٹانا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ تقسیم کے دوران ماں بھارتی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور اسی رات مجاہدین نے کشمیر پر پہلا دہشت گرد حملہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر پاکستان نے دہشت گردوں کی مدد سے ماں بھارتی کے ایک حصے پر مجاہدین کے نام پر قبضہ کر لیا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر ان مجاہدین کو اس دن مار دیا جاتا اور سردار پٹیل کی نصیحت کو مان لیا جاتا تو (دہشت گردانہ حملوں کا) یہ سلسلہ جو گزشتہ 75 سالوں سے جاری ہے، نظر نہ آتا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستانی سرزمین پر حالیہ دہشت گردانہ حملوں کو اب محض ایک پراکسی جنگ کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے پاکستان کی ریاستی سرپرستی، جان بوجھ کر اور منظم جنگی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس حقیقت کا حوالہ دیا کہ امریکہ کی طرف سے نامزد کچھ دہشت گردوں کی پاکستان میں سرکاری تدفین اور فوجی سلامی دی گئی اور اسے پڑوسی ملک کے براہ راست ملوث ہونے کا واضح اشارہ قرار دیا۔گاندھی نگر کے مہاتما مندر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں انہوں نے گجرات کی شہری ترقی کی کہانی کے 20 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر 5536 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔انہوںنے کہاکہ 1947میں جب ماں بھارتی تقسیم ہوئی تو بیڑیاں توڑ دی جانی چاہیے تھیں لیکن اس کے بجائے ملک کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور اسی رات کشمیر میں پہلا دہشت گرد حملہ ہوا، ماں بھارتی کا ایک حصہ پاکستان نے دہشت گردی کے نام پر غیر قانونی طور پر چھین لیا، کاش اسی دن دہشت گردوں کا خاتمہ ہو جاتا۔کئی دہائیوں پر محیط تنازعات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ خون کا مزہ چکھنے والے یہ دہشت گرد گزشتہ 75 سال سے یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، پہلگام اس کی سفاکانہ مثال ہے، ہم نے75 سال تک اسے برداشت کیا، جب بھی ہم پاکستان کے ساتھ جنگ میں گئے، تینوں بار ہندوستانی مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا اور ہمسایہ ملک نے سمجھ لیا کہ وہ ہندوستان کو شکست نہیں دے سکتا اور پھر وہ جنگ جیتنے میں ناکام رہا۔ وزیر اعظم نے امن کے ہندوستان کے تہذیبی اخلاق کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ہمیشہ واسدھائیو کٹمبکم کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے صدیوں سے اس کےساتھ زندگی گزاری ہے، پوری دنیا کو اپنا خاندان سمجھ کر۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم اپنے پڑوسیوں کے لیے بھی امن چاہتے ہیں۔
امن سے رہیں اور دوسروں کو بھی سکون سے رہنے دیں۔وزیراعظم نے پاکستان پر خون کی ندیاں بہانے کا الزام لگایا جبکہ بھارت نے ترقی پر توجہ دی۔انہوںنے کہاکہ ہم کام میں مصروف تھے، ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہے تھے، سب کی فلاح و بہبود کے لیے وقف تھے۔ لیکن بدلے میں خون کی ندیاں بہائی گئیں۔1960کے سندھ آبی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ ماضی میں ہندوستان کے مفادات سے کس طرح سمجھوتہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نئی نسل کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس ملک کو کس طرح تباہ کیا گیا، اگر آپ سندھ طاس معاہدے کا تفصیل سے مطالعہ کریں گے تو آپ چونک جائیں گے، یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے دریاو ں پر بنائے گئے ڈیموں کو صاف نہیں کیا جائے گا، ڈی سلٹنگ ممنوع تھی، نیچے کے دروازے جو کہ تلچھٹ کو صاف کرنے کے لیے تھے، بند رہنے تھے۔انہوںنے کہاکہ چھ دہائیوں سے، وہ دروازے کبھی نہیں کھولے گئے۔ جن آبی ذخائر کو 100 فیصد بھرنے کی ضرورت تھی وہ اب صرف 2 سے3 فیصد رہ گئے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ کیا میرے ہم وطنوں کو ان کے پانی کا حق نہیں ہے؟ کیا انہیں ان کا جائز حصہ نہیں ملنا چاہئے؟ ہم نے کچھ سخت نہیں کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے صرف دوسرے کے ساتھ سلوک کیا ہے اور ہم نے صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ دروازے کو تھوڑا سا کھولا اور صفائی کا عمل شروع کر دیا یہاں تک کہ ان کے اطراف میں سیلاب آ گیا۔امن کے تئیں ہندوستان کے عزم کو دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ہم کسی کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتے۔ ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں۔
ہمارا مقصد ترقی کرنا ہے تاکہ ہم دنیا کی بہتری میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ اور اس کے لیے ہم تمام ہندوستانیوں کے لیے لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
