تجزیہ
تبلیغی جماعت کیس میں تاریخی عدالتی فیصلہ:آئینی اصولوں کی فتح یا الزامات کی شکست؟
شمس آغاز
ایڈیٹر ،دی کوریج
ہندوستان کی عدلیہ نے حال ہی میں ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جو قانونی تاریخ میں نہ صرف ایک نظیر کے طور پر یاد رکھا جائے گا بلکہ اس نے سماجی انصاف، آئینی اصولوں اور انسانی وقار کے تحفظ کی جو مثال قائم کی ہے، وہ آنے والے برسوں تک موضوعِ بحث رہے گی۔ دہلی ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ، جس میں تبلیغی جماعت کے ستر(70) ارکان کے خلاف درج سولہ(16) ایف آئی آر اور ان پر دائر چارج شیٹ کو مکمل طور پر خارج کر دیا گیا، صرف ایک مقدمے کی بندش نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول میں سامنے آیا ہے جہاں مذہبی اقلیتوں کو برسوں سے مشتبہ اور خطرناک بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ان پر بدنیتی پر مبنی الزامات لگائے گئے اور قانونی اداروں کا استعمال کرکے انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس فیصلے نے ان تمام رویّوں پر نہ صرف سوال اٹھائے بلکہ ان کے خلاف ایک عدالتی تادیب بھی فراہم کی ہے۔ مارچ 2020 میں، جب کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا، دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔ اس وقت ملک میں لاک ڈاؤن کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا تھا اور سفری پابندیاں بھی مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی تھیں۔ تاہم، اس مذہبی اجتماع کو بعض میڈیا اداروں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ایک سازش کے طور پر پیش کیا گیا۔
پورے ملک میں ایک طوفان برپا ہوا جس میں تبلیغی جماعت کو ’سپر اسپریڈر‘ کے طور پر بدنام کیا گیا۔ نیوز چینلز نے بغیر تحقیق ایسی خبریں نشر کیں جنہوں نے عوام کے ذہن میں یہ تاثر مضبوط کیا کہ یہ جماعت اور اس سے وابستہ افراد جان بوجھ کر وبا پھیلانے کے مجرم ہیں۔ اس دوران ;کورونا جہاد جیسے اشتعال انگیز اور نفرت انگیز اصطلاحات عام ہو گئیں جو صحافتی اصولوں کی پامالی کے ساتھ ساتھ آئینی مساوات کی روح کو بھی مجروح کرنے کے مترادف تھا۔اس اجتماع کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے خلاف درجنوں مقدمات درج کیے گئے۔ ان پر مجرمانہ سازش، حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی، ویزا قوانین کی خلاف ورزی، اور لاپرواہی سے انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔
ان میں سے کئی افراد غیر ملکی تھے، جنہیں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی ملک بدر کر دیا گیا جبکہ بعض کو طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا۔ ان مقدمات کے دوران متاثرہ افراد کون مالی، جذباتی اور سماجی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی خاندان تباہ ہو گئے، لوگوں کی روزی روٹی چھن گئی اور انہیں معاشرتی سطح پر حقارت و نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام واقعات نے یہ سوالات جنم دیے کہ ان کے ساتھ ہونے والا سلوک انصاف پر مبنی تھا یا مذہبی تعصب کا نتیجہ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عدالتوں نے ان مقدمات کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ سب سے پہلے ممبئی کی ایک عدالت نے تبلیغی جماعت سے وابستہ کئی غیر ملکی افراد کو بری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں دہلی کی عدالتوں نے بھی ان الزامات کو کمزور قرار دیا۔ لیکن سب. سے اہم فیصلہ دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس نینا بنسل کرشنا کا تھا، جنہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان ایف آئی آرز اور چارج شیٹ کا کوئی حقیقی قانونی جواز نہیں تھا، اور یہ تمام کارروائیاں تعصب، خوف، اور سیاسی دباؤ کے تحت کی گئی تھیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف ان افراد کی بے گناہی کا اعتراف ہے بلکہ اس نظام پر بھی سوال اٹھاتا ہے جو مذہب کی بنیاد پر قانون کا استعمال کرتا ہے۔
عدالت نے تسلیم کیا کہ تبلیغی جماعت کے خلاف کی گئی کارروائیاں دراصل انتظامی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش تھیں۔ جہاں کورونا جیسی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے تھے، وہاں بعض عناصر نے اس بحران کو ایک مخصوص طبقے کو بدنام کرنے کا ذریعہ بنا لیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ان مقدمات کا مقصد قانونی نفاذ نہیں بلکہ مذہبی اقلیت کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کورونا کے ابتدائی دنوں میں جب پورا ملک خوف اور غیر یقینی کا شکار تھا، میڈیا نے تحقیق اور تصدیق کی بجائے سنسنی خیزی اور جذباتی رپورٹنگ کو ترجیح دی۔ کئی میڈیا ہاؤسز نے صحافتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تبلیغی جماعت کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈہ کیا اور انہیں ’کورونا بم‘ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی ویڈیوز، جعلی خبریں اور اشتعال انگیز تبصرے فضا کو مزید زہریلا بنا نے کا باعث بنے۔ نتیجتاً، ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد پر تشدد ہوا، گرفتاریاں ہوئیں اور بعض جگہوں پر ان کے ساتھ دشمن ملک کے جاسوسوں جیسا سلوک کیا گیا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی اس رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذہب، نسل یا جماعت کو وبا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرانا نہ صرف غیر سائنسی ہے بلکہ وبا کے خلاف مؤثر جدوجہد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان مقدمات کو مذہبی پروفائلنگ کی ایک واضح مثال قرار دیا ہے، جو اقلیتوں کے خلاف تعصب اور امتیاز کو فروغ دیتا ہے۔ اس عدالتی فیصلے نے ان تمام افراد کے لیے ایک امید کی کرن روشن کی ہے جو برسوں سے انصاف کے متلاشی تھے۔ یہ فیصلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگرچہ عدالتی نظام رفتہ رفتہ کام کرتا ہے، مگر بالآخر وہ آئین کے اصولوں اور انسانی وقار کے تحفظ کا ضامن ہوتا ہے۔ اس سے عدلیہ کی خودمختاری اور غیر جانبداری پر بھی روشنی پڑتی ہےجو آج کے سیاسی ماحول میں نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے، جہاں اکثر ریاستی ادارے سیاسی دباؤ کے آگے جھکتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، اس فیصلے کے بعد کچھ سخت مگر ضروری سوالات بھی اٹھتے ہیں کہ و ہ ادارے جنہوں نے غلط مقدمات قائم کیے، پولیس اہلکار جنہوں نے بغیر مناسب تحقیق کے ایف آئی آر درج کیں، افسران جنہوں نے چارج شیٹس پر دستخط کیے، اور جن میڈیا ہاؤسز نے نفرت کو فروغ دیا، کیا ان کا کوئی احتساب ہوگا؟ کیا ایسے بدنیتی پر مبنی الزامات کے خلاف کوئی مؤثر نظام تشکیل دیا جائے گا؟ کیا ان بے گناہوں کو ریاست معاوضہ فراہم کرے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات صرف عدالتوں سے نہیں بلکہ حکومت اور سماج سے بھی متوقع ہیں۔ یہ فیصلہ ان سب کے لیے آئینہ ہے جو طاقت و اثر و رسوخ کے بل پر کمزوروں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ان کے لیے بھی سبق ہے جو قانون کا استعمال مخصوص برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ میڈیا، حکومت، اور دیگر اداروں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوششیں بالآخر بے نقاب ہو جاتی ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ پورا سماج ایک اجتماعی خود احتسابی کا عمل شروع کرے ۔
اس فیصلے کے بعد لازم ہو گیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز صحافتی اخلاقیات کی جانب لوٹیں، تحقیق پر مبنی رپورٹنگ کو ترجیح دیں، اور مذہبی و نسلی تعصب سے اجتناب کریں۔ حکومتوں کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی بھی بحران کے دوران اقلیتوں کو قربانی کا بکرا بنانا نہ صرف غیراخلاقی ہے بلکہ آئینی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ صرف عدالتی فیصلے کافی نہیں، جب تک معاشرہ مجموعی طور پر انصاف پسند اور غیرمتعصب نہ بنے، ایسے فیصلے وقتی راحت تو فراہم کر سکتے ہیں لیکن دیرپا حل نہیں دے سکتے۔
یہ مقدمہ اور اس کا اختتام ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مساوات، آزادی اور انصاف کا حق دیتا ہے، اور عدلیہ ان اصولوں کی محافظ ہے۔ اگرچہ انصاف کا راستہ طویل اور
دشوار ہو سکتا ہے، لیکن بالآخر سچائی ہی کو فتح حاصل ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف تبلیغی جماعت کے ان افراد کے لیے انصاف کی علامت ہے جو برسوں تک بے گناہ ہو کر بدنامی اور اذیت کا شکار رہے، بلکہ یہ ایک علامتی کامیابی بھی ہے اُن تمام اقلیتوں کے لیے جو اکثر ریاستی طاقت، میڈیا کی نفرت انگیز مہم اور سماجی تعصب کا نشانہ بنتی ہیں۔یہ عدالتی فیصلہ آنے والی نسلوں کے لیے محض ایک قانونی نظیر نہیں، بلکہ ایک بیدار کن پیغام ہے کہ آئینی حقوق کا تحفظ فقط ایک نظری تصور نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت ہے۔ یہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر انسان سچائی، عدل اور آئینی اصولوں کی شمع تھامے رکھے، تو وہ نہ صرف ظلم و جبر کے خلاف سینہ سپر ہو سکتا ہے بلکہ خود اختیار و اقتدار کے ایوانوں سے بھی سوال کرنے کا حوصلہ پا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ مزاحمت، جب اصول پر مبنی ہو، تو وہ تنہا آواز بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ صرف عدلیہ ہی نہیں، بلکہ پورا معاشرہ بالخصوص میڈیا، ریاستی ادارے اور عام شہری اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا ازسرِنو سنجیدہ جائزہ لیں۔ کیونکہ انصاف کی اصل روح صرف عدالتی فیصلوں میں نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور، گفتگو، طرزِ فکر اور سماجی برتاؤ میں بھی جھلکتی ہے۔ جب تک سچائی، رواداری اور عدل کو صرف قانون کی کتابوں میں نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی اپنایا نہیں جاتا، تب تک ایسے فیصلے محض عدالت کی فائلوں یا تاریخ کی کتابوں تک محدود رہیں گے ، زندہ جمہوریت کے ستون نہیں بن سکیں گے۔
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
