جموں و کشمیر
سیاحتی مقامات کا سیکورٹی آڈٹ کر کے آہستہ آہستہ انہیں کھولنا شروع کر دیں گے: وزیر اعلی
سیاحت تنازعات سے پاک سرگرمی ہونی چاہیے
حکومت کی مشترکہ کوششیں عوامی خوف کو نمایاں طور پر دُور کرنے میں کامیاب ہونگی: عمر عبداللہ
حکومت دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی،عوام کا عزم قابل ستائش
پہلگام :جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے منگل کو پہلگام میں کابینہ کی خصوصی میٹنگ کے بعد یہ واضح پیغام دیاکہ سیاحت کو تنازعات سے پاک ہونا چاہئے اور معمول کے حالات کو پیش کرنے کا بیرومیٹریابادپیما نہیں ہونا چاہئے۔
انہوںنے کہا کہ حکومت دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی ۔جے کے این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے پہلگام میں 22 اپریل کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس کا آغاز دہشت گردی کے تشدد کی غیر واضح طور پر مذمت کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ میں کشمیر کے لوگوں خاص طور پر پہلگام کے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے22 اپریل کو سیاحوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی اور ایک آواز میں کھڑے ہوئے۔
اس کے لیے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور انہیں سلام کرتا ہوں۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ اور مرکز خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے سیاحت کے شعبے کو سپورٹ کرنے کےلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے گزشتہ ہفتے اسٹیک ہولڈرز کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تھی۔عمرعبداللہ نے کہاکہ میں حال ہی میں دہلی میں تھا جہاں نیتی آیوگ کی میٹنگ کے موقع پر مجھے وزیر اعظم سے ملنے کا موقع ملا۔ میں نے انہیں جموں و کشمیر میں سیاحت کی صنعت کی حالت کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور انہوں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے مرکزی سطح پر ہونے والی میٹنگ میں سیاحت کے احیاء کےلئے وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔منگل کو کابینہ کی خصوصی میٹنگ کے بعد، وزیر اعلیٰ کے دفتر نے پہلگام کلب میں ہونے والی میٹنگ کی تصویریں ایکس پر پوسٹ کیں۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہاکہ کابینہ نے یہاں میٹنگ کی اور حکومتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا لیکن کابینہ میں ہونے والی میٹنگ کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ لوگ دہشت گردانہ تشدد سے مرعوب نہیں ہوں گے اور جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے ہمارا عزم جاری رہے گا۔ایکس پر ایک پیغام میں، ان کے دفتر نے پوسٹ کیا کہ یہ صرف ایک معمول کی انتظامی مشق نہیں ہے، بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ ہم دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ امن کے دشمن کبھی بھی ہمارے عزم کو مسلط نہیں کریں گے۔
جموں و کشمیر مضبوط، مضبوط اور بے خوف کھڑا ہے۔عمرعبداللہ کی حکومت کے دور میں یہ پہلا موقع ہے جب کابینہ کی میٹنگ معمول کے گرمائی دارالحکومت سری نگر یا سرمائی دارالحکومت جموں سے باہر ہوئی۔جموں و کشمیر میں سیاحت کے احیاءاور دہشت گردانہ حملے کے بعد مختلف سیاحتی مقامات کی بندش سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا کہ حکومت ایک وقت میں ایک قدم اٹھا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ پانچ سے چھ ہفتے ملک کے لیے خاص طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مشکل وقت رہے ہیں۔ اس لیے میں تجویز کروں گا کہ ہم مختلف سیاحتی مقامات کا سیکورٹی آڈٹ کریں اور آہستہ آہستہ انہیں کھولنا شروع کر دیں ۔عمرعبداللہ نے کہاکہ کابینہ کی خصوصی میٹنگ کیلئے پہلگام کے انتخاب کا مقصد سیاحتی شہر کے مکینوں کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنا ہے، جہاں تباہ کن دہشت گردانہ حملے کے بعد سے سیاحوں کی تعداد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہاکہ سیاحت کو تنازعات سے پاک سرگرمی ہونی چاہیے اور اسے معمول پر لانے کا بیرومیٹریابادپیما نہیں ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ بہت سے دوسرے میکانزم ہیں جن کے ذریعے ہم امن کی پیمائش کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہاکہ میں ہمیشہ یہ دیکھنا چاہوں گا کہ سیاحت کو تنازعات سے دور رکھا جائے اور دنیا اسے ایک اقتصادی سرگرمی کے طور پر دیکھے ۔ایک سوال کے جواب میں کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے پاس بہت زیادہ قرضے تھے اور کیا حکومت انہیں کچھ ریلیف دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، انہوں نے کہاسیاحت کو نقصان پہنچا ہے اور چھوٹے یا بڑے تمام اسٹیک ہولڈرز کو کچھ ریلیف دینے کے لیے متعلقہ محکموں سے بات چیت جاری ہے۔ عہدیداروں نے زور دے کر کہا کہ اجتماع کی اہمیت ملک دشمن اور سماج دشمن عناصر کو اس کے براہ راست پیغام میں زیادہ مضمر ہے کہ جموں و کشمیر میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔کابینہ کی خصوصی میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ بھی عمرعبداللہ کی طرف سے پہلگام دہشت گردانہ حملے سے بری طرح متاثر جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبے کی بحالی کے لیے دوہری نقطہ نظر کی تجویز کے تین دن بعد آیا ہے، جس نے مرکز پر زور دیا کہ وہ PSUs کو کشمیر میں اجلاس منعقد کرنے اور وہاں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس بلانے کا حکم دے۔انہوں نے یہ اپیل وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کی میٹنگ میں کی تھی۔وزیراعلیٰ کا ماننا ہے کہ حکومت کی یہ مشترکہ کوششیں عوامی خوف کو نمایاں طور پر دور کریں گی، تحفظ اور اعتماد کے نئے احساس کو فروغ دیں گی، اور آخر کار وادی کشمیر میں سیاحت کے احیاءکی راہ ہموار کریں گی، جس سے بہت ضروری معاشی راحت ملے گی اور معمول پر واپسی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے ہی وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے جموں و کشمیر میں سیاحت کے احیاءپر بات کر چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ میں یہاں تفصیلات نہیں بتا سکتا، لیکن مرکز سیاحت کے احیاء کے لئےبڑے فیصلے لے کر آئے گا۔ میں نے وزیر داخلہ کے ساتھ سیاحوں کی حفاظت سے متعلق مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
