ہندوستان
سپریم کورٹ میں نو تعینات تین ججوں نے حلف اٹھا یا
نئی دہلی، سپریم کورٹ میں نئے تعینات تین ججوں نے جمعہ کو عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا چیف جسٹس بی آر گوائی نے سپریم کورٹ کمپلیکس کےایک آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں جسٹس این وی انجاریہ، جسٹس وجے بشنوئی اور جسٹس اے ایس چندورکر کو سپریم کورٹ کے ججوں کی حیثیت سے حلف دلایا ان کی حلف برداری کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے لئے مقررہ 34 ججوں کی تعداد مکمل ہوگئی ہے۔
حلف برداری کی تقریب میں عدالت عظمیٰ کے دیگر ججوں کے علاوہ کئی سینئر وکلاء اور معززین بھی موجود تھے۔
اس مہینے، سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس بیلا ایم ترویدی اور جسٹس اے ایس اوکا کے ریٹائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کے تین عہدےخالی ہوگئے تھے۔
جسٹس گوائی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے کالجیم نے 26 مئی 2025 کو مختلف ہائی کورٹس کے تین چیف جسٹس کو سپریم کورٹ میں جج کے عہدے پر ترقی دینے کی سفارش کی تھی۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی منظوری کے بعد، مرکزی حکومت نے جمعرات کو جسٹس انجاریہ، جسٹس بشنوئی اور جسٹس چندورکر کو سپریم کورٹ کے جج کے طورپر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جج کے طور پر حلف لینے سے پہلے جسٹس انجاریا کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جب کہ جسٹس بشنوئی گوہاٹی ہائی کورٹ اور جسٹس چندورکر بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر تھے۔
احمد آباد میں مانڈوی-کچھ میں 23 مارچ 1965 کو وکلاء کے خاندان میں پیدا ہونے والے جسٹس انجاریا نے احمدآباد کے ایچ ایل کالج آف کامرس سے گریجویشن اور 1988 میں سر ایل اے شاہ لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ 1989 میں یونیورسٹی اسکول آف لاء، احمد آباد سے انہوں نےقانون میں پوسٹ گریجویشن کیا۔ ان کے والد بھی عدلیہ میں تھے۔ انہوں نے اگست 1988 سے سینئر ایڈوکیٹ ایس این شیلت کے چیمبر میں شامل ہو کر گجرات ہائی کورٹ میں پریکٹس شروع کی۔ انہوں نے آئینی امور اور تمام زمروں کے سول معاملات، لیبر اور خدمت کے معاملات میں وکالت کی۔ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں، ریاستی الیکشن کمیشن، گجرات انفارمیشن کمیشن، گجرات انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، میونسپلٹی وغیرہ کے لیے اسٹینڈنگ/پینل ایڈوکیٹ کے طور پرانہوں نے خدمات انجام دیں۔
انہوں نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے لئے سینئر پینل وکیل، بی ایس این ایل، یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای)، نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (این سی ٹی ای) کے لئے کے سینئر اسٹینڈنگ وکیل کے طور پر کام کیا ہے۔ انہیں 21 نومبر 2011 کو گجرات ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر ترقی دی گئی اور 6 ستمبر 2013 کو مستقل جج کے طور پر ان کی تصدیق کی گئی۔
جسٹس انجاریا نے 25 فروری 2024 کو کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا۔
جسٹس بشنوئی 26 مارچ 1964 کو جودھ پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 8 جولائی 1989 کو ایک وکیل کے طور پر اپنا اندراج کروایا۔ انہوں نے راجستھان ہائی کورٹ اور جودھ پور میں سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل میں دیوانی، فوجداری، آئینی، سروس، انتخابی معاملات وغیرہ جیسے مختلف شعبوں میں پریکٹس کی۔ انہوں نے سال 2000-2004 کے دوران مرکزی حکومت کے اسٹینڈنگ کونسل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
جاری یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
